تازہ ترین

سرحدی کشیدگی …آرپار عوام توپ کی رسد کیوں ؟

تاریخ    15 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


منقسم جموںوکشمیر میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر عملی طورجنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں ماہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم10کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔
ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدوں پر گولہ باری جاری ہے ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کیلئے سب سے بدترین سال قرار دیا جارہا ہے اورجنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں3گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس میں مجموعی طور 6گنا اضافہ ہوا ہے ۔
اعداد وشمار خود بتارہے ہیں کہ سرحدوں کی صورتحال قطعی صحیح نہیں ہے اور یہ ایک طرح کی جنگ ہے جو دونوں جانب سے جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو اس کیلئے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ایک زمانہ ایسا تھا جب سرحدوں پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کاایک بھی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔26نومبر2003کو جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تو اس کے بعدمسلسل تین برسوں تک سرحدوں پر بندوقیں خاموش رہیں اور2004،2005اور2006میں ایک بھی خلاف ورزی کا واقعہ پیش نہ آیا ۔یہ وہ دور تھا جب واجپائی اور مشرف کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی انتہا پر تھااور یہی وہ دور ہے جب بھارت حد متارکہ پر تار بندی کرنے میں کامیاب بھی ہوا ۔تاہم2006سے حالات بدلنا شروع ہوگئے اور سرحدوں کا سکون برقرار نہ رہ سکا۔2006میں تین دفعہ جبکہ2007میں21اور2008میں77دفعہ اس معاہدہ کی دھجیاں بکھیری گئیں تاہم بعد ازاں اس میں پھر قدرے کمی ہوئی او2009میں یہ تعداد28تک پہنچ گئی لیکن پھر گراف میں تواتر کے ساتھ اضافہ ہونے لگا۔ 2010میں 44 جبکہ 2011 میں 62 ، 2012 میں114اور2013میں347دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
ہندوپاک تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا ،سرحدی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوتا گیا  یہاں تک کہ 2014میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد583اور2015میں405تک پہنچ گئی۔2014کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔2016میں سرحدی گولہ باری کے 500سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ2017میںیہ تعداد971تک پہنچ گئی جبکہ 2018میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد3ہزار تک پہنچ گئی۔2019میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مرکزی وزارت دفاع و داخلہ کے مطابق سال رفتہ میںجنگ بندی خلاف ورزیو ں کے3200سے زائد واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔جہاںتک رواںسال2020کا تعلق ہے تو جون مہینے کے اختتام تک 2500کے قریب ایسی خلاف ورزیوں کے واقعات ریکارڈ ہوچکے تھے جبکہ جولائی اور اگست مہینوں میں بھی یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے اور اب تو کسی ایک مخصوص سیکٹر میں ہی سرحدی گولہ باری نہیں ہوتی بلکہ کشمیر سے جموں صوبہ تک بین الاقوامی سرحد اور حد متارکہ پر بیک وقت کئی محا ذ کھول دئے جاتے ہیں جہاں دونوں طرف کی افواج زمین دوزبنکروں میں گولے داغ کر شہری آبادی کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔
یہ اعدادوشمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سرحدوں پر دہشت کی حکمرانی ہے اور ستم ظریفی کا  یہ عالم  ہے کہ ہندوپاک کی اس کشیدگی کا خمیازہ آر پارجموںوکشمیرکی عوام کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے اور ایل او سی کے دونوں جانب عام لوگ اس ہند وپاک کشیدگی میں توپوں کی نذر ہورہے ہیں اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ کشمیری عوام ہی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ امن کی وکالت کررہے ہیںلیکن اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سرحدی سکوت ہندوپاک تعلقات میں گرمجوشی سے مشروط ہے ۔اس لئے کم ازکم جموں وکشمیرکی عوام پر ترس کھا کر ہندوپاک کی قیادت کو چاہئے کہ وہ امن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ کشمیری عوام کو راحت کے چند پل میسر آسکیں اور اگر امن لوٹ آتا ہے تو مسائل کے حل کی راہ بھی خود بخود نکل آئے گی۔