مغل شاہراہ پر چیکنگ کے نام پر ذہنی اذیت | پوشانہ کے مقام پر گھنٹوں ٹریفک جام سے مسافروں کو مشکلات

تاریخ    13 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


عشرت حسین بٹ
پونچھ//تاریخی مغل شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگوں کو انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کے نام پر پھر سے ہراساں کیا جانے لگاہے اور پوشانہ کے مقام پر چیکنگ کے نام پر مسافروں کو ایک ہی جگہ گھنٹوں روکے رکھاجارہاہے ۔شاہراہ پر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مالبردار اور مسافر گاڑیاں سفر کرتی ہیں ۔پونچھ یا راجوری سے محض چار گھنٹے کا  یہ سفر چیکنگ اور سخت ترین ٹریفک جام کی وجہ سے 10 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ پوشانہ کے مقام پر ہر روز 200 سے زیاد مالبردار جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مسافر گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور وہاں پر تعینات فوجی اہلکار ایک گاڑی کی چیکنگ میں 20 منٹ سے زائد کا وقت لیتے ہیں جس کی وجہ سے اس شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگوں کو کافی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مسافروں کے مطابق اگر چہ ہر گاڑی کی چیکنگ ضروری ہے مگر معائنہ کرتے وقت انہیں ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ضلع اننت ناگ کی فوزیہ جبین نامی ایک خاتون نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ انہیں اپنے علاج کیلئے چندی گڑ ھ جانا ہے جس کے لئے انہوں نے اسی شاہراہ سے جموں کے لئے سفر کا فیصلہ لیا ، جموں سرینگر قومی شاہراہ سے انہیں جموں پہنچنے میں کافی وقت لگتا جس کی وجہ سے انہوں نے مغل روڈ سے سفر اختیار کیا ،مگر یہ سفر زیادہ ہی تکلیف دہ بن گیاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں پوشانہ کے مقام پر تین گھنٹے تک جام کھولنے اور گاڑی کی چیکنگ کروانے کا انتظار کرنا پڑا ۔ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ پر سینکڑوں کی تعداد مسافر اور مالبردار گاڑیاں گھنٹوں کھڑی رہتی ہیں جس کی وجہ سے عام مسافروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔درماندہ ایک ٹرک ڈرائیور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ گزشتہ دو دن سے ٹریفک جام اور چیکنگ کی وجہ سے درماندہ پڑاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیبوں سے بھرا ہوا ٹرک جموں کی طرف لے جا رہے ہیں اور گزشتہ دو دنوں سے جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں مالبردار گاڑیاں دو دو روز سے درماندہ ہیں اور نکلنے کے لئے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگوں نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ شاہراہ پرچیکنگ اوقات کو کم کیا جائے تاکہ مسافر اور مالبردار گاڑیوں کو آنے جانے میں کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔
 

تازہ ترین