فہوروگن سمیت آدھ درجن علاقوں کا پل 4 سال سے تشنہ تکمیل | عوام کو عبورو مرور میں مشکلات ، جلد تعمیر کی کوشش ہوگی: اے سی ڈی

تاریخ    12 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


محمد تسکین
بانہال// بانہال کے نزدیک شفا پانی کے مقام نالہ بشلڑی پر قائم لکڑی کا ایک پُل کئی سال پہلے گر گیا تھا لیکن اب تک اس کی تعمیر نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے بھاری آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فہوروگن کی ابادی کو جوڑنے والا یہ پل قریب چار سال پہلے ٹوٹ کر گر گیا تھا اور ابتک پل کی تعمیر کیلئے عوام کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشن کے نزدیک اور قصبہ بانہال کی حدود میں فہوروگن کا پل فہوروگن، کسکوٹ، چاچا ہال، زنہال، عشر اور لامبر کے علاقوں کے علاوہ مہو منگت کے لوگوں کیلئے رسل و رسائل کا اہم ذریعہ ہوا کرتا تھا اور لکڑی کے اس پل کے گر جانے کے بعد یہ علاقے قصبہ بانہال اور قومی شاہراہ سے منقطع ہوگئے ہیں اور قصبہ کا رخ کرنے کیلئے دیگر دوری والے راستوں کو اختیار کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے فہوروگن کی نزدیکی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کو عبور مرور کیلئے یہاں سے دور ریلوے سٹیشن اور سیڈ ہاؤس پل کا استعمال کرکے قصبہ بانہال اورشاہراہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہوروگن کی آبادی نے پل نہ ہونے کی وجہ سے مال مویشیوں کو پالنا ہی ترک کردیا ہے کیونکہ فہوروگن کی بستی کے مویشیوں کیلئے گھاس چرائی پل کے پار قومی شاہراہ کے اوپر ہے اور پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سخت مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پل پار شاہراہ کے برلب مشہور چشمہ شفا پانی سے پینے کے پانی کا حصول بھی اسی پل سے ممکن تھا جو پل نہ ہونے کی وجہ سے اب ناممکن عمل بن گیا ہے اور بار بار کی التجا کے باوجود بھی لوگوں کی فریاد ان سنی ہورہی ہے۔ یہ تمام معاملہ جب اسسٹنٹ کمشنر ترقی رام بن ضمیر احمد ریشو کی نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اس پل کی تعمیر کیلئے ہر ممکن کوشش کرینگے اور اس بارے میں ڈپٹی کمشنر رام بن سے untitledرقومات واگذار کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ 
 

تازہ ترین