کانگریس پھر گروہ بندی کا شکار ،رجنی پاٹل سے الگ الگ وفود ملاقی | پی سی سی کی مکمل تنظیم نو کا مطالبہ

تاریخ    12 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں// ناراض سینئر کانگریسی رہنماؤں کے ایک گروپ نے اتوار کے روز پارٹی کی جموں وکشمیر کی نئی انچارج رجنی پاٹل سے ملاقات کی اور یونین ٹیریٹری میں موجودہ قیادت کے موثر طور پر ابھرنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کی مکمل تنظیم نو کا مطالبہ کیا۔پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق وزیر نے بتایا’’لوگ کانگریس پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور وہ ہمیں اپنے معاملات اٹھانے کے لئے قبول کرتے ہیں، تاہم، ہم جموں وکشمیر میں بی جے پی کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے میں حزب اختلاف کی حیثیت سے ناکام رہے ہیں یہاں تک کہ جموں میں ان کے خلاف غصہ ہے، لہٰذا ہم نے پوری پردیش کانگریس کمیٹی کی تنظیم نوکا مطالبہ کیا ہے‘‘۔انہوں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’پارٹی میں کوئی گروہ بندی نہیں ہے، ہم کانگریس پارٹی کے سچے سپاہی ہیں، تاہم، ہم چاہتے تھے کہ اے آئی سی سی حکومت کے خلاف لوگوں میں برہمی کے باوجود اپوزیشن کی حیثیت سے پارٹی کو مضبوط بنانے میں پارٹی قیادت کی ناکامی کے بارے میں سیکھے، ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے تھا لیکن ہم زمین پر ناکام ہوگئے ہیں‘‘۔ان کاکہناتھاکہ بلاک صدر سے لے کر اعلیٰ سطح تک پارٹی کو نئے چہروں کی ضرورت ہے، پہلے ہی 38 رہنماؤں نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور پارٹی کو اندرون قائدین جن مسائل کا سامنا ہے ،ان پر سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس ایک مسئلہ تھا لیکن ہم نے سڑکوں پر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔رجنی پاٹل سے سے علیحدہ علیحدہ سے ملاقات کرنے والے 13 ممبروں کے گروپ میں شریک سینئر کانگریس رہنمانے بتایا ’’ہم نے واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ صدر کانگریس پارٹی جموں خطے سے ہونا چاہئے، پارٹی چاہتی ہے کہ ہم بی جے پی کے ساتھ لڑیں لیکن جموں کی قیادت کو ایک اہم مقام دینا چاہئے، شام لال شرما کے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سینئر نائب صدر کا عہدہ خالی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں سے کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کی پہلی لائن کو اہم عہدے دیئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ قیادت کی دوسری لائن بھی تیار کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا’’ہم نے کانگریس پارٹی میں ورکنگ صدر اور صوبائی صدر کے عہدے کا بھی حوالہ دیا جو جماعت کے جموں میں مقیم رہنماؤں کو دیا جانا چاہئے‘‘۔جموں میں رجنی پاٹل سے 10 سے زائد وفودنے ملاقات کی۔ سوالوں کے جواب میں رجنی پاٹل نے میڈیا کو بتایا’’کانگریس پارٹی میں گروپ بندی نہیں ہے، ان (کانگریس قائدین کے ایک گروہ) کے کچھ خاص معاملات تھے اور میں نے انہیں اچھی طرح سے سنا‘‘۔انہوں نے کہا ’’انہیں کچھ خدشات تھے، میں ان کے مسائل سننے کے لئے ان سے الگ سے ملاقات کی‘‘۔

تازہ ترین