تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


جاوید شبیر

خصوصی پوزیشن

’’تمہاری درخواست تو نامنظور ہوجائیگی کیونکہ تم نے درخواست میں یہ نہیں لکھا ہے کہ تم جموں و کشمیر ریاست کے مستقل باشندے ہو اور نا ہی تم نے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ نتھی کی ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ یہاں صرف ریاست کا مستقبل باشندہ ہی کسی بھی نوکری کے لئے درخواست دے سکتا ہے‘‘۔ ڈائریکٹر کے پی اے نے درخواست لوٹاتے ہوئے حارث کو سمجھایا۔ 
’’مگر میں تو یہاں کا پُشتینی باشندہ ہوں۔ میری میٹرک کی سرٹیفکیٹ میں میری ولدیت اور پتہ صاف درج ہیں۔‘‘ حارث نے جواب دیا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر لکھنا اور سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ خیر ابھی درخواست کیلئے آخری تاریخ میں سات دن باقی ہیں اس لئے تم یہ درخواست واپس لے جائو اور مطلوبہ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی جوڑ کے واپس درخواست جمع کردو۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ کل سات پوسٹس ہیں اور تعلیمی قابلیت اور دوسری اسناد کے حوالے سے تم ضرور کوالیفائی کرلو گے۔‘‘ پی اے نے حارث کو پورا اطمینان دلایا۔
حارث نے کشمیر یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے اور ایم فل کے امتحانات امتیازی پوزیشن سے پاس کئے تھے۔ اس لئے اس نے جونہی اخبار میں پڑھا کہ حکومت نے نائب تحصیلداوں کی پوسٹ کیلئے درخواستیں طلب کی ہیں تو اُس نے بھی درخواست جمع کروادی مگر مستقل سکونت کی سرٹیفکیٹ جمع کروانا بھول گیا تھا جس کی نشاندہی اب ڈائریکٹر نے کی تھی۔ 
گھر آکے حارث نے اپنے والد کی سرٹیفکیٹ کی کاپی کا حوالہ دیکے چار دن میں اپنی مستقل سکونت کی سرٹیفکیٹ بنوا لی اور اس کی فوٹو کاپی اپنی درخواست کے ساتھ جوڑ دی۔
ایک ہفتے بعد وہ درخواست لیکر ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ کے دفتر پہنچا اور اُس نے پی اے کے سامنے درخواست جمع کردی۔
’’اے بیٹا اب اس کی ضرورت نہیں۔ قانون بدل گئے ہیں۔ اب ان پوسٹس کیلئے نئے سرے سے درخواستیں طلب کی جائینگی کیونکہ اب دفعہ 370ختم ہوگیا ہے اور یہاں کی خصوصی پوزیشن ختم ہوگئی ہے۔ اب ان نوکریوں کے لئے پورے ملک سے درخواستیں طلب کی جائینگی۔ بیٹا اس نوکری کا ملنا بہت مشکل ہوجائیگا۔‘‘ پی اے نے حارث کو آگاہ کیا۔ 
حارث نے درخواست واپس لے لی اور سر جھکا کے گھر کی طرف چل دیا۔
 
 
 

’آئے بھی وہ گئے بھی وہ‘

ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی سے موبائل ریچارجنگ دوکان پہ ملاقات ہوئی۔ انجان خوبصورتی دیکھ کے دل دھک سے رہ گیا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں ہم ایک دوسرے کی جانب کھنچ گئے۔ حالات کے پیش نظر ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع نہ تھا اس لئے ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بھی دریافت نہ کر پائے۔
اشاروں اور کنایوں میں عہدو پیماں باندھ لئے اور ملنے کا شوق بیان کیا لیکن زبان خاموش رہی۔ میں نے کاغذ کی پرچی پہ اپنا موبائل نمبر اور نام لکھ کے اُس کی طرف اچھال دیا۔ اُس نے بھی ہمت کرکے ایسا ہی کیا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبر اور نام اپنے اپنے موبائل فونز میں محفوظ کرلئے۔
گھر پہنچتے ہی میں نے نمبر لگایا۔ یہ کیا؟ موبائل فون نہیںچل رہا۔ کیا ہوا؟ پتہ چلا حکومت نے لینڈ لائنز، موبائل فون اور انٹرنیٹ بند کردیئے۔ اب کیا کیا جائے؟ گھر کا پتہ بھی تو نہیں معلوم کیا تھا،پچھلے دو مہینوں میں اُس انجان حسینہ کے بارے میں پتہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ کئی بار اُس ریچارجنگ دوکان کے بھی چکر لگائے مگر کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ آخر تھک ہار کے میں موبائل فونز کے پھر سے بحال ہونے کا انتظار کرنے بیٹھ گیا۔
آج کوئی تین مہینے بعد موبائل فون بحال کردیئے گئے اور میں نے اولین فرصت میں اُس حسین لڑکی عروج کا نمبر ملایا۔ گھنٹی بجتی رہی لیکن کسی نے فون نہیں اُٹھایا۔ دو تین کوششوں کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔ آخر دو دن بعد نمبر لگ گیا اور دوسری جانب کسی مرد کی آواز آئی۔
’’کون؟‘‘ مرد نے پوچھا۔
’’میں حمزہ ہوں۔ یہ نمبر تو شائد عروج کا تھا؟‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے جوابدیا۔
’’ہاں یہ میری بیٹی کا موبائل نمبر تھا پر اب نہیں ہے۔‘‘
’’وہ کہاں ہے؟ مہربانی کرکے اُسے بلایئے۔ یہ نمبر مجھے اُسی نے دیا تھا۔‘‘
’’اُس کی شادی ہوچکی ہے اور وہ اب ملک سے باہر ہے۔ آپ کون ہو؟ کیا کام کرتے ہو؟ اور عروج کو کیسے جانتے ہو؟‘‘ اُس کے باپ نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
میں نے جواب میں جھٹ سے فون کاٹ دیا۔
 
 
 

چُوہا بلی

بلی نے جھٹ سے جھپٹا مارا اور چُوہے کو دبوچ لیا۔ چوہا گِڑ گڑایا۔ ’’اے بلی آج مجھے چھوڑ دے۔ میرے بچے بھوکے ہیں۔ میں اُن ہی کے لئے کچھ خوراک لینے نکلا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں مگر تمہیں مجھ سے دوستی کرنا ہوگی۔ تم مزیدار اور چٹخارے والی چیزیں کھاتے ہو اور ایسی جگہوں پہ بھی پہنچ جاتے ہو جہاں میں نہیں پہنچ پاتی۔ آج سے تم جو بھی لائوگے مجھے بھی حصہ دیا کرو گے۔ میںوعدہ کرتی ہوں کہ میں بھی اپنی لائی ہوئی چیزمیں تہیں حصہ دیا کروں گی۔‘‘ بلی نے چوہے کے سامنے پیار سے یہ تجویز رکھی۔
چوہے کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا مگر پھر بھی وہ بلی سےدوستی کرنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ اپنی جان کی سلامتی کیلئے بلی کی یہ شرط ماننا ضروری تھا۔
اب چوہا اور بلی دوست تھے۔ چُوہا روز کوئی نہ کوئی چیز لاتا اور بلی کے آگے رکھ دیتا جو چٹخارے لے لے کے کھاتی۔
کچھ دن بعد جب چوہا بلی کے لئے کوئی خاص چیز نہ لا پایا تو بلی نے فوراً اُسے دبوچ لیا۔
’’یہ کیا کررہی ہو؟ میں تمہارا دوست ہوں۔ مجھے چھوڑ دو۔‘‘ بلی کے پنچوں میں پھنسا ہوہا چوہا گِڑگڑیا۔
’’ارے پاگل، بلی کبھی چوہے کی دوست بن سکتی ہے؟ تم تو میری خوراک ہو۔ بھلا میں تمہیں کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔ اُس دن میرا پیٹ بھرا ہوا تھا، اس لئے میں نے دوستی کا ناٹک رچایا تھا۔‘‘ بلی نے آخر اپنی خصلت ظاہر کر ہی دی۔
 
 
راولپورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛9419011881