تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق

شہرت

وزیر نے وہسکی کا  چوتھا پیگ چڑھایا اور بائیں ہاتھ کی پشت سے منہ صاف کرکے اطراف میں کھڑے اپنے چاہنے والوں سے کہا۔کوئی ساغر دل کو بہلا تا نہیں۔۔۔میں تو اب ایک فراموش شدہ آدمی ہوں۔۔۔ جب سے کرونا وائرس نے اس ملک میں اپنا کام شروع کیا ہے، تب سے سب لوگ اسی کے نام کی مالا جپتے ہیں، کوئی ہمارا نام بھی نہیں لیتا ہے۔میڈیا بھی ہم کو یوں بھول گیا ہے جیسے ہمارا وجود ہی نہ ہو۔ اگراسی طرح گمنامی کے غار میں پڑا رہا تو میرا کیا ہوگا۔۔؟ اس نے‌سوالیہ نگاہوں سے سب کی طرف دیکھا۔
اس کے سب سے بڑے ‌چمچے نے ‌اس کے گھٹنوں میں جھک کر کہا۔۔۔ سر آپ گھبرا یئے مت سب ٹھیک ہوگا۔
سر بھی پازیٹو۔ بھی پازیٹو 
پازیٹیو۔ پ ا ز ی ٹ۔ یو
اچانک وزیر اچھل پڑا۔۔۔پازیٹیو ! ہاں! پازیٹو۔۔
تین دن بعد اسے اطلاع ملی کہ پورے ملک میں ہر ایک کی زبان پر اسی کا نام ہے اورمیڈیا میں اسی کا ذکر ہو رہا ہے۔ وہ خودکووڑ اسپتال کے سپیشل کمرے میں بیڈپر بیٹھا ہے۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ کے پھول بکھرے ہوے ہیں۔
 
 
 

قربانی

جب سے  سید محمد عابد سلیمانی پاش کالونی میں رہنے لگا تھا  تب سے اس نے اپنے  ڈاؤن ٹاون  کے رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ اس کی بیوی بھی اپنے  سابقہ رشتہ داروں کو  بھول گئی تھی۔ نئی کالونی میں آکر محمد عابد نے اپنے نام کے ساتھ سید اور شاہ بھی چپکا دیا تھا۔ اس کے دو بھائی اب بھی ڈاون ٹاون میں رہتے تھے ۔اُن میں سے ایک بھائی  ایک  گرینیڈ  دھماکہ میں زخمی ہوکر  دونوں ٹانگوں سے محروم ہوچکاتھا  اور اس کی بیوی  گھر  گھر جاکر  صفائی ستھرائی کا کام کر کے شوہر اور بچوں کا  پیٹ  پالتی تھی  مگر  اب کرونا وایرس کی  وجہ سے  اس کی کمائی نفی  کے برابر تھی۔
عید آئی تو حسب معمول سید محمد عابد سلیمانی  نے بیوی  سے قربانی کا ذکر کیا تو ہمسایوں اور احباب و اقارب کی فہرست تیار کی گئی۔ کس کس کو بھیڑ کی پوری  ران بھیجنی ہے اور کس کس کو گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے بھیجنے ہیں ۔
کئی بھیڑ قربان کئے گئے اور سبھوں پر اپنی دھاک بٹھائی گئی۔میاں بیوی خوش تھے  اور اپنے بیٹے اور بیٹی کے سا تھ  نئے ملبوسات میں ملبوس دسترخوان پر انواع و اقسام کی ضیافتوں سے لطف اندوز ہو رہے  تھے ۔۔اچانک  فون کی  گھنٹی بجی ۔۔۔۔ سید محمد عابد سلیمانی نے  فون کان سے لگایا  اس کا دونوں ٹانگوں سے محروم بھائی کہہ رہا تھا ۔۔۔عید مبارک بھائی جان ۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ جواب  دیتا بیک گراونڈ سےایک معصوم لڑکی کی بھرائی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔
ماں آج عید ہے۔ دیکھو میرے کپڑے  پھٹے ہوئے ہیں اور ہاں میں اِس اُبلے ہوئے ساگ کے ساتھ  چاول نہیں  کھاؤں گی ۔۔۔یہ سن کر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اچانک زلزلہ آیا اور اس کی جھوٹی شان و شوکت کا شیش محل چکنا چور ہوا ۔۔۔
 
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
موبائل نمبر; 9 419004094
 
 
 

تازہ ترین