تازہ ترین

پہچان

کہانی

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


نورؔشاہ
اُجلے اُجلے پہاڑوں کے دامن میں آباد گوجر بستی یوں تو سبزہ زاروں میں ہنستی مسکراتی تھی لیکن چھوٹے چھوٹے کچے پکے مکانوں کے درمیان چودھری منور علی کا حویلی نما مکان ایک قلعہ کی مانند لگتا تھا۔ چودھری صاحب کو انتقال کئے اب کافی عرصہ گذر چکا تھا لیکن نہ صرف یہ حویلی بلکہ پوری بستی اُن کے نام اور کام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ بہت بڑا گھرانہ اس حویلی نما مکان میں آباد تھا۔ اَن گنت افراد خانہ اس کی زیبائش بڑھتاتے تھے۔ اِس گھرانے کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ افراد خانہ کے چہرے الگ الگ ہونے کے باوجود ایک سے لگتے تھے۔ باتیں کرنے کے انداز مختلف ہونے کے باوجود یکساں لگتے تھے۔ آوازیں الگ الگ نہیں ایک سی محسوس ہوتی تھیں۔ جو معاشرہ چودھری منور علی کے حویلی نما مکان میں نظر آتا تھا۔ وہ بستی میں کہیں اور دکھائی نہیں دے رہا تھا، اپنے پن کا یہ احساس چودھری صاحب کی زندگی میں موجود تھا اور اُن کے انتقال کے بعد بھی یہ احساس قائم و دائم تھا۔۔۔!
بستی میں چودھری صاحب کی پہچان صرف اُن کے حویلی نما مکان کی وجہ سے ہی نہیں تھی بلکہ اُن کی سنجیدگی، شرافت اور نفاست سے بھی تھی بلکہ جس اراضی پر پوری بستی آباد تھی، اس سے زیادہ اراضی مرحوم کی ملکیت میں شامل تھی۔ چودھری صاحب گائے، بھینسوں اور بھیڑ بکریوں کی خرید و فروخت کی تجارت سے منسلک تھے اور اُن کے زمانے میں اُن کی اچھی خاصی تعداد چودھری صاحب کے مویشی خانہ میں نظر آتی تھی۔ اُن کی حفاظت اور اندر باہر آنے جانے کے لئے گائو خانے پر ایک بڑا سال دروازہ بنوایا گیا تھا جس پر ہمیشہ ایک قفل لٹکا نظر آتا تھا اور حسب ضرورت اِسے کھولا اور بند کیا جاتا تھا لیکن وقت کی رفتار کے ساتھ اور چودھری صاحب کی وفات کے بعد یہ گھرانہ آہستہ آہستہ بے صدا ہوکر سمٹنے لگا۔ گھر کا ہر فرد سب کچھ جانتے ہوئے بھی جیسے کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ تجارت اب اُن کے لئے کسی اہمیت کا حامل نہ تھا اور وہ اس خاندانی تجارت سے دور ہوتے گئے۔ بے زبانوں کی دیکھ بھال میں اُن کی دلچسپی کم ہونے لگی۔ مویشی خانہ کی دیکھ بھال کرنے والے نوکروں کو ایک ایک کرکے گھر سے بے گھر کردیا گیا۔ اب اُن کے ہاں کوئی بھینس تھی اور نہ ہی کوئی گائے، یہاں تک کہ بھیڑ یا بکری بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ مویشی خانہ اب بھی اپنی جگہ کھڑا تھا لیکن دور سے لگتا تھا جیسے کوئی سوکھا اور بوڑھا چنار وقت کی رفتار کو اپنے اندر جذب کرتے کرتے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ بوڑھے چنار کی پیاس بجھانے کے لئے دودھ کی ایک بوند بھی موجود نہ تھی۔ دودھ کی ندی سوکھ چکی تھی۔!!
اگرچہ حویلی نما مکان کے مکین بہت عرصہ تک زندگی کی مختلف راہوں کو اپناتے ہوئے بھی شام کو اکھٹے ہوجاتے اور ایک ساتھ دن بھر کی کھٹی میٹھی یاداشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے تاکہ زندگی کا سفر لفظ لفظ دوبالا ہوجائے لیکن جب رفتہ رفتہ پرانے چہرے وقت کی نذر ہوجاتے ہیں اور نئے چہرے وجود میں آتے ہیں تو نئے تقاضے جنم لیتے ہیں، نئی ضرورتیں سامنے آکھڑی ہوجاتی ہیں، نئی باتوں کو آواز مل جاتی ہے، نئی نئی کہانیاں سوچوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ خیالات ہی تبدیلی آجانے سے ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی اور اس وجہ سے رشتوں ہی دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ سوچوں کے ساتھ قدریں بھی بدل جاتی ہیں۔ جینے مرنے اور رہن سہن کی عادات بدل جاتی ہیں۔ کل کے بڑے آج کے چھوٹے بن جاتے ہیں اور چھوٹے اپنے انداز سے زندگی گزارنے کے سپنے سجاتے ہیں!
وقت کروٹیں بدلتا رہا اور پھر دیکھتے دیکھتے حویلی نما مکان کھنڈرات میں بدل دیا گیا اور پھر مسمار کردیا گیا۔ چودھری منور علی کے خواب مسمار ہوگئے، ٹوٹ گئے، کئی خانوں میں بکھر گئے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو شائد رو پڑتے! مرحوم کی ملکیت تقسیم ہونے سے بستی کا بڑا گھرانہ کئی چھوٹے چھوٹے گھروں میں بٹ گیا۔ ایک حویلی نما مکان کی بجائے کئی کچے پکے مکان نظر آنے لگے اور مدتوں پرانی پہچان کھنڈرات میں گم ہوگئی۔ محبت کی مٹھاس میں کڑواہٹ آگئی۔ اپنے وقت کا بڑا سا پھاٹک نما دروازہ بھی گرا دیا گیا اور اُس کی جگہ کئی نئے لیکن چھوٹے چھوٹے دروازے بنائے گئے جن پر الگ الگ سے قفل چڑھائے گئے، ہر گھر نے اپنی اپنی کنجی سنبھال لی اور اس طرح زندگی کی اونچائیاں اُڑتے اُڑتے کچے پکے مکانوں کی پستیوں میں اُتر آئیں۔۔۔!!
اُجلے اُجلے پہاڑوں کے دامن میں گوجر بستی آج بھی سبزہ زاروں میں ہنستی مسکراتی نظر آتی ہے لیکن نہ تو اس بستی میں کوئی حویلی نما مکان ہے اور نہ ہی اس بستی کو پہچان عطا کرنے والا کوئی چودھری منور علی۔۔۔۔ سب اپنے چھوٹے چھوٹے کچے پکے مکانوں میں بند ہوچکے ہیں۔ 
 
رابطہ؛لل دید کالونی، رالپورہ سرینگر
موبائل نمبر؛8899637012
 

تازہ ترین