تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    9 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

کوروناوائرس۔   اسلام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم دیتا ہے 

سوال  :آج کل وائرس کے پھیلائو کی بنا پر یقیناً پوری دنیا میں جو پریشانی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں،اس بارے میں اسلام ہم کو کیا کہتا ہے ،دین اسلام مکمل دین ہے ،اس میں ہر مسئلہ کا حل اور حکم موجود ہے۔براہِ کرم تفصیل سے اس بارے میں شرعی ہدایات اور احکامات بیان کیجئے۔
محمد خلیل لو ن۔گریز ،حال بانڈی پورہ کشمیر
جواب  : مسلمان جن بنیادی عقائد کو تسلیم کرتا ہے اُن میں عقیدۂ توحید اور عقیدۂ تقدیر بھی اہم اور انسان کی پوری زندگی پر گہرے اور محیط اثرات ڈالنے والے عقیدے ہیں۔ہر صاحب ِ ایمان مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ موت و زندگی عطا کرنے والا اللہ ہے ۔اُس کے فیصلے اور مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا ہے۔دنیا میں جہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیت اور امر سے ہوتا ہے۔کائنات میں ہر ہر چیز کی نقل و حرکت اللہ کے علم میں بھی ہے اور اُس کے حکم کے تابع بھی ہے۔جیسے موت و زندگی کا سارا نظام اللہ کے قبضہ و اختیار میں ہے ،اسی طرح بیماری و صحت بھی اور مرض و شفا بھی اُس کی مرضی اور اُس کے حکم کے تابع فرمان ہے۔قرآن میں جگہ جگہ اللہ نے اپنی قدرت ،طاقت ،حکمت ،رحمت اور کائنات کے چلانے میں اپنی تدبیر کے محکم و مستحکم ہونے کو بیان کیا ہے۔اس عقیدۂ توحید کا ثمر یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان اللہ کے ہر ہر فیصلے کو ہر وقت قبول کرنے کو بھی تیار رہتا ہے۔اور ہر ہر فیصلہ کو اللہ کی مشیت سمجھ کر اُس کے آگے سر جھکا دیتا ہے ۔نہ دل میں اُس کے متعلق شکوے کے جذبات اُبھرنے دیتا ہے اور نہ زبان پر حرفِ شکایت لاتا ہے۔
عقیدۂ تقدیر کی بنا پر ہر صاحب ایمان کو یقین ہوتا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ میرے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔جس وقت میری موت کا وقت لکھا ہوگا اُسی وقت مجھے موت آئے گی،چاہے بظاہر جسم ہر طرح کے امراض سے محفوظ ہو،اور جب تک موت کا وقت نہ آئے اُس وقت تک میں ہرگز موت کا سامنا نہیں کروں گا ،چاہے کتنی ہی بیماریاں اور موت کے ظاہری اسباب کتنے ہی جمع کیوں نہ ہوجائیں۔قرآن کریم میں صاف و صریح طور پر موجود ہے کہ جب انسانوں کی موت کا وقت آجائے تو ایک لمحہ آگے ہوگا نہ ایک لمحہ پیچھے۔اس لئے ہر مومن کو جب یہ یقین ہوتا ہے کہ موت اپنے وقت پر ہی آئے گی تو وہ ہر مصیبت ،پریشانی اور بیماری کے متعلق یہ سوچتا ہے کہ اگر اس میں ہی میری موت لکھی ہوگی تو وہ یقیناً آئے گی اور اُس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں۔اور اگر اس میں موت نہ آنا طے ہے  تو پھر وہ آہی نہیں سکتی۔اس سوچ کے بعد وہ نہ پریشان ہوتا ہے نہ اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے۔غرض کہ عقیدہ توحید اور عقیدہ آخرت کے ساتھ عقیدہ تقدیر ایک مسلمان کے یقین ،اطمینان اور دل و دماغ کے لئے کامل وجۂ تسکین ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان کو ہر ہر معاملے میں جو ضروری تدابیر ہیں اُن کو اختیار کرنا چاہئے اور اسی میں یہ بھی ہے کہ اگر بیمار ہوجائے تو علاج و معالجے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنی چاہئے چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے اللہ کے بندو ! علاج و معالجہ کراتے رہنا ۔اس لئے کہ اللہ نے ہر بیماری کے لئے کوئی نہ کوئی دوا پیدا کی ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امراض میں علاج بھی کرائے اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار فرمائی۔اس لئے جو تدابیر بطور احتیاط اختیار کرنے کی تجویز طب و علاج کے ماہرین بیان کریں اُن کو ضرور اختیار کیا جائے۔یہ خود اسلام کی تعلیم ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ بیماری صرف بیماری نہیں ہے بلکہ یقیناً یہ عذاب ہے اور پھر عذاب کو عذاب نہ سمجھنا مزید مستحق عذاب بنانے والا طرز عمل ہے۔انسانوں پر یہ عذاب کیوں مسلط ہوا ۔اس لئے کہ حقیقت یہ ہے کہ سارا عالم اللہ کی نافرمانیوں سے بھر چکا ہے ۔جو اللہ کو نہ ماننے والے ہیں اُن کی زندگی جیسی عیش و عشرت تک بلکہ صرف فحاشی اور عیاشی تک محدود ہے۔وہی حال اُن لوگوں کا ہے جو اللہ کو ماننے والے ہیں۔پوری دنیا ظلم ،استحصال ،زنا کاری ،منافقت ،دجل و فریب ،عذر اور عہد و میثاق کی پامالی ،پوری قوم کو لوٹنے ،برباد کرنے ،امن و انصاف کے نام پر لاکھوں انسانوں کا قتل عام اور انفرادی و اجتماعی جرائم سے زمین کا بحرو بر لبریز ہوچکا ہے۔اس لئے اللہ کی طرف سے یہ عذاب آیا ہے اور اگر انسانوں میں سدھار نہ آیا اور انسان اللہ کی طاقت تسلیم کرنے اور جرائم سے توبہ کرنے پر تیار نہ ہو ا تو یہ عذاب مزید پھیلے گا اور ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں کو فنا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
اس لئے ظاہری تدابیر کے ساتھ جب تک اصل مرض کا علاج نہ کیا جائے اُس وقت تک یہ عذاب نہیں ہٹے گا اور وہ ہے مجرمانہ زندگی چھوڑ کر مومنانہ زندگی اپنانا۔لہٰذا اللہ کو نہ ماننے والے ،اللہ کو ماننے والے بن جائیں اور اللہ کو ماننے والے اللہ کے فرمان بردار بن جائیں اور اُس کی نافرمانی سے مکمل پرہیز کریں۔تقویٰ و طہارت والی زندگی اختیار کریں۔انفرادی و اجتماعی توبہ کریں۔الحاد ،فحاشی ،عیاشی ،ظلم واستحصال سے دوری اختیار کریں اور نبیوں کی زندگی کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔اُس کے بعد ہی جو ظاہری تدابیر ہیں وہ مفید ہوں گی ۔اسلام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم دیتا ہے اور اُس سے پہلے بنیادی خرابیوں جو اس عذاب کا اصل سبب ہے اُس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے امر اور مشیت سے ہوتا ہے ۔موت کا وقت مقرر ہے ،وہ نہ ایک لمحہ پہلے آئے گی اور بعد میں۔احتیاطی تدابیر اور حفظان صحت کے اصول اپناناضروری ہے مگر اُس کے بعد بھی یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کا فیصلہ اگر شفا اور حفاظت کا ہوگا تو تدابیر کارگر ہونگی اگر اللہ کا فیصلہ کسی کو موت دینے کا ہو تو تمام تدابیر ناکام ہونا طے ہے۔
حفاظتی تدابیر میں مسجدوں کو بند کرنا ،نمازیں موقوف کرنا،اور فرائض کو ترک کرنا ہر درست نہیں ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ٓاگ بجھانے کے لئے یہ سوچ کر پٹرول ڈالا جائے کہ پانی کی طرح یہ بھی آگ کو بجھادے گا ۔اس لئے ک یہ بھی پانی کی طرح سیال ہے۔
اللہ کی نافرمانی پر آنے والا عذاب مزید نافرمانی کرنے سے کم نہ ہوگا بلکہ اور بڑھ جائے گا ۔اللہ کے غضب ناک ہونے کی واضح علامت یہ ہے کہ اب انسان اللہ کو سجدہ کرنے ،اللہ کے گھر کا طواف کرنے سے محروم کردے گا ،یعنی نمازیں اور حج و عمرہ سے روک دیا گیا ۔

سبزیوں،پھلوں کے چھلکوں اور پٹرول

سے تیار شدہ الکوحل ناپاک نہیں

سوال  : کوویڈ کی وجہ سے اکثر لوگ Senitizer استعمال کررہے ہیں اور اس کی سخت تاکید بھی کی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں الکحل کی زیادہ مقدار ہوتی ہے اور ہم نے بار ہا سُنا ہے کہ الکحل ناپاک ہوتا ہے اور جس چیز میں یہ شامل ہوجائے وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے یہ Sanitizer استعمال کیا جائے تو ہاتھ پاک رہتے ہیں یا ناپاک ۔کیا اُس کے بعد پانی کا ستعمال کرسکتے ہیں ،کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے ۔
منظور احمد زرگر۔رعناواری سرینگر
جواب  :صفائی اور وائرس سے بچائو کے لئے جو Senitizer استعمال ہوتا ہے ،وہ ایسا Liquidہے جس میں یقیناً الکحل مختلف چیزوں سے تیار ہوتا ہے ۔اُن میں سے انگور اور کھجور بھی ہے ۔ان دو چیزوں سے جو الکحل تیار ہوتا ہے وہ حرام بھی ہے اور ناپاک بھی۔یہ الکوحل عموماً مہنگی شرابوں اور بہت قیمتی دوائوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ پٹرول ،سبزیوں ،پھلوں کے چھلکوں وغیرہ سے تیار ہونے والا الکوحل کثیر الاستعمال بھی ہے اور نسبتاً سستا بھی ہے ۔یہی الکوحل آج کل استعمال ہونے والے Senitizer میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ تقریباً تمام ماہرین اس پر متفق ہیں کہ کھجور اور انگور سے تیار شدہ الکوحل پرفیوم ،سینٹائزر میں استعمال نہیں ہوتا ،ان دو قیمتی پھلوں کے علاوہ دیگر اشیا مثلاً سبزیوں ،پھلوں کے چھلکوں اور پٹرول سے تیار شدہ الکوحل ناپاک نہیں ہے ۔یہ رائے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن تاب کی ہے اور آج تمام عالم کے تمام علماء و فقہاء اس رائے کو اپنانے پر مجبور ہیں ۔امام اعظم ؒکی بالغ نظری اور قوت اجتہاد کی عظمت کے کرشمے وقفہ وقفہ سے سامنے آتے رہتے ہیں ،اُس کی ایک مثال یہ بھی ہے کیونکہ سب سے پہلے امام اعظم ؒ نے ہی الکحل کی ان اقسام کا یہ فرق بیان کیا ہے اور اسی فرق کی بنا پر یہ الکحل نشہ کی وجہ سے حرام تو ہے جیسے تمام منشیات حرام ہیں،مگر نجس نہیں۔جیسے چرس اور افیون کہ یہ حرام ہے مگر نجس نہیں۔آج Senitizer کے استعمال کی ضرورت کتنی ہے اور کہاں کہاں ہے یہ واضح ہے ۔حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی ۔اس لئے یہ ایک اضطراری ضرورت بن گئی ہے۔
بہر حال خارجی استعمال کی اجازت ہے لیکن داخلی استعمال میں اس کا حکم شراب کا جیسا ہے اور افیون یا بھنگ کی طرح کہ وہ حرام ہے۔
مسلم شریف کی شہرہ آفاق شرح تکملہ فتح الملہم میں حضرت مولانا محمد تقی عثمانی نے اس کی مکمل تفصیل اور وجوہات بیان کی ہیں۔مساجد کی صفائی اور جراثیم کو ختم کرنے اور وائرس سے محفوظ بنانے کے لئے جو چھڑکائو ہوتا ہے یا مساجد اور بڑے اداروں کے دروازوں پر الکحل ملے ہوئے Senitizerکے جو سٹینڈ لگائے گئے ہیں اُس کے استعمال کی اجازت ہے۔
 
*****************************************

عُشر کا مسئلہ ۔ ایک اہم تصحیح

سوال  : ۳؍اکتوبر جمعہ کے سائل میں عُشر کے مسائل لکھے گئے ۔ان میں ایک مسئلہ یہ لکھا گیا :’اگر باغ کا میوہ آنے سے پہلے اس کو فروخت کیا گیا تو اس صورت میں عُشر باغ خریدنے والے پر لازم ہوگا اور اگر پھل آنے کے بعد اور اس کے پکنے کے بعد فروخت کیا گیا تو عُشر خریدنے والے پر لازم ہوگا ‘۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شائد یہ مسئلہ غلط لکھا گیا ہے ۔اس لئے کہ دونوں صورتوں میں عُشر خریدار پر لازم کیا گیا ۔لہٰذا براہ ِ کرم مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔اگر یہ مسئلہ لکھنے میں غلطی ہوئی ہے تو تصحیح فرمائیں۔
  محمد انیس ۔سرینگر
جواب  :بلا شبہ یہ مسئلہ غلط لکھا گیا ہے اسلئے متعدد قارئین نے جن میں چند اہل علم اور حضرات اہل فتوایٰ بھی ہیں ۔اس غلطی کی نشاندہی کرنے پر اللہ تعالیٰ علم و عمل میں مزید اضافہ فرمائے۔
صحیح مسئلہ یہ ہے:۔اگر باغ کا میوہ  وجود میں آنے سے پہلے یا پَکنے سے پہلے فروخت کیا گیا تو اس صورت میں عُشر باغ کے مالک یعنی باغ کے مالک پر لازم ہوگا اور اگر باغ کا میوہ تیار ہونا شروع ہوگیا، یعنی پکنا شروع ہوجائے جس کو حدیث و فقہ میں بُدُوّ ِصلاح کہتے ہیں ،اگر اس کے بعد میوہ فروخت کیا گیا تو ایسی صورت میں عُشر باغ کے خریدار یعنی بیوپاری پر لازم ہوگا ۔قارئین بھی تصحیح فرمائیں۔
*****************************************

تازہ ترین