تازہ ترین

باغبانی شعبہ سے وابستہ لوگ ذہنی اضطراب کا شکار

۔30لاکھ نفوس کوروزرگار فراہم کرنے والی میوہ صنعت کی موجودہ صورتحال تشویشناک

تاریخ    8 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


 سرینگر//جموں وکشمیر کی معیشت میں باغبانی شعبہ کوریڑھ کی ہڈی سمجھاجاتاہے لیکن حالیہ کچھ برسوں سے اس شعبہ سے وابستہ لاکھوں لوگ  مالی بدحالی کاسامنا کررہے ہیں۔ باغبانی صنعت کوپہنچے بھاری یاناقابل تلافی نقصانات کایہ نتیجہ نکلاہے کہ معاشی ومالی اعتبار سے خودکفیل وخوشحال باغ مالکان اورمیوہ بیوپاریوں کوقرضوں کی ادائیگی اورنقصانات کی بھرپائی کیلئے اپنی زمین وجائیدادکو فروخت کرناپڑرہا ہے۔کل تک جوشاہ تھے ،آج گدابن گئے ہیں ۔شمالی کشمیرسے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک میوہ بیوپاری جوہرسال سیب کی کم سے کم10ہزار پیٹیاں نئی دہلی اورملک کی دوسری میوہ منڈیوں میں بھیجاکرتا تھا،نے اپنی معاشی ومالی بدحالی کی داستان بیان کرتے ہوئے کہاکہ غیرمعیاری کیڑے مار ادویات،نقلی چھڑکائو تیل ،موسم کی قہر سامانیاں ،نامساعدحالات ،ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اورسرینگر جموں شاہراہ کاآئے دنوں بندرہنا نیز سیب کی پیٹیوں سے لدے ٹرکوں کوبلاوجہ شاہراہ پرکئی کئی دنوں تک روکے رکھنا،ایسی وجوہات ہیں ،جن کی وجہ سے مذکورہ میوہ بیوپاری لاکھوں کروڑوں روپے کے قرضے میں ڈوب گیا۔انہوں نے بتایاکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے اُس کوکم سے کم 20کنال باغاتی زمین ،تین بڑی ٹرکیں ،کم سے کم 2نجی گاڑیاں اورکچھ قیمتی گھریلو سامان تک بیچنا پڑا۔ایک ایسا ہی میوہ بیوپاری گزشتہ 2برسوں سے میوہ باغات میں سیب درختوں سے اُتارنے اورپھر پیٹیوں اورڈبوں میں بھرنے کاکام کررہاہے ۔اس نے بتایا ’’ مجھے جس میوہ صنعت نے کبھی شاہ بنادیاتھا،آج اُسی میوہ صنعت کی وجہ سے فقیر بناہوں‘‘ ۔جہاں تک ارباب اختیار کاتعلق ہے توانہوں نے7لاکھ کنبوں اور33لاکھ نفوس کوبالواسطہ اوربلاواسطہ روزی روٹی فراہم کرنے والے شعبہ باغبانی کووسعت یافروغ دینے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ حکومتوں کی بے حسی یاعدم توجہی کایہ عالم کہ جموں وکشمیر میںسال 2019-20کے سالانہ بجٹ باغبانی کیلئے محض ایک فیصد رقم مختص رکھی گئی جبکہ اُس سال کاسالانہ بجٹ یامیزانیہ 88.911 کروڑ روپے تھا۔اس سے پہلے اقتصادیات مضمون میں ماسٹرس کرنے والے کچھ نوجوانوں نے سال2000میں اُس وقت کی سرکارمیں کچھ سیاسی لیڈروں اورمتعلقہ حکام کوایک تفصیلی ڈرافٹ رپورٹ یامنصوبہ پیش کیاتھا،جس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ جموں وکشمیر میں فی الوقت سیب کی سالانہ پیداوارچونکہ15لاکھ میٹرک ٹن کے لگ بھگ ہے تویہاں تیسرے درجے کے سیب کی اتنی مقدار ہے کہ یہاں کم سے کم 6بڑی جوس فیکٹریوں کیلئے خام مال دستیاب ہے ۔اس منصوبے میں اُ س وقت کی حکومت کے ذمہ داروں سے کہاگیاتھاکہ تین ایسی جوس فیکٹریاں محکمہ باغبانی کی نگرانی میں قائم کی جائیں اورباقی تین فیکٹریاں پرائیویٹ سیکٹر کے تحت قائم کروائی جائیں ۔اُن نوجوان ماہرین اقتصادیات نے اپنے مرتب کردہ منصوبے میں اس بات کی نشاندہی بھی کی تھی کہ جوس فیکٹریاں قائم کرنے سے بالواسطہ اوربلاواسطہ ہزاروں لوگوں کوروزگار ملے گااورسیب سے تیار کئے جانے والے جوس کی برآمدسے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کی صورت میں جموں وکشمیر کے خزانے کوایک مضبوط آمدن حاصل ہوگی۔جے کے این ایس
 

تازہ ترین