ڈوڈہ کے 70 فیصدی سرکاری اسکولوں میں بنیادی ڈھانچہ کا فقدان | پرائمری اسکول دھاروش کی عمارت خستہ حال، مقامی لوگ حکام کی بے حسی پر برہم

تاریخ    7 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ کے تعلیمی زون بھاگواہ میں پرائمری اسکول دھاروش کی عمارت خستہ حال ہونے پر مقامی لوگوں نے حکام کی عدم توجہی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول بلڈنگ کو تیز ہواؤں و برفباری کی وجہ سے یہ کئی عرصہ قبل نقصان پہنچا ہے اور دیواروں پر بڑے بڑے شگاف پڑے ہیں۔علاقہ کے سماجی کارکن سجاد کھانڈے نے کہا کہ یہ اسکول عمارت ناقابل استعمال ہے اور کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے کئی بار محکمہ تعلیم و انتظامیہ کی نوٹس میں لایا لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔انہوں نے اسکول عمارت کی ازسر نو مرمت کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران اے آئی ایس ایف کے ریاستی سابق صدر مکیش پریہار سراضی نے ڈوڈہ ضلع کے مختلف دیہاتوں میں قائم سرکاری اسکولوں کی حالت زار ہے اور حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے خستہ حال اسکولوں کی ترجیح بنیادوں پر مرمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ضلع صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن سلیندر پریہار نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھاری رقومات واگذار کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر اس کا بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ستر فیصدی اسکولوں میں بنیادی ڈھانچہ کا فقدان ہے جبکہ انجینئرنگ ونگ و ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے پچاس فیصدی اسکول عمارتیں ناقابل استعمال ہیں۔انہوں نے سرکاری اسکولوں کی ٹھیک ڈھنگ سے تعمیر کرنے لاپرواہ ملازمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
 

تازہ ترین