تازہ ترین

کنڈ زال پانپورمیں جنگجوؤں کا حملہ| 2اہلکار ہلاک ،افسر سمیت3زخمی

سرینگر جموں شاہراہ پر پل کے نزدیک حملہ کیا گیا،ترال میں محاصرے کے دوران فائرنگ کا تبادلہ

تاریخ    6 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید اعجاز
پانپور// سرینگر جموں شاہراہ پر لسجن بائی پاس اور مارول پلوامہ کے درمیان ٹینگن پل کے نزدیک موٹر سائیکل پر سوار2 جنگجوئوںنے سی آر پی ایف پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت 2اہلکار ہلاک جبکہ حملے میں ایک افسر سمیت 3اہلکار زخمی ہوئے۔ادھر پیر ناڑ لال گام ترال میں محاصرے کے دوران جنگجوئوں اور فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور جنگجو فرار ہوئے۔
پلوامہ
 مارول پلوامہ اور لسجن بائی پاس کے درمیان سرینگر جموں شاہراہ پر ٹینگن پل کے مقام پر اکثر و بیشتر پولیس اور سی آر پی ایف کی پارٹیاں تعینات رہتی ہیں۔ سوموار بعد دو پہر ایک بجے کے قریب سکوٹر پر سوار دوجنگجوئوں نے یہاں موجود 110بٹالین سی آر پی ایف اہلکاروں پر اندھا دھندفائرنگ کی، جس کے نتیجے میں5اہلکار شدید زخمی ہوئے ، جن کو فوری طور پر بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں 2اہلکار زخمیوں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے۔حملے کے وقت طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ مہلوک فورسز اہلکاروں کی شناخت 34سالہ کانسٹیبل ڈرائیور دریندر ترپاٹھی اور 36سالہ کانسٹیبل شلندر پرتاب سنگھ کے بطور ہوئی ہے جبکہ دیگر3زخمی اہلکار اسسٹنٹ سب انسپکٹر گورکھ ناتھ،ہیڈ کانسٹیبل مکند سنگھ،اور ڈی کیپگن ہسپتال میں زیر علاج ہیں،جن کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔عین شاہدین نے بتایا علاقے میں پہلے کچھ گولیاں چلیں جس کے ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں جائے واردات کے نزدیک افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف فرار ہوئے اور چند منٹوں کے بعدشاہراہ سمیت علاقے میں آناً فاناً سناٹا چھایاگیا ۔واقعے کے فوراً بعد فوج پولیس اور سی آر پی ایف نے علاقے کو گھیرے میں لے کرشاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل روک کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ۔ابتدائی طور پر کنڈی زال پل سے کدل بل پانپور کی جانب جانے والے پر ایک جوس فیکٹری میں فرار ہوئے جنگجوئوں کی موجودگی کے بعد محاصرہ کیا گیا۔آپریشن کے لئے 5آر آر کی بھی خدمات حاصل کی گئیں اور فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ جھڑپ شروع ہوگئی ہے لیکن کئی گھنٹوں تک آپریشن جاری رہنے کے بعد جنگجوئوں کا کہیں اتہ پاتہ نہیں چل سکا۔شام کے وقت محاصرہ ختم کیا گیا۔
ترال
 پیر ناڑ لال گام اونتی پورہ ترال علاقے میں سوموار  کو محاصرے کے دوران پھنسے جنگجوئوں نے فائرنگ کی اور محاصرہ توڑ کر فرار ہوئے۔پولیس نے بتایا کہ 42آر آر ، پولیس اور سی آر پی ایف نے پیر ناڈ نامی گائوں کا محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔جونہی علاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائیاں شروع کی گئیں تو یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد  طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا، جو کچھ دیر کے لئے جاری رہا۔ تاہم جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی  کی گئی لیکن جنگجوئوں کیساتھ کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔ جس دوران پولیس کے مطابق کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوا ہے اور نا ہی کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے 
 

لیفٹیننٹ گورنر کی مذمت

 نیوز ڈیسک
 
سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پانپور میں سی آر پی ایف جوانوں پر حملے کی مذمت کی ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حفاظتی عملے کی قربانیاں رائے گاں نہیں جائیں گی۔ اپنے ایک پیغام میںانہوں نے کہا کہ حکومت جموں کشمیر میں امن و ترقی کی کوششوں میں رخنہ پیدا کرنے والوں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پُر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’’ میں جموں کشمیر کے لوگوں اور بہادر حفاظتی دستوں کے اہلِ خانہ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس نوعیت کے دہشت گردانہ حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دیں گے ‘‘ ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جاں بحق جوانوں کی روح کے سکون اور اُن کے اہل خانہ کو صدمہ برداشت کرنے اور زخمی جوانوں کی فوری صحت یابی کیلئے دعا کی ۔ 
 

راجوری میں شوپیان کا نوجوان گرفتار

بلگام سوپور کامحاسرہ اور تلاشیاں

 شوپیان +سوپور/شاہد ٹاک+غلام محمد/ کیلر شوپیان کا ایک نوجوان تھانہ منڈی راجوری سے  اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس دوران سوپور میں تلاشیاں لی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ  تھانہ منڈی راجوری میں ایک ناکے کے دوران رنگیرکیلر شوپیان کے عرفان احمد جرال ولد بشیر احمد جرال کو  ایک مسافر بس سے گرفتار کیا اور تلاشی کے دوران اسکی تحویل سے  دو گرینیڈ اور15اے کے رائونڈس بر آمد کئے گئے۔اس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ادھر پولیس و فورسز نے اتوارکونوپورہ واگورہ علاقہ میں تلاشی کارروائی عمل میں لانے کے بعدسوموار کوعلی الصبح سری نگربارہمولہ شاہراہ پر واقع بلگام سوپور کاکریک ڈائون کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔اس آپریشن میں 52آرآر اورسی آرپی ایف نے بھی حصہ لیا۔فورسز نے گھرگھرتلاشی کارروائی شروع کی ،جس دوران گھروں میں موجود مردوں سے پوچھ تاچھ کی گئی ،اورکہیں کہیں شناختی کارڈبھی دیکھے گئے ۔ایس ایس پی سوپورجاوید اقبال نے بتایاکہ جنگجوئوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بناء پربلگام سوپورعلاقہ کوسیل کرکے یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔  کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن کو بعد میں ختم کیا گیا۔ن اورتلاشی کارروائی کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کااس علاقے میں جنگجوئوں سے کوئی آمناسامنا نہیں ہوا ،جسکے بعدمحاصرہ ہٹایاگیا۔
 
 

حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی

شاہراہ پر فورسز کو نشانہ بنانا آسان: آئی جی

بلال فرقانی
 
سرینگر// انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہا کہ جنگجوئوں کو شاہراہ پر فورسز کو نشانہ بنانا آسان ہدف نظر آرہا ہے۔آئی جی کشمیر نے کہا’’ شاہراہ مصروف مقام ہے،جہاں روزانہ سینکڑوں گاڑیاں چلتی رہتی ہیں،اگر ہم جوابی کارروائی کرتے تو شہری ہلاکتوں کے خدشات تھے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور جائے وقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، لیکن انکی شناخت کرلی گئی ہے۔جائے وقوع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آئی جی کشمیر نے کہا کہ یہ حملہ موٹر سائیکل پر سوار لشکر طیبہ کے2جنگجوئوں نے کیا اور انکی شناخت کی گئی ہے،جبکہ انکو تلاش کرنیکی  مہم شروع کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا’’ لشکر کے2جنگجو موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے کنڈی زال پانپور کے نزدیک سی آر پی ایف کی’’ روڈ اوپننگ پارٹی‘‘ پر اندھا دھند فائرئنگ کی،جس کے نتیجے میں 2اہلکار ہلاک جبکہ مزید 3 زخمی ہوئے،جن کی حالت بہتر ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آواروں کی شناخت پاکستانی جنگجو سیف اللہ اور ایک مقامی جنگجو کے بطور ہوئی ہے۔ وجے کمار نے کہا’’ انہیں تلاش کرنے کی مہم جاری ہے،اور میں پرامید ہو ںکہ ان کے خلاف بہت جلد کارروائی عمل میں لائی جائیگی‘‘۔ انہوں نے پیر ناڑ ترال علاقے میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا’’ وہاں پر ابتدائی طور پر گولیوں کا تبادلہ ہوا،جس کے بعد جنگجوئوں اور فورسز کا کوئی بھی آمنا سامنا نہیں ہوا‘‘۔
 
 

سرینگر اور اسکے مضافات میں6ماہ میں تشدد کے 12 واقعات

بلال فرقانی
 
سرینگر//2020کے پہلے6ماہ کے دوران سرینگر اور اسکے مضافاتی علاقوں میں جنگجوئوں کی جانب سے نصف درجن مقامات پر فورسز پر جان لیوا حملے کئے گئے،جبکہ6مقامات پر طرفین میں خونین جھڑپیں ہوئیں۔ سرینگر اور اس کے مضافات میں رواں سال اپریل سے اب تک نوا کدل، زونی مر، ملہ باغ،مجہ گنڈ،پانتہ چھوک اور فردوس آباد بٹہ مالو میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین جھڑپیں ہوئیں۔19مئی کوکنہ مزارنوا کدل سرینگر میں کئی گھنٹوں تک مسلح جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کا معروف کمانڈر جنید صحرائی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ مسلح تصادم آرائی میں4فورسز اہلکار زخمی ہوئے ۔ 6ماہ کے دوران6 مقامات پر جنگجوئوں نے فورسز کو نشانہ بنایا،جن میں پارم پورہ،پاندچھ،نوگام،پانتہ چھوک اورحول شامل ہیں۔ان حملوں کے دوران کئی فورسز اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ 20مئی کو پاندچھ گاندربل میں پستو ل بردار جنگجوئوں نے دن دھاڑے فورسز پر نزدیک سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں2اہلکار ہلاک ہوئے۔ جنگجو دونوں اہلکاروں کا اسلحہ بھی اڑا نے میں کامیاب ہوئے۔ سرینگر کے مضافات کنڈی زال پانپور میں پیر کو ہوا حملہ ایسی12ویں کارروائی ہے،جس میں طرفین کا جانی نقصان ہوا۔

تازہ ترین