تازہ ترین

نجی اسکولوں کی انجمن کا فیس میں نرمی کی رائے سے عدم اتفاق | ’ مشکوک لوگوں پر مشتمل ادارہ رسہ کشی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے‘

تاریخ    6 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نجی اسکولوں کی انجمن پرائیوٹ اسکولز ایسو سی ایش جموں و کشمیر نے اسکولی فیس میں چھوٹ کے بارے میں نجی اسکولوں کی رابطہ کمیٹی کے بیان کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ ایسو سی ایشن کا موقف روز اول سے ہی واضح ہے کہ ایسے کسی بھی فیس میں نرمی کی رائے سے عدم اتفاق کیا جائے گا جو پورے تعلیم کے شعبے پر تباہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔ پرائیوٹ اسکولز ایسو سی ایشن  نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ غیر تسلیم شدہ اور مشکوک لوگوں پر مشتمل ادارہ، اسکولوں ، والدین اور محکمہ تعلیم کے مابین رسہ کشی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسو سی ا یشن کے صدر جی این وار نے کہا،’’پچھلے کئی برسوں ، خاص طور پر اگست 2019 کے لاک ڈاؤن اور اس کے بعد کووِڈ- 19 پابندیوں کے بعد پورے اسکول ایجوکیشن سیکٹر کو سخت نقصان پہنچا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں کا یہ حال ہے کہ یہ ہم سب کے لئے بقا ء کا معاملہ بن گیا ہے ،۔جی ایس این وار نے کہا،’’اس وقت ہم فیس میں رعایت کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں،در حقیقت ہم نے متعدد بار پرنسپل سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سے ملاقات کی اور انہیں اسکولوں کی صورتحال سے متعلق تمام حقائق اور اعدادوشمار پیش کیے‘‘۔ وار کا کہنا تھا’’  پرنسپل سیکریٹری نے حقیقت کو سمجھا کہ فیس میں رعایت کے نتیجے میںکس طرح اسکول مقفل ہونگے اور روزگار پر اثر پڑے گا‘‘۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ نجی اسکولوں میں بس کنڈکٹر سے لے کر اسکول کے پرنسپل تک 67ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے اور فیس کی وصولی میں رکاوٹ بہت سے لوگوں کے لئے عذاب بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا،’’ ہم فیس میں 30 فیصد کمی کے خلاف ہیںاور کون سے شعبے میں ان کی آمدنی کو اس حد تک کٹوتی کے ساتھ زندہ رکھا جاسکتا ہے‘‘۔وار نے کہا کہ اسکول معاشرے کی مالی صورتحال کے حوالے سے صورتحال جانتے ہیں اور انفرادی سطح پر باقاعدگی سے مناسب اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولز اپنی سطح پر بغیر کسی تشہیر کے طلبا کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاہم معاشرے کا بھی حصہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ضرورت مند لوگوں کی کس طرح مدد کی جائے،جبکہ ہم پہلے ہی ٹرانسپورٹ میں 50 فیصد تک کی رعایت فراہم کرنے پر رضامند ہوچکے ہیں۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ جلد سے جلد ہی باقی فیس اسکولوں کے پاس جمع کروائیں تاکہ اسکولوں کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو رواں دواں رکھا جاسکے۔
 

تازہ ترین