تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    4 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


تو اب بھی میرے حصارِ دل میں کہیں نہاں ہے
لہو نہیں ہے رگوں میں پھر بھی رواں دواں ہے
 
کتابِ ہستی جو میں نے دیکھی تو یہ بھی دیکھا
بہت ہی پختہ لکھا ہوا ہے جو درمیاں ہے
 
وہ قافلہ ہم ہی تھے کبھی جو نہ تم نہ ہم تھے
یہ تم یہ ہم کیا ہے اب جدا کیوں یہ کارواں ہے؟
 
نکل پڑا تھا جو ماہ و پرویں کو مات دینے
وہ شعلہ سامان آجکل بس دھواں دھواں ہے
 
زمیں پہ دوڑائی میں نے آنکھیں ، فلک پہ باہیں
خبر ملی ہے وہ آئے گا جو قرارِ جاں ہے
 
دبی تبسم کی چاشنی میں وہ لے کے آیا
وہ راحتیں جن کے دم سے آباد آشیاں ہے
 
کسی نے ہم سے کہا کہ محبوب کس کو مانا
تو ہم نے آفاقؔ کہہ دیا وہ جو ضو فشاں ہے
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ،
موبائل نمبر؛ 7006087267
 
 
 
دنیا کو پھر سے سجانا ہے مُجھے
ہر طرح اچھا بنانا ہے مجھے
جس سے ہو اس دیش کا اونچا وِقار
کام وہ کرکے دکھانا ہے مجھے
جس کو سب رکھتے ہیں خود سے دُور دُور
اُس کو سینے سے لگانا ہے مُجھے
خود کو بھی پہچانتا کوئی نہیں
نیند سے سب کو جگانا ہے مُجھے
ہیں کہاں نزدیک میری منزلیں
اور بھی کچھ دُور جانا ہے مجھے
جو رواں ہے راہِ باطل پر اُسے
نیک رستے پر چلانا ہے مجھے
میرا مقصد ہے یہی کہ ہتاشؔ
انسان کو انساں بنانا ہے مُجھے
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
جانے کیوں ہیں اہلِ زمیں خفا مجھ سے 
قصہ کیا ہے، یہ کیا ہوئی خطا مجھ سے
 
میں فریبی نہیں، جفا ہے یہ پھر کیوں؟
غیر ہوگئے ہیں باوفا مجھ سے 
 
درد انکا بسایا سینے میں پھر بھی
بے رُخی اور دُعا کا سلسلہ مجھ سے
 
چاہتے ہیں ستم کو میں ستم نہیں سمجھوں
بے ضمیری نہ ہوگی یہ اَدا مجھ سے
 
ایک ذرہ ہوں، خوش ہوں میں اس میں
ورنہ دنیا میں ہر کوئی بَجا مجھ سے
 
نذیر احمد نائیک المدنی
سیرن کھڑی ، رام بن
موبائل نمبر؛7051174360
 
 
تلاشِ نقشِ پا میں ہوں
سفر کی ابتداء میں ہوں
 
کرم اپنا تو کر آقاء
خطائے بے بہا میں ہوں
 
لُبھائے جو دلِ یزداں
وہ نغمۂ جانفزاء میں ہوں
 
اِدھر ہوں یا اُدھر ہوں میں
بہ ہر صورت نگاہ میں ہوں
 
مجھے کیا غم، میں تو شامل
دعائے مصطفےٰ ؐمیں ہوں
 
آزاد شوکت زلنگامی
زلن گام، کوکرناگ
موبائل نمبر؛ 9682147144
 
 
زندگی اک خوبصورت خواب لکھنا
میرے سوال کا کچھ جواب لکھنا
 
یہ ہجر کی تڑپ یہ وصل کا انتظار
زخم دل کے بےحساب لکھنا
 
درد دل میں ہیں دفن سارے
اس پہ مختصر سی کتاب لکھنا
 
کانٹوں کے اس آشیانے کو تم
دلکش سا کوئی گلاب لکھنا
 
مہرؔ اس ماہ وش چہرے کو ذرا
دور سے چمکتا آفتاب لکھنا
 
شاہستہ مہر دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر
 
 
بزمِ طرب میں ہر شے ناشاد نظر آئے
بادِ صبا بھی دل کو اُفتاد نظر آئے
 
ہے کوئے یار کیونکر گریاں و دل دریدہ
ہنستے ہوئے لبوں پہ فریاد نظر آئے
 
دوران سفر کر لے تو زیر ہر رکاوٹ 
راہِ عمل تمہارا اُستاد نظر آئے
 
بَستی جہاں تھیں خوشیاں، مستی، سرور ہردم
دل کا وہ محلّہ اب برباد نظر آئے
 
بے شک ہوں میں غزل گو، دُکھ درد ہے یہ دل کا
پھیکی زبیرؔ لیکن سب داد نظر آئے
 
زبیر رفیق
طالب علم، MCMPڈگری کالج، اننت ناگ
کھڈونی، کولگام ،موبائل نمبر؛9906319315

تازہ ترین