تازہ ترین

وزیراعظم کی طرف سے منالی ۔لیہہ ٹنل کا افتتاح

چین اور پاکستانی سرحدوں تک فوجی سازوسامان کیلئے رسائی ممکن

تاریخ    4 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
منالی//وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں منالی لیہہ شاہراہ پر روہتانگ کی پیر پنجال کی پہاڑیوں میں بنائی گئی دفاعی اعتبار سے  اہم اور سبھی موسموں میں کھلی رہنے والی اٹل روہتانگ سرنگ کو قوم کے نام وقف کیا۔استراتجک نظریے سے بے حد اہم اس سرنگ سے فوج اور فوجی سازوسامان آسانی سے لیہہ لداخ علاقے میں چین سے اور کارگل میں پاکستان سے لگتی سرحدوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ دنیا میں کسی شاہراہ پر سب سے لمبی اس سرنگ کی تعمیر سے منالی اور لیہہ کے درمیان دوری بھی تقریباً 46 کلومیٹر کم ہوجائے گی اور تقریباً آمدو رفت کا چار سے پانچ گھنٹے کا وقت بھی بچے گا۔ اس سرنگ کی تعمیر سے اب گاڑیوں کی آمدورفت پورے سال آسانی سے ہوسکے گی  روہتانگ کی پیر پنجال کی پہاڑیوں پر تقریباً 9.02کلومیٹر لمبی گھوڑے کے نال کی شکل کی اور جدید تکنیک سے بنائی گئی یہ سرنگ منالی لیہہ راستے پر تقریباً 10040 فٹ کی اونچائی پر ہے جس کی تعمیر پر تقریباً 3200کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے ۔ سرنگ کا جنوبی سرا منالی سے 25 کلومیٹردور 3060 میٹر کی اونچائی پر واقع ہے ،جبکہ اس کا شمالی سرا لاہول وادی میں ریلنگ سسو گاؤں کے پاس 3071 میٹر کی اونچائی پر واقع ہے ۔اس سرنگ میں ہر 60 میٹر پر ہائیڈرینٹ ،150 میٹر پر ٹیلی فون کی سہولت ،ہر 250 پر سی سی ٹی وی کیمرے ، ہر 500 میٹر پر ایمرجنسی ایگزٹ،ہر ایک کلومیٹر پر ہواکے معیار کی جانچ اور ہر 2.2کلومیٹر پر گاڑی موڑنے کا انتظام کیا گیا ہے ۔اس سرنگ کے دونوں سروں پر کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں جہاں سے ہر کسی سرگرمی پر نظر رکھی جاسکتی ہے ۔سرنگ کا افتتاح کرنے کے موقعہ پر نریندر مودی نے مرکز میں 2014 تک رہی کانگریس کی قیادت والی حکومت پر بالواسطہ طورپر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ملک میں استراتجک نظریے سے اہم پروجیکٹوں اور فوجی صلاحیتوں کے سلسلے میں نہ صرف غیر سنجیدہ رویہ اپنایا گیا بلکہ انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے سال 2002 میں اس سرنگ کے منسلک راستے کا سنگ بنیاد رکھا تھا لیکن ان کے بعد آئی مرکزی حکومت نے اس کام کو تقریباً بھلا دیا اور سست رفتار سے کام چلتا رہا۔ جس رفتار سے سرنگ پر کام چل رہا تھا اس سے یہ سال 2040 تک پوری ہوتی۔ لیکن ان کی حکومت نے سال 2014  میںاقتدار میں آنے کے بعد اس پروجیکٹ کو رفتار دی۔