تازہ ترین

تربیتِ اولاد سے غافل نہ رہیں

کیریئر سازی بجا، کردار سازی کوبھی نہ بھولیں

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


پیرزادہ بلال یوسف
ہمیں اپنی اولاد سے محبت ہے، محبت ہونی ہی چاہیے۔ہمیں اپنی اولاد کی چاہت ہے ،ہونی ہی چاہیے۔ہماری آنکھ کا نور دل کا سرور ہے، یقینا ایسا ہی ہونا چاہئے۔ہماری اولاد ہمارا چین، ہمارا صبر و قرار ہے ،گھر کی بہار ہے ،رونقِ ہستی ہے ،دم زندگی ہے ،جان محفل ہے۔ اولاد کے بغیر زندگی ایک اجڑا ہوا گلستاں ہے جس میں دلکشی ہے نہ خوبصورتی، دل آویزی ہے نہ دل بستگی، زندگی کی بے کراں تنہائیوں اور حیات  مستعار کے وسیع وعریض صحراء میں ساری بہار ساری دلکشی بچوں کے دم سے ہے۔ انہی سے ویرانوں میں بہار آجاتی ہے،مردہ کلیاں کھل اٹھتی ہیں، زندگی کے سونے سونے دن ،سونی سونی راتیں یکایک آباد ہوجاتی ہیں، جگمگا اٹھتی ہیں، پھول مسکراتے ہیں، فضا خوشبوؤں سے معطر ہوجاتی ہے ،ہر طرف زندگی ہی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
بچے نہ ہو تو زندگی بے کیف، بے سود نظر آتی ہے، کمانا بے فائدہ دکھائی دیتا ہے ،انسان اپنی زندگی میں ادھوراپن اور کمی محسوس کرتا ہے، خود کو بے دست و پا، بے سہارا، بے یارو مدد گار سمجھتا ہے۔ وہ اپنے گھر کے آنگن میں بچوں کے قہقہے ڈھونڈھتاہے ،بچوں کی ضد، رونا ،شور مچانا تلاش کرتا ہے مگر اس کی تلاش حسرت یاس بن کر کسی نہا خانہ دل میں روپوش ہو جاتی ہے۔اور آہ سرد کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔اولاد نہ ہو تو ہونے کیلئے آدمی کیا کیا کوشش نہیں کرتا ،ڈاکٹر، اطبا ء سے لیکر دعا تعویذ اور جھاڑ پھونک ہر در تک پہنچ جاتا ہے۔اولاد ہونے پر اولاد کیلئے، اولاد کے مستقبل کو سنوار نے کے لئے دوڈدوپ شروع ہوجاتی ہے۔ کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ یہاں تک کہ جائز وناجائز کی بھی پرواہ  نہیں ہوتی۔آدمی اولاد کے لیے بخیل بن جاتا ہے ،کنجوس ہوجاتا ہے، اکثر بہادری کے موقع پر بزدلی دکھاتا ہے ،ہمت کی جگہوں پر کم ہمت بن جاتا ہے، بچوں کی محبت غالب آجاتی ہے میرے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا؟وہ کیسے رہیں گے؟کیسے زندگی گزاریں گے، ان کے خوردونوش کا انتظام کیا ہوگا؟ ان کے رہنے سہنے کا بندوبست کیا ہوگا؟ہر ایک کی فکر رہتی ہے۔ دن و رات اسی میں غلطاں وپچتاں رہتا ہے۔
کیا اولاد کی فکر کرنا غلط ہے؟ کیا اولاد کے مستقبل کو سنوار نے کی سوچ صحیح نہیں؟ کیا اولاد کو بے یارو مدد گاراور بے سہارا چھوڑ کر جانا ٹھیک ہے؟ ہرگز نہیں اولاد کے مستقبل کی فکر ضروری ہے،ماں باپ کا فریضہ ہے،ایک اہم ذمہ داری ہے ۔لیکن ٹھہریں، دل پر ہاتھ رکھیں اور سوچ کر کہیںکہ ہمیں اور آپ کو اولاد کا مستقبل بنانے اور سنوار نے کی فکر کن معالات میں ہے؟دین کے لئے یا دنیا کے لئے؟ ہمیں یہ فکر ضرور ہے کہ ہمارے بعد ہماری اولاد کھائے گی کیا؟ پہنے گی کیا؟ اوڈھے گی کیا؟ رہے گی کہاں، بسے گی کہاں؟ لیکن کیا یہ بھی فکر ہے کہ ہمارے بعد ہماری اولاد کا عقیدہ کیا ہوگا؟ عمل کیا ہوگا، دستور زندگی اور مقصد حیات کیا ہوگا؟ اس کے رات دن کیسے گزریں گے ؟ وہ دیندار رہے گی یا بے دین ہوجا ئے گی؟ دین پر عمل کرنے والی ہوگی یا دین سے دور ہوجائے گی؟ دین پر چلنے والی ہوگی یا سرکش وباغی بن جائے گی، ایمان و عمل صالح والی ہوگی یا کفر اور فسق وفجور والی۔نیک زندگی والی ہوگی یا معصیت والی۔
اصل فکر اولاد کے متعلق یہی ہونی چاہیے کہ ہماری اولاد ہمارے بعد دیندار رہے، دین پر چلنے والی رہے، دین کو اپنی زندگی میں اتارنے، رچانے اور بسانے والی بنے، تقویٰ کو اختیار کرنے والی بنے ،کفر وشرک سے دور رہنے والی اور گناہ اور معصیت سے نفرت کرنے والی بنے۔یہی وہ طریقہ زندگی اور طرز حیات ہے جو ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام کی حیات مبارکہ اور ان کی وصیت و نصیحت سے ملتا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو جمع کرکے اولاد کے اسی مستقبل کی فکر کی تھی ،یہی پوچھا اور معلوم کیا تھا ۔ارشاد باری تعالی ہے’’ کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس موت کا وقت آیا جبکہ انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟بیٹوں نے جواب دیا ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اور آپ کے آباء حضرت ابراھیم علیہ السلام اور اسماعیل اور اسحاق علیہ السلام کے معبود کی عبادت کریں گے جو کہ ایک معبود ہے اور ہم اسکے مطیع وفرمانبردار بن کر زندگی گزاریں گے‘‘(سورہ بقرہ ) ۔
بچوں کا مستقبل کیا ہوگا ،اس پر بہت پہلے سوچنے کی ضرورت ہے۔بچوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہونی چاہئے جس سے ان کی آئندہ زندگی صحیح لائن پر رہے ۔خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیاکہ اولاد کا اپنے باپ پر کیا حق ہے۔جواب دیا اس کی ماں اس کابہتر انتخاب کرے، اس کا اچھا نام رکھے اور اسے قرآن سکھائے۔
ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے اپنے بیٹے کی نافرمانی کی شکایت کی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹے کو بلایا۔ بیٹے نے کہا اے امیرالمؤمنین! کیا بیٹے کا باپ پر کوئی حق نہیں؟ فرمایا کیوں نہیں حق تو ہے اور وہ حق یہ ہے کہ اس کے والدین چن کر لائے ،اس کا اچھا نام رکھے اور اسے قرآن مجید کی تعلیم دے ۔بیٹے نے کہا اے امیرالمؤمنین میرے باپ نے ان میں سے کوئی حق ادا نہیں کیا کیونکہ میری ماں ایک حبشیہ ہے جو ایک مجوسی کی باندی تھی اور اسنے میرا نام جْعل رکھا یعنی پاخانہ کا کیڑا(جو پاخانہ کو گول کر کے منہ سے لئے ڑھکاتا ہے) اور جہاں تک تعلیم وتربیت کی بات ہے تو اس نے مجھے قرآن مجید کے ایک حرف کی بھی تعلیم نہیں دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تو اپنے بیٹے کی شکایت لے کر آیا حالانکہ تو پہلے ہی اس کی حق تلفی کرچکا ہے (تواریخ حبیب الہی )
بچپن ہی سے بچے کی تربیت بہت ضروری ہے۔ والدین اسے جس لائن پر لے جائیں گے، اسی لائن پر وہ چل پڑے گا۔ اچھی لائن پر چلائیں گے تو اچھی لائن پر چلے گا، خراب لائن پر پر چلائیں گے تو خراب لائن پکڑے گا۔بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے صحیح ہوتا ہے۔ والدین کا ماحول، گھر کا مزاج ،رہن سہن، طور وطریقہ ہی اسے غلط راہ پر ڈالتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ ہر بچہ فطرت سلیم پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنادیتے ہیں یا نصرانی بنادیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں‘‘(رواہ بخاری )۔ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوگا، اذان واقامت کے کلمات اس کے کان میں آئیں گے، غیر مسلم کے گھر میں پیدا ہوگا ،بتوں اور دیوی دیوتاؤں کا نام سنے گا، اسی طرح دیندار کے گھر میں پیدا ہوگا تودینداری سیکھے گا ،دین سے دوری رکھنے والے ماحول میں جنم لے گا تووہی مزاج بنے گا، گالیاں بکے گا ،خرافات سیکھے گا، دین سے بیگانہ رہے گا۔
 ارشاد ربانی ہے ’’اے ایمان والو اپنے آپکو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ(سورہتوبہ ) ۔آدمی اپنے آپکو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے کیسے بچائے گا؟ وہ اعمال کر کے جو جہنم سے بچانے والے ہیں اور ان کا ماحول بناکر جن میں اہل وعیال جہنمی کاموں سے بچ جائیں، گھر کا ماحول جہنمی کاموں والا ہو تو گھر کے لوگ بیوی بچے جہنمی کاموں سے کیسے بچیں گے؟دھیرے دھیرے سب اسی رنگ میں رنگ جائیں گے ۔
بچہ یا بچی جب بولنے لگے تو اسے اللہ اللہ بلوایا جائے، اس سے کلمہ طیبہ سکھایا جائے، جوں جوں بڑا اور سمجھ دار ہونے لگے، اس کے سامنے اللہ کا نام آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے، انبیائے کرام کا تذکرہ آئے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیں اور بزرگان دین کا ذکر آئے،نماز،روزہ، حج،زکواۃ، قرآن کی تلاوت اور ذکر تسبیح کے اعمال والفاظ آئیں نہ کہ فلمی گانوں کے بول ،فلموں کے نام، فلموں میں کام کرنے والوں کے نام۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی بہت سی خرافاتی چیزیں دینی ماحول بنانے والی نہیں بلکہ بنے ہوئے دینی ماحول کو بھی بگاڑ دینے والی ہیں۔یاد رکھیں ہمارے لئے ماڈل ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ہمیں کسی اور سے لینا دینا کیا ۔
ارشاد نبوی ہے’’اپنی اولاد کو اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے بچنے کا حکم دو ،یہ چیز انھیں جہنم کی آگ سے بچائے گی(ابن جریر)۔حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کو حب ِنبی صلی اللہ علیہ وسلم ،حب اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعیں اور قرآن مجید کی تعلیم دو۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جس طرح قرآن کی سورتیں سیکھتے تھے، اسی طرح مغازی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سیکھتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اپنی اولاد کو گھوڑ سواری، تیر اندازی اور تیراکی سکھاؤ۔آج کے دور میں گھوڑ سواری اور تیر اندازی کی جگہ سائیکل اور دوسرے چیزوں نے لے لی، لہٰذا یہی سیکھنا چاہیے۔ یعنی بچوں کو ابتداہی سے جرأت مند بنانا چاہئے۔بزدلی، کم ہمتی اور عیش وعشرت کے کاموں اور اس قسم کے ماحول سے دور رکھنا چاہیے۔ 
آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے 
شمشیر وسناں اول ،طاؤس ورباب آخر 
میرے ہم وطنو ۔ابتداہی سے بچے کا ماحول کیسے بنایا جاتا ہے، اس کا ایک واقعہ سنیں۔ مشہور بزرگ ولی کامل عارف باللہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ کہتے ہیں کہ’’ میں بہت چھوٹا تھا ،جبھی سے اپنے ماموں محمد بن سوار رحمتہ اللہ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا تھا، ایک دن میرے ماموں مجھ سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو یاد نہیں کرتے جس نے تم کو پیدا کیا ہے؟ میں نے کہا کیسے یاد کروں؟ فرمایا جب بستر پر سونے جاؤ ،لیٹے لیٹے دل ہی دل میں زبان ہلائے بغیر تین بار کہو اللہ میرے ساتھ ہے اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ،اللہ میرا گواہ ہے۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا۔ جب کچھ دن گزر گئے اور میں نے اپنے ماموں کو بتایا تو وہ کہنے لگے اب ایسا ہی سات بار کرو۔چنانچہ میں نے ہر رات سات بار کہنا شروع کردیا ۔جب کچھ دن آور گزرگئے تو ماموں نے فرمایا کہ اب گیارہ بار کہا کرو ۔چنانچہ میں گیارہ بار کہنے لگا۔ میرے دل میں اس کی لذت وحلاوت بیٹھ گئی اور اس کہنے میں لطف آنے لگا۔ ایک سال تک ایسا ہی رہا۔ پھر محمد بن سوار رحمتہ میرے ماموں کہنے لگے جو میں نے تمہیں سکھایا ہے، اسے محفوظ رکھو اور اس پر مرتے دم تک قائم رہو کیونکہ یہ تمہیں دنیا وآخرت دونوں جگہ نفع دیگا۔ اس طرح چند سال تک کرتا رہا ۔میں نے اپنے اندر اس کی حلاوت ومٹھاس پالی، پھر ایک دن میرے ماموں مجھ سے کہنے لگے اے سہل، اللہ جس کے ساتھ ہو، اللہ جس سے دیکھ رہا ہو ،اللہ جس کا گواہ ہو، کیا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا؟دیکھو اللہ کی معصیت سے ہمیشہ بچنا ‘‘۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچپن ہی سے حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمتہ کے دل ودماغ میں اللہ کی معرفت وخشیت بیٹھ گئی اور بڑے ہوکر وہ کبار عارفین میں شمار ہوئے(کتاب راہ عمل جلد اول) ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال ہونے پر نماز نہ پڑھنے پر مارو اور ان کا بستر الگ الگ کردو (رواہ ابودائود ) ۔اولاد کی تعلیم وتربیت اور انھیں حسن ادب سکھانا بہترین عطیہ ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں’’کسی باپ نے اپنی اولاد اچھے ادب سے افضل عطیہ کوئی نہیں دیا(ترمذی شریف )۔
قارئین کرام! اولاد میں لڑکا اور لڑکیاں دونوں ہوتے ہیں۔ دونوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایک کی تعلیم وتربیت ہو، دوسرے کی طرف سے لاپرواہی ہو۔ لڑکوں کو اعلی سے اعلی تعلیم دلائی جائے۔ لڑکیوں کو تعلیم وتربیت سے کورا رکھا جائے، ایسا کرنا ظلم ہوگا جو اللہ کو بالکل پسند نہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جس کے ہاں لڑکی ہو، پس اس نے اس سے زندہ دفن نہیں کیا اور لڑکے کو لڑکی پر ترجیح نہیں دی تو اللہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا (ابودائود )۔اولاد سے پیار کرنا ،اسے چاہنا یاعزیز رکھنا حدیث سے ثابت ہے لیکن اصل پیار ومحبت یہی ہے کہ ان کی دنیا وآخرت سنوارنے اور بنانے والی تعلیم وتربیت کردی جائے۔ان کے ساتھ حقیقت میں یہی رحم دلی اور یہی شفقت ہے کہ انھیں اخلاق و آداب سے آراستہ کردیا جائے ۔
 رابطہ۔ اچھہ بل سوپور ،حالامام وخطیب مرکزی جامع مسجد ملک صاحب صورہ سرینگر 
موبائل نمبر۔ 7006826398
 

تازہ ترین