تازہ ترین

کسان بل کے خلاف جموں میں احتجاج کا تیسرا دن | کانگریس نے بل کو واپس لینے کے مطالبہ میں شدت لائی

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//جموں ڈویژن کے بشناہ علاقوں کے سیکڑوں کسانوں نے پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے دو فارم بلوں کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔احتجاج پی سی سی سکریٹری ششی شرما  اور چیف وہپ ایم سی جموں دوارکا چودھری  اور کسان کانگریس کے چئیر مین گھارو رام کی سربراہی میں کیا گیا۔ مظاہرین نے کسان مخالف بلوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین جے کے کسان کانگریس گھارو رام کی سربراہی میں ضلع کسان کانگریس بشناہ یونٹ نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔گھارو رام نے ، ’ستیہ آ گرہ‘ کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی ریاست جموں و کشمیر میں کسانوں کو کافی پریشانی ہے،اُس پر کسان مخالف بل کے ذریعہ مزید تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ گھارو نے کہا ، کہ کسانوں کی آمدنی اور پیداوار کی قیمت کا براہ راست کنٹرول بڑے کارپوریٹ گھروں کے ذریعہ کیا جائے گا جن کا کسانوں سے کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کے فیصلے پر کوئی رابطہ اور کنٹرول نہیں ہوگا۔احتجاجی مظاہروں نے کہا کہ ان کی منڈی کا پیداوار خرید و فروخت کا نظام مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور کسان اپنی فصلوں کی پیداوارکارپوریٹ ہائوسوں کی مرضی کے قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ کھیتی باڑی کی زمین پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے اور ان کی روزگار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں ۔ مشتعل کسانوں نے کہا ، کہ حکومت کسانوں کو اپنی فصل کارپوریٹ سیکٹر کو فروخت کرنے کیلئے مجبور کرے گی، اور ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے ہیں۔