اردو کونسل کی طرف سے آن لائن تحریری اردو مضمون نگاری مقابلہ | شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلاب کوانعامات سے نوازا گیا

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//اردو کو جموں کشمیر کی روح قرار دیتے ہوئے ماہرین تعلیم ،صحافیوں اور ادب نوازوں نے کہا کہ مرکزی زیر انتظام والے اس علاقے میں80فیصد آبادی اردو زبان بولتی ہے،جو کہ مختلف خطوں کے لوگوں کے درمیان پل کی حیثیت کام کرتی ہے۔سرینگر میں جموں کشمیر اردو کونسل کی طرف سے آن لائن تحریری اردو مضمون نگاری ’’ اردو زبان ہماری ضرورت‘‘مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلاب کو انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔تقریب پر پرنسپل سیکریٹری اسکول ایجوکیشن و سِکل ڈیولپمنٹ ڈاکٹر اصغر حسن سامون مہمانِ خصوصی تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں روزنامہ سرینگر ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر، پروفیسر نذیر احمد ملک، وحشی سید، جی این وار اورجوائنٹ ڈائریکڑ ایجوکیشن عابد حسین شامل تھے۔ اردوکونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال نے صداری خطبے کے دوران اردو زبان کے ماضی ،حال اور مستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے اس زبان کی نسلی وابستگی کو اجاگر کیا۔ اردو زبان کے ماہر اور کشمیر یونیورسٹی اور سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے سابق سربراہ شعبہ اردو پروفیسر نذیر احمد ملک نے کہا کہ جموں کشمیر میں فی الوقت80فیصد لوگ اردو سے آشنا ہے اور مختلف خطوں میں اردو ہی واحد رابطے کی زبان ہے۔انہوں نے کہا’’ جمہوریت کے سب سے بڑے ایوان میں اردو زبان کے حوالے سے جو اعداد شمار پیش کئے گئے وہ صیح نہیںہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ایک صدی تک بھی جموں کشمیر میں اردو زبان کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔معروف صحافی اور سرینگر ٹائمز کے مدیر اعلیٰ بشیر احمد بشیر نے کہا کہ اردو زبان زوال پذیر نہیں ہو رہی ہے اور آئندہ50برسوں تک بھی اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا کہ وقت کی پکار ہے کہ لوگ ہر ایک زبان سے آشنا ہوںاور زبانوں کو حکومت فروغ دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اردو زبان کا اپنا ایک مقام ہے‘‘۔آن لائن تحریری اردو مقابلہ کے لئے کشمیر اور جموں صوبوں کے آٹھویں جماعت سے بارہویں تک کے سرکاری اور پرایوئٹ اسکولوں کے بچوں اور دینی مدارس میں زیر تعلیم بچے شامل ہوئے۔ ہایفہ سجاد ساکن راول پورہ سرینگر (میلنسن گرلز اسکول، سرینگر) نے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے جبکہ حاجن بانڈی پورہ کی رضیہ سلطان (زوون اسلامک اسکول حاجن) نے دوسری پوزیشن اور گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری  اسکول سیر ہمدان کی طالبہ مہرو مظفر ساکن سیر ہمدان نے تیسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ یہ تینوں پوزیشنیں حاصل کرنے والے بچوں کو اردو کونسل کی طرف سے نقد انعامات کے علاوہ اسناد، مومینٹو اور کتابوں کے سیٹ مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں دئے گئے ۔اس کے علاوہ جن بچوں کو  اعزازی (کنسولیشن) انعامات بصورتِ نقدی، اسناد و کتب دئے گئے ان میں میر اسرار ، سرینگر (اقبال میمورئل انسٹیچوٹ)، ضحٰی پرویز اسلام آباد (ریڈینٹ پبلک اسکول)،ابرار نبی راتھر اور میر صہیب اللہ گاندربل (ہل ٹاپ اسکول)، شافعیہ لطیف رام بن (گورنمنٹ ہائر اسکینڈری ا سکول قصابان جموں)، راشد منان باغِ اسلام بارہمولہ (گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول بارہمولہ)، امریزہ عاشق کے۔ پی۔روڑ اسلام آباد (ریڈینٹ پبلک اسکول)، کرامت کامران ددرہامہ گاندربل(ہل ٹاپ اسکول)، مسکان شبیر بیجبہاڑہ (گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول بیجبہاڑہ) اور سیدہ سیرت گیلانی اوڑی(نورالعلوم اسکول بونیار) شامل ہیں۔ تقریب پر سہیل سالم کی کتاب کشمیر کی خواتین افسانہ نگار بھی اجرا کی گئی۔ اس سے قبل اردو کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال نے مہمانوں کا استقبال کیا اپنے خطبہ استقبالیہ میں انہوں نے اردو کے تعلق سے موجودہ منظر نامے پر بات کی اور کونسل کی کاوشوں کا خلاصہ پیش کیا۔تقریب پر نظامت کے فرائض جاوید ماٹجی نے انجام دئے جبکہ شکرانہ کی تحریک سید جاوید کرمانی نے پیش کی۔اس موقع پر پرایوئٹ اسکولز ایسو سی ایشن کے صدر نشین انجینئر جی این وار نے بچوں کو دی جانے والی انعامی رقم کے لئے ایسوسی ایشن کی طرف سے دس ہزار روپے پیش کئے۔ یاد رہے کہ اس تقریب پر صرف تیرہ پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو انعامات وغیرہ دئے گئے جبکہ باقہ ماندہ بچوں کو اپنے اپنے اضلاع میں متعلقہ چیف ایجوکیشن افسران کے ہاتھوں یہ اسناد الگ الگ تقاریب پر دی جا رہی ہیں جس کے لئے انہیں انفرادی طور مطلع کیا جائے گا۔ جموں کشمیر اردو کونسل نے اس سال جون میں بچوں سے اس تحریری مقابلے میں شرکت کے لئے مضامین طلب کئے تھے۔ بچوں سے کہا گیا تھا کہ وہ تین سو سے ساڑھے تین سو الفاظ پر مشتمل مضمون '' اردو زبان۔۔۔ہماری ضرورت'' کے عنوان سے تحریر کریں اور اسے ای میل کے ذریعے کونسل کو ارسال کریں۔ چنانچہ موصول شدہ مضامین کی مکمل جانچ اور درجہ بندی کے بعدتحریری مقابلہ میں 60 فیصد اور اس سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے شرکاء کو اساتذہ کی اسی پینل کے سامنے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے زبانی مقابلہ کے ایک اور مرحلے سے گزارا گیا تاکہ ان کی طرف سے ارسال کردہ مضامین کے مشمولات کے بارے میں ان کی جانکاری کا پتہ لگایا جاسکے جس کے بعد تحریری اور زبانی مقابلوں میں حاصل شدہ نمبرات کو ملاکر حتمی پوزیشنوں کا تعین کیا گیا۔
 

تازہ ترین