پہلی ویکسین کوروناکو کنٹرول نہیں کر سکے گی: سائنسدان

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


لندن//سائنسدانوں نے برطانوی وزیروں کو خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی ویکسین صرف علامات کو کم کر سکتی ہے تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ ویکسین لوگوں کو بیماری سے بچا سکتی ہے۔عرب نیوز کے مطابق دی ٹائمز اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کے سائنٹفک مشیر اس کی باقاعدہ منظوری کی امید کر رہے ہیں تاہم کورونا وائرس کی پہلی ویکسین صرف جزوی طور پر ہی موثر ہوگی۔ویکسین سے متعلق عوام کی آگاہی کے لیے سائنسدان مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔انگلینڈ کے چیف میڈیکل افسر کرس وٹی نے اس سے قبل کہا تھا ’اس صورتحال میں سائنس ہی بچاؤ کے لیے سامنے آئے گی لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی ویکسین ہر کسی کو بچائے گی۔‘تاہم ابتدائی ویکسین شدید بیماری کے خطرے کو کم کرسکتی ہے اور حساس گروپس میں اموات کو بھی کم کرسکتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ کے ویکسین بنانے والے ایک گروپ اور آکسفورڈ ویکسین گروپ نے کم از کم 50 فیصد تحفظ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ویلکم ٹرسٹ میں ویکیسن کے شعبے کے سربراہ چارلی ویلز نے اخبار کو بتایا ہے ’ممکنہ طور پر پہلی ویکسین کا محدود اثر ہوگا۔ اس کے ساتھ انفیکشن کو کنٹرول کرنے کے دیگر حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔‘چارلی ویلز کے مطابق ’بہت ساری امیدیں ہیں، قابل فہم، باقی ویکسین پر انحصار کرنا کہ یہ ایک حیرت انگیز دوائی ثابت ہوگی اور زندگی بھر مدافعت دے گی اور ہمیں واپس اگلے روز معمول کی زندگی پر لے آئے گی، لیکن یہ بہترین حل نہیں ہوگا، یہ ایک مشکل صورتحال کے لیے آسان حل نہیں ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم 50 فیصد موثر ویکسین حاصل کر لیں، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ایسی ویکسین حاصل کریں جو بیماری سے بچا سکے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کو نہ روک سکے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسی ویکسین بھی حاصل کرسکتے ہیں جو زیادہ بالغ افراد کے لیے محفوظ ہو لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ہر کسی کے لیے نہ ہو، جیسے وہ زیابطیس، دمہ یا دیگر امراض میں مبتلا ہو۔
 

تازہ ترین