تازہ ترین

نمک

کہانی

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ناصر ضمیر
"جی یہ آپ کی امانت "
اس نے ڈائیری ہاتھ میں لی اور پہلا صفحہ پلٹا 
"ہیلو باواری میں پال تمہارا ڑاں پال،
کیسی ہو ؟"
یاد ہے جب میں نے اپنے ہونٹ تمہارے گرم نازک اور پتلے ہونٹوں پر رکھنے چاہے تو تم نے اپنا بایاں  ہاتھ درمیان میں حائل کرکے میرے منہ پر رکھا اور مجھے روک دیا . کیا تمہیں یاد ہے  ؟
اورتم نے اچانک سے کہا 
"کیا تم مجھ پر کوئی کہانی لکھو گے ؟"
"کیا مطلب ؟"
میں نے حیرانگی سے پوچھا 
"اچھا چلو کہانی نہ لکھو ،  کم سے کم مجھے کسی کردار میں ڈھال تو سکتے ہو۔"
"یہ کیا سوجھی آج تمہیں؟" 
میں نے حیرت سے پوچھا تھا
"کہو کرو گے نا ایسا؟" 
تم نے ضد کی۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ ایسا ہی کروں گا اب خوش!" 
"او پال تم کتنے اچھے ہو۔۔۔۔۔۔"
میں نے پھر تمہارے نرم و نازک ہونٹوں پر اپنے سلگتے ہونٹ رکھنے چاہے تو تم نے پھر مجھے روک کر کہا 
"پر میری ایک شرط ہے "
"بھلا کیسی شرط ؟ "
"بتاتی ہوں بتاتی ہوں ،
اس بار تم کچھ نیا لکھو گے "
"نیا! 
ہاں نیا" 
"میں کچھ سمجھا نہیں "
"میرا مطلب بالکل نیا جو۔۔۔ یا جیسا ابھی تک کسی نے نہیں لکھا ہو۔۔۔۔۔۔"
اووووہ
"کیا تمہیں لگتا ہے میں بُرا لکھتا ہوں۔۔۔"۔میں نے معصومیت سے پوچھا 
"ہاں۔۔۔۔بالکل "
"کیا کہا ؟"
میں بھڑک اٹھا 
"اس میں غصہ ہونے کی بات نہیں، یہ سچ ہے "
"تم ہی نہیں بلکہ تم سب بُرا لکھتے ہو، تم سے پہلے جو تھے انہوں نے بھی اور جو شاید تمہارے بعد آئینگے وہ بھی۔۔۔تم سب ایک دوسرے کے لکھے ہویئے کو دوبارہ۔۔۔۔۔بلکہ دوبارہ ہی نہیں  بار بار لکھتے ہو۔ تم سب کا لکھا ہوا ایک دوسرے کی کاپی ہے۔ ہاں یہ سب ایک دوسرے کی کاپی ہے۔
 ہر دفعہ پڑھکر کر لگتا ہے کہ پہلے بھی کہیں  پڑھا ہے "۔
میں حیراں، پریشاں تمہیں دیکھتا رہا۔ پہلے مجھے لگا تم مذاق کر رہی ہو ،پر بعد میں محسوس ہوا نہیں تم  بالکل سنجیدہ ہو ۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا۔
پھر تم نے کہا"۔۔تمہیں یاد ہے نا
پھر تم نے کہا 
"تم سب کے لکھے ہوئے میں کوئی سواد نہیں۔۔۔۔۔ کوئی ذائقہ نہیں۔ سب بد مزہ ہے۔ ایک دم بد مزہ۔۔۔۔ ان سب میں "وہ" ہے ہی نہیں۔"
"وہ کیا ؟ "
میں نے اشتیاق سے نہ صرف پوچھا بلکہ میں لگ بھگ چلّایا ۔
"وہ کیا کہتے ہیں اسے"  نمک"۔۔۔۔۔۔اس میں نمک  ہے ہی نہیں۔۔۔"
"ایک وعدہ کرو"۔۔
"۔کیسا وعدہ؟" میں ہڑبھڑایا۔۔۔
"تم جب مجھ پر کہانی لکھو گےیا مجھے کسی کردار میں ڈھالو گے تو تم بے ذائقہ اور بد مزا نہیں لکھو گے بلکہ تم اس میں وہ ’’نمک‘‘ بھی لانا۔ سمجھے نا۔  وہ نمک بھی لانا
وعدہ کرتے ہو نا"
۔۔۔۔۔میں کچھ سمجھ ہی نہیں پایا  اور میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔
"۔۔وعدہ۔"
اور۔۔۔اور تم چلی گئیں۔میں بہت دیر تک ایسے ہی مبہوت رہا ایک دم حیراں و پریشاں۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا تھا میں گھر گیا کمرے میں رکھی کتابیں کھنگالنے لگا کچھ کہانیاں پھر ایک بار پڑھیں۔۔۔تمہاری کہی ہوئی باتیں کچھ کچھ سچ لگنے لگیں۔ دوسرے دن لائبریری گیا کچھ اور کتابوں کی ورق گردانی کی۔اب تمہاری کہی ہوئی باتیں اور بھی سچ لگنے لگیں۔۔۔میں اس بات پر حیراں تھا کہ ایک خوبصورت دوشیزہ  جو اتفاق سے میری محبوبہ بھی ہے، نے دنیا میں  تخلیق کیے گیے ادب پر سوال اٹھایا ہے اور اسے ایک دوسرے کا چربہ بتایا۔۔۔۔۔میں سوچنے لگا کہ تم زیرک زیادہ ہو یا پھر شاطر۔۔۔۔۔کہیں تم نے مجھے الجھائے رکھنے کیلئے کوئی دہائو تو نہیں کھیلا۔تاکہ میں تمہارے پاس نہ آ سکوں یا تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا نہ بنا سکوں۔کہیں تم مجھ سے پیچھا تو نہیں چھڑانا چاہتی ہو۔
میں کوئی فیصلہ نہیں کر پارہا تھا  پر  مجھے اپنا وعدہ یا د آیا۔۔۔۔ وعدہ ہاں وعدہ۔۔  میں اکثر تم سے کہا کرتا تھا "محبت میں ایک وعدے پر عمریں گزاری جاسکتی ہیں "۔ اسی لیے  میں۔۔۔ہاں میں نکل پڑا۔۔نکل پڑا کہانی کے نمک کی تلاش میں ایک انجانے سفر پر ۔۔۔۔بے سمت سفر پر۔۔۔بنا سوچے بنا سمجھے۔۔۔ بنا جانے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔۔۔بس نکل پڑا۔
میں چلتا گیا۔۔ریل، بس، ٹیکسی یا پھر پیدل۔۔۔بس چلتا ہی گیا۔مجھے وہ کہانی یا پھر وہ کردار چاہیے تھا جس  میں تم ڈھل سکو اور حیاتِ جاوداں پاسکو۔  جس میں ، میں تمہیں  تمہاری  مرضی کے مطابق الفاظ میں قید کر سکوں اور وہ قید ابدی ہوتی۔
موسم بدلے، رت بدلی ، وقت کا کانٹا دوڑتا رہا ،بھاگتا رہا ،فصلیں بوئیں گئیں اور کاٹی گئیں۔۔پھربوئیںگئیں۔۔۔۔پھر کاٹی گئیں۔۔پر۔۔۔پر۔۔۔۔ میرےپیر نہیں رکے۔۔۔میں تلاش میں رہا۔ہر وقت،ہر لمحہ،بس محوِ جستجو ۔
تم یاد آتی رہی، تمہارا حسن اور تمہاری آنکھیں۔نیلی بڑی بڑی گہری آنکھیں ،  جن میں،  میں  سر تا پا  ڈوب چکا تھا۔ گول بھرا ہوا سفید چہرہ۔ خوبصورت ستواں ناک، تیکھے نقوش، مناسب قد و قامت اور اس پر سنہرے لمبے بال جو عموماً چوٹی کی شکل میں تمہاری کمر پر جھولتے رہتے۔ بے حد پُر کشش بدن اُف۔۔۔۔۔۔کئی بار چاہا کہ اپنی قسم توڑ کر آؤں،تم سے معافی مانگو اور کہوں کہ میں اپنا وعدہ پورا نہ کرسکا۔مجھے معاف کردو اور اپنے قدموں میں جگہ دو۔پر۔۔۔۔۔پر ۔۔۔۔۔میرے اندر کے کہانی کار نے ہمت نہ ہاری اور میں نے اپنی تلاش جاری رکھی کہ کہیں نہ کہیں  کبھی نہ کبھی  مجھے۔۔۔۔
اور یہ سب کرتے کرتے  میں آلام اور مصائب کی تصویر بنتا گیا۔ اذیتوں اور مصیبتوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی داستاں۔
تمہیں پتا ہے ایک دن  میں بھوکا تھا کہ کسی نے کتے کو روٹی ڈالی۔۔یقین جانو  کتے اور میں نے روٹی ساتھ میں کھائی۔۔۔
جانور انسان کی طرح خود غرض نہیں ہوتے۔
ایک رات۔۔ہاں ایک رات  کچھ زیادہ ہی اندھیرا تھا نہ جانے کیوں  مجھے ڈر لگا۔ بے حد ڈر , میں نے ایک بنئے سے ایک رات کی پناہ مانگی تو اس نے مجھ پر ترس کھا کر مجھے اپنے گودام میں رہنے دیا اور باہر سے تالا چڑھایا اور خود گھر چلا گیا۔ مجھے لگا سڑک پر سونے سے بہتر ہے کہ چار دیواری میں رات کاٹی جائے  پر۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا وہ رات قیامت کی رات ہوگی۔ اس گودام میں بڑے بڑے چوہے تھے، بہت سارے بڑے بڑے چوہے جو مجھے دیکھ کر ہر بڑائے اور مجھے رات بھر دوڑایا ،بھگایا اور میں بند گودام میں کانپتا رہا چیختا رہا۔ چلاتا رہا ۔
 ایک۔۔برستی رات، بھیگتی رات میرے اوپر کوئی  چھت نہ تھی۔ میرے پاس صرف ایک اخبار کیچن د پنے تھے اور ان گیلے اخبار کے  پنوں تلے میں  بھیگتا رہا۔۔۔۔بھیگتا رہا  اور تمہیں یاد کرتا رہا۔۔۔۔۔۔یاد کرتا رہا کہ جب میں نے تمہاری ہتھیلی پر پہلی بار تازہ گلاب چمکایا تھا اور تم شرما گئی تھی۔
میں جب بھی زیادہ تکلیف میں ہوتا تو تمہیں اور شدت سے یاد کرتا اور تم کو تصّور کی آنکھ سے دیکھ لیتا۔ دن کی چلچلاتی دھوپ میں دو پہر کو جب سارے  ماحول پر اونگ طاری ہوتی تو مجھے یہ خیال آتا کہ تم اس وقت میوزک کلاس میں  سنگیت سیکھ رہی ہوگی ۔ کوئی راگ چھیڑا ہوگاتم نے۔ لمبی تان لی ہوگی اور الاپ کی مشق سے تمہارے گالوں پر سرخی چھائی ہوگی۔
یا پھر کسی سرمئی شام کو خیال آتا کہ تم اس وقت ڈانس کلاس میں نرت سیکھ رہی ہوگی نئے سٹپ، نئے انداز۔۔۔۔کچھ نئے ٹھپ نئے ڈھنگ۔ تمہاری کمر پر سنہرے بالوں کی لمبی چوٹی بھی تمہارے قدموں کی  تھرکن  کا ساتھ دے کر مزید جھول رہی ہوگی۔چہرے پر رس کے کئی بھاؤ مچل رہیں ہونگی اور اس جسمانی مشقت سے تمہاری سانسیس پھول گئیں ہونگیں، ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی ہونگیں۔
میں جب  بھوکا ہوتا اور بھوک میری برداشت سے باہر ہوتی تو میں۔۔ میں وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔قلفی یاد کرتا جو ہم ساتھ ساتھ  کھاتے اور اکثر کھاتے کھاتے میں  آپس میں پیالیاں بدل دیا کرتا اور ایسے  میں،میں  تم سے اکثر کہتا  کہ" ایک دوسرے کا جھوٹا کھانے سے محبت بڑھتی ہے۔۔"
باواری تم یہ سوچ رہی ہوگی کہ میں تم سے کیا ہوا وعدہ شاید بھول گیا۔۔نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔۔ذرا بھر بھی نہیں۔۔۔۔۔ رتی بھر بھی نہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ میں نے کئی بار کوشش کی کہ ایسا لکھوں جو پہلے کسی نے نہ لکھا ہو۔ بالکل نیا , اوروں سے الگ۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔پر؟ تم تمہارا حسن یا میرا عشق یا پھر یوں کہوں کہ ہماری محبت کسی کہانی میں ڈھلتی نظر نہیں آرہی ہے۔۔۔۔کچھ نہیں ہوپایا اب تک۔۔۔۔۔وقت بھی تیزی سے گزر رہا ہے اب مجھے نئے نئے شکوک وشبہات نے گھیر لیا ہے کہ کہیں۔۔۔کہیں تم نے میرے انتظار میں ہار تو نہیں مان لی ہوگی اور تھک ہار کر کسی سے شادی تو نہیں کر لی ہوگی۔ کہیں تم دو خوبصورت بچوں  کی ماں تو نہیں۔ کیا پتہ تمہارا شوہر۔۔۔اُف۔۔۔۔۔میں ایسا سوچتے ہوے بھی گھبرا جاتا ہوں۔
ہاں تو میں اس رات کاذکر کر رہا تھا، اسی رات کا کہ جس رات میں اخبار کو چھتری بنائے بھیگ رہا تھا۔ رات کو سردی اتنی زیادہ بڑھی کہ صبح ہوتے ہوتے میں بے ہوش ہو گیا  پھر جب ہوش آیا خود کو ایک بیڈ پر پایا وہ اناتھ آشرم کا کمرہ تھا، جس کے نگراں  نے  از راہِ انسانیت مجھے یہاں لایا تھا ۔ ساری سکت جواب دے گئی ہے۔کھانسی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ابھی بھی یہیں پڑا ہوا ہوں پر بہت جلد یہاں سے بھی نکل جاؤں گا۔ابھی  ہمت اور طبعیت نے جواب جواب۔۔۔۔
 پر یہاں سے تو جانا ہی پڑے گا۔
باواری تم مایوس مت ہو ۔
نئے موسم کی آمد ہے،کونپلیں پھر پھوٹ آئی ہیں ,تازہ بہار  آنے والی ہے۔
باواری وقت کتنا گزرا ہے مجھے یاد نہیں پر ایک خوش خبری سنانی ہے تمہیں۔  تم کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ میں نے وہ کہانی لکھ لی ہے، جس کی تمہیں خواہش تھی اور تم ایک عظیم کردار میں ڈھل چکی ہو ۔"اب تو خوش ہو نا ؟"
وہ پڑھتے پڑھتے رک گئی کیونکہ ڈائیری میں اتنا ہی لکھا تھا  آگے کے صفحات بالکل خالی تھے  اسی وقت دروازہ کھلا اور
" لاش"۔
گھر کے ملازم نے  باواری سے کہا
" چلیے آجایئے میڈم 
کیا آپ مسٹر ڑاں پال کی لاش لیجانے کے لیے تیار ہیں ؟۔"
 
���
جلال آباد سوپور کشمیر 193201
موبائل نمبر؛9419031183،7780889616