تازہ ترین

’مہنگا علاج‘‘

افسانچہ

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


غازی سہیل خان
کلینک پر مریضوں کا بڑا رش تھا.ڈاکٹر پانڈے اپنے کمرے میں مریضوں کا ملاحظہ کرنے میں مصروف تھے۔شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہو رہا تھا۔  ڈاکٹر پانڈے عینک کو سر پہ رکھ کر اپنی جیب سے رومال نکالتے اور ماتھے  سے پسینہ پونچھتے رہتے . اتنے میں کلینک کا ایک ملازم’’ وکاس‘‘ اندر آیا اور بولا
"ڈاکٹر صاحب ابھی بہت سارے مریض ہیں۔ "
 ڈاکٹر نے’ ہوں‘ کرتے ہوئے پوچھا:
"  کیا ہمارا ٹارگٹ چار بجے تک پورا ہوگا؟" 
" ضرورڈاکٹر صاحب' بس یہ آپ کی ماہرانہ پھرتی پر مدار رکھتا ہے۔ "
"ارے وکاس۔۔۔!رفتار تو تیز ہی ہے 'دیکھتے نہیں ہو دوائیوں کی قیمت کتنی زیادہ ہے۔ میرے خیال میں تو چار بجے سے پہلے ہی ہمارا ٹارگیٹ پورا ہونا چاہے۔!!!"
"ڈاکٹر صاحب کیا فرق پڑتا ہے اگر چند اور مریضوں کا ملاحظہ ہو جائے!"
 " اے وکاس آپ کی عقل کو کیا ہوا ؟   اتنے سالوں سے تم لوگ میرے ساتھ کام کررہے ہو ؟ تم کو پتہ نہیں مجھے آگے جواب دینا ہے ؟"
"جواب دینا ہے آخر کس کو ڈاکٹر صاحب!"
" ارے کم عقل انسان دواساز کمپنیوں کو اور کس کو، جو اتنی محنت کر کے ہی یہاں دوائی پہنچاتے ہیں !!!!"
"جی ہاں ڈاکٹر صاحب سمجھ گیا۔ اب تو دوائی اور علاج بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ "
 "ہاں وکاس ، جس کو جان پیاری ہوگی وہ کچھ بھی کرکے اپنا علاج تو کرائے گا'تاہم ہمیں بھی اپنا ٹارگٹ مکمل کرنا ہے اور جن مریضوں کا نمبر آج نہیں آئے گا۔اْنکو کل کا نمبر رکھو۔ "
  جی سر کہتے ہو ئے وکاس چلا گیا اور اگلا مریض اندر بھیج دیا۔ ابھی مریض اپنی بیماری کے متعلق بتانے ہی والا تھا کہ اچانک ڈاکٹر پہ بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ مریض دوڑتے ہوئے باہر نکل آیا اور وکاس کو ڈاکٹر کی بے ہوشی سے متعلق کہا۔ وکاس یہ سن کر چیمبر میں چلایا اور اندر آتے ہی ڈاکٹرکو پانی پلایا۔ ڈاکٹر پانڈے تھوڑا بہت سنبھل گیا تو وکاس نے پوچھا:
" ڈاکٹر صاحب خیریت تو ہے۔کسی دوائی کی ضرورت تو نہیں ہے۔ہمارے پاس تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کی دوائیاں ہیں؟ اپنی اس معمولی سی بے ہوشی کا علاج آپ کے پاس ناممکن تو نہیں ہے۔ "
 ڈاکٹر نے نیم بے ہوشی میں سرد آہ بھرتے ہوئے کہا:
’’وکاس میرا علاج بہت مہنگا ہے...!"
٭٭٭
ghazisuhail09@gmail.com
 

تازہ ترین