تازہ ترین

’’حُکم کی تعمیل ہو‘‘

کہانی

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ایف آزادؔ دلنوی
صاحب اُدھیڑ عمر میں قدم رکھ چکے تھے مگرتیور۔۔۔۔ہاں تیور۔ایک بیس بائیس برس کے نوجوان کے جیسے۔مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ کسی کی بات خلاف توقع گزرتی تو شیر کی طرح غُرا اُٹھتے یا یوں سمجھئے کہ جیسے شیر شکار پر جھپٹ پڑا ہو۔اُس کی طرف ہاتھ لپکاتے ہوئے کہتے۔
’’بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔enough۔۔۔!!! ‘‘
پھر ایسے گھورتے کہ مخاطَب کی روح لرز اُٹھتی۔بے چارا دبک کر بیٹھ جاتاکچھ توقف کے بعد صاحب کہتے۔
’’دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا ۔‘‘
 وہ آنکھ نیچی کر کے جب حامی بھرتاتو صاحب منہ کو ایسے موڈدیتے جیسے پھر کی گھومنے لگی ہو۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعداُس کے کندھوںپرتھپکی دیتے ہوئے زور زور سے ہنس دیتے۔ایسا لگتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مخاطب صاحب کے کھلکھلا کر ہنسنے پرپسینے پسینے ہوجاتا اور چپ چاپ بیٹھے رہتا ۔ پھرجب صاحب کے ہاتھ تھپکی دیتے ہوئے تھک کر زانو پر رک جاتے وہ جانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوجاتا ۔تو صاحب کہتے ۔
’’بیٹھے رہو۔‘‘
اورپھرپہروںیک طرفہ گپیںمارتا۔مخاطَب سنتا۔۔۔۔۔بس سنتا ہی جاتا۔ صاحب ایک بات کئی مرتبہ دہرا تے اور بیچ میں کسی کو بولنے کی اجازت نہ دیتے، اگرکوئی جرات کرکے کسی نکتے کی وضاحت کرنے کو کہتا تو صاحب بھڑک کر بول اُ ٹھتے۔
’’No Argue۔ میں آفیسر ہوں۔میں اس کرسی کا راجہ ہوں ۔تم چپ چاپ سنتے رہو۔‘‘اور پھر بولتے ہی جاتے۔ جب منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی تو صاحب تھکاوٹ محسوس کرتے پھر ماتحت ملازم سے کہتے۔
’’مجھے اکیلا چھوڑدو۔‘‘اور الگ تھلگ ہوکر سوچوں میں گم ہوجاتے۔
 کچھ دیر کے بعد ڈیننگ روم میں چلے جاتے۔پھر سب کو بلوا لیتے اور سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔دو تین نوالے منہ میں ڈال کر جب کچھ پھرتی آجاتی توپھربولنے لگتے اور بے حسی میں سبزی ‘ترکاریاں‘ دہی جو کچھ ٹفن میں ہوتاایک ایک چمچ سب کوڈالتے ہوئے تقریباََ ختم ہی کر دیتے۔ یہ دیکھ سب اپنے ٹفن کھول کر سامنے رکھ دیتے اور وہ من پسند سبزی ڈال کر کھانا کھا لیتے ۔صاحب پارٹی میں دیئے جانے والے کھانوں کے بہت شوقین تھے اور انھیں گوشت سے بے حد لگائو تھااس تعلق سے صاحب نے زبانی حکم دیتے ہوئے کہا۔
’’ہفتے کی ہر سنیچر کومٹن پارٹی ہوا کرے گی۔‘‘
اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں جتایااور سال بھر پارٹیوں کا اہتمام ہوتا رہا۔ایک مرتبہ صاحب نے حکم نامے میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ۔
’’اب مہینے کی آخری سنیچر کو پارٹی ہوٹل میں ہوا کرے گی۔اور جب آخری  سنیحر وار کو وہ ہوٹل میں جانے کے لئے اُٹھے توکچھ ماتحت ملازموں نے حیلے بہانے بنا لئے۔کسی نے کہا۔
’’پیٹ میں درد ہے۔‘‘کسی نے کہا’’گھر میں ضروری کام ہے‘‘۔
اس طرح کچھ ملازم پارٹی میں شامل نہ ہوئے۔ صاحب نے بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیا۔وہ ہوٹل میں چلے گئے ۔ہوٹل والے نے سارے انتظامات کر کے رکھے تھے۔ جوں ہی کھانا پروسا گیاتو عین اسی وقت پارٹی میں وہ ملازم بھی آدھمکے جو اسکا حصہ نہ تھے۔ہوٹل چونکہ پاس میں ہی تھا، انھوں نے سوچا کہ صاحب کو ایک نظر دیکھ آتے ہیں۔ صاحب بسم اللہ کررہے تھے کہ اُن کی نظریں ان لوگوں پر پڑ گئیں۔وہ کچھConservative قسم کے تھے ۔کھاناکھاتے وقت کسی کی نظریں  ان پر پڑھ جاتیںتو  انھیں برا لگتا۔وہ اکثر کہتے تھے کہ کھانا پردے میں کھانا چاہئے، اسی لئے انھوں نے ہوٹل میں ایک روم بک کیا تھا۔اب وہ ملازم کھڑے کھڑے جائزہ لے رہے تھے اور صاحب اندر ہی ا ندر اسٹیم انجن کی طرح گرم ہورہے تھے اور پھر اچانک بھڑک اُٹھے۔ ہاتھ ایسے گھومائے کہ ٹیبل پررکھے سارے گلاس نیچے پٹخ کر چکنا چور ہوگئے آستیں اُوپر کھینچ لیں،جیسے کُشتی کے میدان میں اُترنا ہو۔اُنھیں خوب کھری کھوٹی سنائی۔وہ ملازم آنکھ جھپکنے میں وہاں سے چلے آئے۔ سب حیرت زدہ ہوکر صاحب کو دیکھتے رہے۔ جو کچھ دیر کے لئے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ غصہ ٹھنڈا ہوگیاتو ملازموں سے کہا۔
’’کھانا کھا لو۔‘‘
پھر ہنستے مسکراتے ہوئے ہوٹل سے ایسے نکلے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔
اُس مرتبہ وہ لان میں اکٹھے بیٹھے تھے جب ایک ملازم کو ڈیوٹی پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔وہ تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے آئے اور بپھرتے ہوئے لہجے میں بولے
’’مسالہ صاحب ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے دیر ہوگئی۔‘‘
یہ سنتے ہی صاحب کے  منہ سے ہنسی ایسے پھوٹی کہ اغل بغل میںموجود ملازموں کو لگاکہ جیسے کسی بڑے غبارے سے ہوا نکلی ہو۔صاحب تقریباََ دس منٹ تک ہنستے رہے اور وہ ملازم شرمندہ ہوکربت کی طر ح ایک جگہ ساکت ہوگیا۔پھر جب ہنسنے کی رفتار دھیمی ہوگئی تو دائیں بائیں دیکھ کرکہا ۔
’’سب ملازم میرے روم میں آجائیں۔ایمر جنسی میٹنگ ہے ۔‘‘
اور ملازم چند سکینڈوںمیں روم میں اکٹھے ہوگئے ۔صاحب بولے
’’دیکھئے تو، کیا گل کھل رہے ہیں۔ آپ کے بولنے میںتلفظ کا فقدان ہے یہ لفظ مصالح ہے۔چونکہ تلفظ کی کمزوری سامنے آئی ہے اس لئے میں یہ حکم جاری کرتا ہوںکہ کل سے روزانہ سب ملازم تلفظ سیکھنے کے لئے کلاس اٹینڈ کریں۔یہ سنتے ہی ملازم منہ لٹکائے ہوئے سوچوں میں گم ہو، پھر کچھ دیربعد تاخیرسے آنے والا ملازم بولا۔
’’صاحب میں نے تلفظ سیکھنے کے لئے ایک ماہ کا کورس پہلے سے ہی کیا ہوا ہے۔‘‘
صاحب کرسی سے ایسے اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے کوئی زلزلہ آیا ہو۔اپنی کرسی گھماتے ہوئے بولے ۔
 ’’ میں اس کرسی کا راجہ ہوں اور حکم بھی میرا ہی چلے گا۔‘‘
ملازم گونگوں کی طرح نظریں جُھکائے بیٹھے رہے۔ صاحب دو تین قدم باہر کی طرف بڑھاتے ہوئے اچانک رک کر بولے ۔
’’اس نے ایک ماہ کا کورس کیا ہے ۔‘‘
پھر سب کو گھورتے  ہوئے کرخت لہجے میں بولے ۔
’’حکم کی تعمیل ہو۔‘‘
اور ٹھا ٹھا کر کے ہنستے ہوئے باہر چلے گئے۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847
 

تازہ ترین