نظم و ضبط کامیاب طرز ِ زندگی کی کلید

اپنے افکار و افعال میں فراموش نہ کریں

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


امتیاز خان
نظم وضبط کسی معاشرے کے قیام کی پہلی شرط ہے۔ انسان کی زندگی کو منظم، پُرسکون، کامیاب بنانے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں نظم و ضبط بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زندگی میں اس کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ نظم و ضبط کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا تصور ہی محال ہے۔زندگی میں اکثر پریشانیاں،مشکلات،محرومیاںاور ناکامیاں نظم وضبط کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ انسانی طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے ، وقت اور سرمایہ کو ضائع ہونے سے بچانے میں ڈسپلن کوایک منفرد مقام حاصل ہے ۔
نظم و ضبط کی متعدد تعریفیں بیان کی گئی ہیں۔بامقصد سرگرمیوں میں ترجیحات کی بنیاد پر لائحہ عمل کے تعین کو نظم و ضبط کہتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر نظم و ضبط تدبیر اور کام کی تقسیم اور مستقبل میں اسے انجام دینے کے فیصلے سے عبارت ہے۔ کام کی انجام دہی سے قبل تدبیر اور منصوبہ بندی آدمی کو پشیمانی سے محفوظ رکھتی ہے۔ انسان کو اپنی بقاء اور ارتقاء کیلئے قدرت کے مقررکردہ نظم و ضبط کی پابندی کرنا لازمی ہے۔انسان کی فکری تنظیم میں انفرادی اور اجتماعی رویوں کا اہم کردار ہوتاہے۔ آدمی جب اپنی زندگی کے افعال و کردار منظم کرتا ہے تو اس کی فکر بھی منظم ہوجاتی ہے اور جب فکر میں تنظیم اور نظم و ضبط پیدا ہوجاتا ہے تو انسان خدا کے فکری نظام کا حامل ہوجاتا ہے۔اپنے افکار و افعال میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہوئے آدمی نہ صرف اپنی زندگی میں خوشحالی کو مدعو کرتا ہے بلکہ معاشرے کو اپنے نظم و ضبط کے ذریعے تنظیم و ترتیب کی جانب مائل و راغب کرتا ہے۔
معاشرے میں رہتے ہوئے ہم پر دو قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔ ہمارا ہر فعل معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔اگر ہم کوئی برائی کرتے ہیں تو اس کے اثرات دوسروں پر ضرور مرتب ہوں گے اور اگر ہم کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو اس کے اثرات بھی دوسروں پر ضرور پڑیں گے۔کوئی قول یا فعل انفرادی طور پر کیا جائے یا اجتماعی طور پر اس کے نتائج معاشرے پر ضرور ظہور پذیر ہوں گے تو ایسے میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کے جذبات و احساسات کا احترام کریں اور ہمارا قول و فعل سوسائٹی کیلئے مفید ثابت ہو۔ اگر ہم معاشرے میں رہتے ہوئے کسی قانون اور ضابطے کا خیال نہیں کرتے تو اپنے لئے اور دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ ہم اصول و قوانین اور نظم و ضبط کی پاسداری کے بجائے اس کی خلاف ورزی کو فخر سمجھتے ہیںجس کی مثال معاشرہ اور اردگرد کے ماحول میں جابجا دیکھنے کومل سکتی ہے۔
 دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی ضابطے اور اصول کے تحت ہوتا ہے حتی کہ کائنات کا ہر ذرہ ایک قدرتی نظام سے بندھا ہوا ہے۔ آج جب ہم اپنے ماحول کا تجزیہ کرتے ہیں تو جو ہر طرف افراتفری کا ماحول نظر آتا ہے وہ نظم و ضبط کے نہ ہونے ہی کی وجہ سے تو ہے۔تربیت یافتہ قومیں ہنگامی حالات میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی اور حالات کو سنبھال لیتی ہیں۔ غیر تربیت یافتہ قومیں ایک بھیڑ یا ہجوم کی طرح ہوتی ہیں جن کا معاشرتی ارتقاء رک جاتا ہے اور وہ زوال کی جانب بڑھتے بڑھتے ، حتّٰی کہ ایک دن فنا ہوجاتی ہیں۔ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں سے سیکھنا چاہئے اور ہر جگہ نظم و ضبط کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ جس قوم میں نظم و ضبط نہیں ہوتا وہ جلد صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجاتی ہے۔ اسلام کا عروج بھی قومی نظم و ضبط اور اتحاد و تنظیم کے طفیل ہوا۔یہ اتحاد اور نظم و ضبط کا ہی کرشمہ تھا کہ عرب قوم جو جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی تمام اقوام عالم سے آگے نکل گئی۔ معاشرے کے استحکام ،قوموں کی آزادی اور سلطنتوں کی ترقی کیلئے نظم و ضبط اور یکجہتی کا فقدان ہوگا اور بے ضابطگیوں کا راج ہوگا وہاں ذلت اور زوال قوم کا مقدر ہوں گے۔
دنیا کی ہر شے ،ہر ذرہ ایک قدرتی نظام سے بندھا ہوا ہے۔ کائنات میں قدرت کی نشانیاں ہر جا بکھری پڑی ہیں اور ان میں پایا جانے والا  ڈسپلن د یکھ کر عقل عش عش کر نے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں دن کام اور راتیں آرام کیلئے بنائی ہیں ، وہیں روزوشب گزارنے کیلئے الگ الگ اسباب بھی مہیا کئے ہیں۔ دن کو روشن کرنے کیلئے سورج اور رات کو پُرسکون بنانے کیلئے چاند تارے پیدا کئے ہیں۔ سورج ہر روز اپنے مقررہ وقت پر مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ چاند اور تارے بھی اپنے معمول کے مطابق محوِ گردش ہیں۔ پہاڑ زمین کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے کیلئے ایک خاص اندازاور ہیبت سے کھڑے ہیں۔ ندی، نالے، دریا اور نہریں فطرت کے طے کردہ معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ پہاڑ ندی نالے بننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ندی نالے پہاڑوں کی جگہ لینے کی جسارت۔ سورج کبھی رات کو نکلا ہے اور نہ کبھی چاند نے سورج کی جگہ لی ہے۔ یہ نظم و ضبط صرف ماحول میں ہی نہیں بلکہ عالم حیوانات چرندو پرند اور کائنات کے ہر ذرے میں نظرآتا ہے۔ بعض جانور موسمی تبدیلی کے لحاظ سے رہائش کیلئے نقل مکانی کرتے ہیں ۔ پرندے موسم کے اعتبار سے اپنے مقام کو تبدیل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ چیونٹیاں موسم گرما میں موسم سرما کیلئے ذخیرہ اندوزی کرتی ہیں۔ان فطری مظاہر میں پایا جانے والا ڈسپلن انسان کو احسن طریقے سے زندگی بسر کرنے کیلئے نظم وضبط کی دعوت دیتا ہے۔
 ڈسپلن انفرادی اوراجتماعی دونوں کا موںپرمحیط ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کچھ طے شدہ اصولوں پر عمل پیرا ہو تو یقیناً وہ دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ کامیاب ہوگا۔ اسی طرح اگرکوئی ادارہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کچھ متعین اصولوں پر عمل کرے جس میں اپنے کارکنوں کی خیر خواہی اور عزتِ نفس کالحاظ رکھا جانا ہو توایسے ادارے کوایک منظّم ادارہ کہا جاسکتا ہے۔اس کے بر خلاف جس ادارے میں اصول وضوابط کی پابندی نہ کی جاتی ہو ،ادارہ کے مقاصد متعین نہ ہوں، کاموں کا جائزہ نہ لیا جاتا ہو، اصلاحِ حال کی کوششیں نہ کی جاتی ہوں تواس ادارے کو ہم ایک ناکام اورغیرمنظم ادارہ کہیں گے۔
یاد رکھیں کہ کامیاب انسان اہمیت کے حامل کام پہلے انجام دیتا ہے، ہر ایک کام کی انجام دہی کیلئے وقت اور زمانے کا تعین کرتاہے تاکہ وقت پر وہ اپنے تمام امور انجام دے سکے۔نظم و ضبط کے ذریعے وہ کام اور زندگی میں انتشار سے بچ کر اپنے وقت سے بہترین فائدہ حاصل کرتا ہے۔ اپنے روز و شب کے انفرادی و اجتماعی کاموں کی انجام دہی میں نظم و ضبط اور منصوبہ بندی کو پیش نظر رکھنے والا شخص ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔فرد کی زندگی معاشرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ کوئی انسان معاشرتی قوانین کو اپنائے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہر قوم ، معاشرے اور تہذیب کے کچھ نہ کچھ قوانین ہوتے ہیں۔ کچھ رسمیں، کچھ رواج، کچھ اصول، کچھ ضوابط، کچھ قاعدے ، کچھ طریقے ہوتے ہیں۔غرض کسی فرد کیلئے ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کے درمیان تو رہے لیکن معاشرتی قدروں کی پاسداری نہ کرے۔ اسی کو نظم و ضبط کہتے ہیں۔ اسی کو ربطِ ملّت کہتے ہیں۔
ڈسپلن کے اجزائے ترکیبی میں وقت کی پابندی ، عہد کی پاسداری ، کاموں کو ایک معمول کے مطابق کرنا یا کرانا ،فیصلوں پر عمل در آمد کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح کاموں کوبہتر طور سے انجام دینے کیلئے مشورے کرنے کا اہتمام بھی ضروری ہے۔اجتماعی زندگی ڈسپلن پرعمل کرنے سے عبارت ہے۔اگرہم واقعی اپنی قوم اورانسانیت کے تئیں مخلص ہیں اور اپنی قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر مقام پر ہر وقت نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنے افکار و افعال میں نظم و ضبط کے اصول کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
 

تازہ ترین