تازہ ترین

آئو چلو کشمیر کال ناکام بنادی گئی | عارضی ملازمین کے رہنماپولیس حراست میں

تاریخ    24 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   
(فائل فوٹو)

سید امجد شاہ
جموں// پولیس نے جموں و کشمیر کیجول لیبررز یونائٹیڈ فرنٹ کی کشمیر کی طرف پیدل مارچ کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تنظیم کے صدر سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ان عارضی ملازمین نے کشمیر چلو کال پر عمل شروع کیا تاہم کٹھوعہ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے ایک رہنما کو حراست میں لے لیا۔ایس ایس پی کٹھوعہ شیلندر مشرانے بتایا’’ہم نے عارضی ملازمین کے اایک رہنما کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا اور بعد میںاسے رہا کردیا گیا‘‘۔ملازمین کو کال کے تحت جموں صوبہ کے مختلف اضلاع سے پیدل کشمیر کی طرف مارچ کرنا تھا۔جموں بی سی روڈ میں چیف انجینئر (پی ایچ ای) کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے کی اسی طرح کی کوشش کو وہاں تعینات پولیس نے ناکام بنا دیا۔صدرآل جے اینڈ کے کیجول لیبرز یونائٹیڈ فرنٹ تنویر حسین نے بتایاکہ انہیں چھنی میں حراست میں لیا گیا اور سختی سے کہا گیا ہے کہ وہ کہیں نہ جائیں۔ان کاکہناتھاکہ پولیس اہلکاروں کو ان کے گھر سے باہر تعینات کیا گیا ہے اورانہیں گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں۔تنویر حسین نے مزید کہا’’ہم نے جموں میں 26 ستمبر کو گرین بیلٹ پارک میں ایک اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ ان کے رہنما گووندکو سانبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔تنویر حسین نے کہاکہ جموں شہر، آر ایس پورہ، اکھنور، ڈوڈہ اور رام بن ودیگر مقامات پر بھی مظاہرے ہوئے۔کشمیر کے صوبائی صدرعمران پرے نے بتایا کہ ڈوڈہ کے کھلینی نالہ اور رام بن کے علاقے گول میں عارضی ملازمین کو روک دیاگیا۔دریں اثناپرے نے کہا کہ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (ای جے اے سی) نے بھی ان کی حمایت کی ہے اور ان کے رہنماؤں کو حراست میں لینے کی پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
 
 
 

گول میں ملازمین کا احتجاج

زاہد بشیر

گول// سب ڈویژن گول کے صدر مقام پر بھی پی ایچ ای عارضی ملازمین کی جانب سے ’’کشمیرچلو‘‘کال کا اہتمام کیا گیا جس میں تمام عارضی ملازمین نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ ان کے حق پر شب و خون مارا جا رہا ہے اور جھوٹے وعدے کرکے وقت گزاری کی جارہی ہے ۔ پہلے دفتر کے احاطہ میں احتجاجی اجلاس منعقد ہوا جس میں سخت نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ عارضی ملازمین نے سرکار کی جانب سے عارضی ملازمین کے تئیں روئے پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور اسے انسان کش پالیسی قرار دیا ۔ انہوں نے مانگ کی کہ کم سے کم اجرت ایکٹ ،مستقل ملازمت اور بقایاجات کی ادائیگی کی جائے نہیں تو وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔