سعودی نے 4 اکتوبر سے عمرہ بحال کردیا

تاریخ    24 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز مانٹیرنگ
جدہ //عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کی قہر سامانیوں کے بیچ سعودی عرب نے 4 اکتوبر سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ بتدریج عمرہ بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وبا کے باعث 26 فروری سے عمرے اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سعودی عرب آمد پر عارضی پابندی عائد ہے اور رواں برس حج میں بھی سعودیہ میں مقیم صرف چند ہزار غیر ملکی تارکین وطن نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے حج ادا کیا ۔سعودی عرب میں اب تک کورونا وائرس کے3 لاکھ 30 ہزار سے زائد کیسز اور ساڑھے 4 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوچکی ہیں جو خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں اصل گنجائش کا30 فیصد یعنی سعودی عرب میں مقیم 6 ہزار شہریوں اور تارکین وطن کو 4 اکتوبر سے روزانہ عمرہ ادا کرنے کی اجازتہوگی۔دوسرے مرحلے میں یکم ربیع الاول، 18 اکتوبر سے سعودی شہریوں اور تارکین وطن کو 75 فیصد گنجائش کے ساتھ عمرے کی ادائیگی، زیارت اور عبادت کی اجازت دے دی جائے گی جس میں15 ہزار عازمین عمرہ کی ادائیگی جبکہ 40 ہزار نمازی شریک ہوسکیں گے جبکہ روضہ رسولؐ پر حاضری کی گنجائش کو بھی تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ 75 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔تیسرے مرحلے میں یکم نومبر،15 ربیع الاول سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور تارکین وطن کے علاوہ مملکت کے باہر سے آنے والوں کو بھی عمرہ کی ادائیگی، زیارت اور عبادت کی اجازت ہوگی اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد20 ہزار اور نمازیوں کی تعداد 60 ہزار روزانہ کی 100 فیصد گنجائش تک بڑھا دی جائے گی، جو یومیہ 2لاکھ بنتی ہے۔۔تاہم دیگر ممالک سے عازمین کی آمد مرحلہ وار ہوگی اور وزارت صحت ان ممالک سے عازمین کو آمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی جہاں کورونا وائرس سے منسلک صحت کے خطرات نہ ہوں۔اس کے علاوہ چوتھے مرحلے میں کورونا وائرس کے تمام تر خطرات دور ہونے کی صورت میں مسجد الحرام میں عبادت، زیارت اور عمرہ کی ادائیگی کے افعال معمول کے مطابق 100 فیصد گنجائش کے لحاظ سے بحال ہوجائیں گے۔
 
 

تازہ ترین