تازہ ترین

ڈومیسائل قانون جموں کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ بنانے کا منصوبہ: ڈاکٹر فاروق

کشمیریوں کیساتھ غلاموں جیسا سلوک،وہ بھارت کو نہیںچین کو بہتر سمجھتے ہیں

تاریخ    24 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


مانیٹرنگ ڈیسک
سرینگر // نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ اس وقت کشمیری عوام ہندوستانی محسوس نہیں کرتے اور وہ ہندوستانی نہیں بننا چاہتے ہیں،یہاں تک کہ وہ  کہنے لگے ہیں کہ ان کے بجائے چین ہی بہتر ہے۔کرن تھاپر کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں فاروق عبداللہ نے کہاکہ کشمیریوں کو غلام سمجھ کر ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے۔ اپنے 44 منٹ کے انٹرویو میںنیشنل کانفرنس سربراہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے یہ دعویٰ کرناکوئی معنی نہیں رکھتا کہ کشمیری عوام نے اگست 2019 کی تبدیلیوں کو صرف اس وجہ سے قبول کیا کہ کوئی احتجاج نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہر گلی میں موجود فوجیوں اور دفعہ 144 کوہٹا لیا جائے تو دسیوں لاکھ لوگ نکل آئیں گے۔ عبداللہ نے دی وائر کو بتایا کہ نیا ڈومیسائل قانون ہندو اکثریت بنانے کیلئے ہے اور اس سے کشمیری عوام کو مزید متاثر کیا گیا ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کشمیری مرکزی حکومت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو، فاروق عبد اللہ نے کہا کہ انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مرکزی حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعتماد ،جس نے ایک بار کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں کا پابند کیا، مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔5اگست 2019سے عین قبل وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی ملاقات کے حوالے سے فاروق عبداللہ نے بتایاکہ انہوں نے دفعہ 370 اور 35 اے کے بارے میں یقین دہانی کے لئے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ وادی میں اتنی تعداد میں فوج کیوں موجود ہے ،تو انہیں بتایا گیا کہ یہ سیکورٹی کا معاملہ ہے۔عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کے بارے میں مودی نے ایک لفظ نہیں کہا۔فارو ق عبداللہ کاکہناتھا کہ 5 اگست2019 کو جب اچانک آئینی تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا تو نیشنل کانفرنس اور دیگر تمام مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتیں کشمیریوں کی نظروں میں بری طرح بدنام تھیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں دونوں طرف سے نشانہ بنایاگیا، مرکز نے انہیں غدار سمجھا اور گرفتار کرلیاجبکہ دوسری طرف کشمیریوں نے انہیں ہندوستان کے خادم کی حیثیت سے دیکھا، انہوں نے مذاق اڑایا اور ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہنے پر طنز کیا۔تاہم ان کاکہناتھاکہ 7-8 ماہ تک نظربند رہنے کے بعد اس موقف اور ان کی پارٹی اور مرکزی دھارے میں شامل دیگر جماعتوں کا کشمیریوں کی نظر میں کافی حد تک اعتمادبحال ہو اہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ وہ ’ہندوستان کے خادم‘ نہیں ہیں۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور دیگر تمام جماعتیں جو اگست 2019 کے گپکار اعلامیہ جاری کرنے کے لئے اکٹھی ہوئیں، اور اس سال 22 اگست کوجسے دہرایا گیا ، کشمیریوں کے وقار کو بحال کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب دفعہ 370 اور 35A کو بحال کرنا اور ریاست کی بحالی کاہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی آخری سانس تک پرامن طور پر اس کے لئے لڑیں گے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ پر اعتماد ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی پارٹی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کوسنجیدگی سے سنا جائے گا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے اپیل کی کہ وہ آئینی معاملہ کو جلد سنیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے دوران یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھایا،توانہوں نے کہا کہ انہیں وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس، ترنمول، ڈی ایم کے اور کمیونسٹ پارٹیوں کے ممبران اسمبلی کے ساتھ لوک سبھا کے اسپیکر  سے ملنے گئے اور اسپیکر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بحث کے لئے وقت مختص کیا جائے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ان کاکہناتھا کہ کشمیر کے وسیع تر مفاد میں مفتی اور عبداللہ خاندانوں نے اپنے ماضی کے اختلافات کو دفن کردیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آئے ہیں۔محبوبہ مفتی کی نظر بندی سے متعلق پوچھے جانے پر فاروق عبداللہ نے کہا’کیا وہ مجرم ہے؟‘۔فاروق عبد اللہ نے مزید کہا کہ اگلے ریاستی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ نیشنل کانفرنس کے پارٹی میں لیاجائے گا اور وہ بطور صدر اپنی ذاتی سوچ مسلط نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گپکار اعلامیہ میں شامل دیگر تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ نے انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئے مضمون میں اعلان کیا ہے کہ وہ انتخاب نہیں لڑیں گے جب تک کہ کشمیر ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی نے اجتماعی طور پر جو بھی فیصلہ لیا اس کی وہ پاسداری کریں گے۔