تازہ ترین

ملک کے فیصلہ ساز اداروں میں مسلم نمائندگی

حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں!

تاریخ    24 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ریاض ملک
شہریت ترمیمی قانون اور قومی آبادیاتی رجسٹر معاملہ پر شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد موجودہ مرکزی حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ اس ملک میں سبھی طبقوں و فرقوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور کسی کے حقوق غصب نہیں کئے جائیں گے ۔گزشتہ دنوں ہی پارلیمنٹ میں ایک بیان میں وزارت داخلہ نے پھر ایک بار یقین دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی والی بی جے پی حکومت سب کا ساتھ ،سب کا وکاس کے اصول پر کاربند ہے اور مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیاجائے گا بلکہ اقلیتوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ترقی کے سفر میں یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے تاہم حکومتی دعوئوں اور دلائل سے قطع نظر ملک کی اقلیتوں کی جو صورتحال ابھر کر سامنے آرہی ہے ،وہ قطعی حوصلہ افزاء نہیں ہے بلکہ اگر یوں کہیں کہ وہ صورتحال مایوس کن اور پریشان کن ہے تو بیجا نہ ہوگا۔
مذہب اور مسلم اقلیت کے نام پر سیاست کرکے اقتدار کی کرسیوں پر براجماں ہونے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے تاہم اب جس طرح بھارت میں ایک منظم انداز میں مسلم اقلیت کو تمام فیصلہ ساز اداروں سے غائب کیاجارہا ہے ،وہ انتہائی تشویشناک ہے اور یہ رجحان بھار ت کی شمولیتی جمہوریت کی بقاء پر بھی سوالیہ نشان لگا چکا ہے ۔2005میں کانگریس کے دور اقتدار میں اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے مسلمانوں کی تازہ ترین سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لے کر پورٹ پیش کر نے کیلئے دلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچرکی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کے کْل سات ارکان تھے جن میں سے 4 مسلمان تھے ۔دیگر اراکین کے نام سید حامد، ٹی کے اومن، ایم اے بسیتھ، اختر مجید، ابو سلیم شرفی اور راکیش بسانت تھے۔ وزیر اعظم نے سید ظفر محمود کو کمیٹی کے لیے افسر بکارِ خاص بنا دیا تھا۔30 نومبر 2006 کو اپنے قیام کے بیس ماہ بعد کمیٹی نے 403 صفحات پر مشتمل رپورٹ لوک سبھا میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں مسلم کمیونٹی کو پیش مسائل کو اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ عوامی سطح پر ان کی نمائندگی کیسی ہے۔
سچر کمیٹی میں انڈین مسلمانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کر کے ان کو ختم کرنے کے بارے تجاویز دی گئی تھیں۔ یہ مسائل خاص طور پر معاشی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں سے متعلق تھے۔ انڈین مسلمانوں کی پسماندگی پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگرچہ بھارت میںمسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 14 فیصد ہے مگر انڈین بیوروکریسی میں ان کی نمائندگی محض اڑھائی فیصد ہے۔ سچر کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا تھاکہ مسلمانوں کی حالت درجہ فہرست ذاتوں اوردرجہ فہرست قبائل سے بھی گئی گزری ہے۔سچر کمیٹی رپورٹ نے قومی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ عدم مساوات کو واضح کیاتھااور تجویز پیش کی تھی کہ مساوی مواقع کا ایک کمیشن بنایا جائے جو عدم مساوات بشمول گھروں کے حصول وغیرہ کی شکایات کی تحقیق کرے۔ 
سچر کمیٹی رپورٹ کے 14سال بعد بھی کچھ نہیں بدلا ہے اور چند اقلیتی سکالر شپس کو چھوڑ کر عملی طور مسلمانوں کی سماجی ،معاشی یا تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ اور فیصلہ ساز اداروں میں ان کی شمولیت یقینی بنانے کے کچھ نہیں کیاگیا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ شمولیتی جمہوریت کے آفاقی اصول کے مطابق مسلمانوں کو آبادی کے شرح کے لحاظ سے کسی بھی بڑے ادارے میں یکساں نمائندگی نہیں دی جارہی ہے بلکہ اگر یوں کہیں کہ مسلمانوں کو منظر نامہ سے ہی ہٹایا جارہا ہے توبیجا نہ ہوگا۔یہ محض الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے اور حقائق چیخ چیخ کہہ رہے ہیں کہ اس ملک کے مسلمان کو دانستہ یا نادانستہ طور مین سٹریم سے بالکل کاٹ کر رکھاگیا ہے۔اس حوالے سے زیادہ بات کرنے کے بجائے ہم سیدھے قانون اور مینجمنٹ کے سابق علم اور موجودہ نوجوان محقق رجت دھتہ کی تحقیق کے ذریعے سامنے لائے گئے حقائق پر آتے ہیں۔
مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی
ملک میں قانون سازی کے سب سے بڑے ایوان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میںکل543ممبران میں سے مسلم ممبران کی تعداد محض27ہے جن کا تناسب صرف4.90فیصد بنتا ہے اور حکمران جماعت کے303ممبران میں سے صرف ایک مسلم ممبر ہے۔2014سے2019کی لوک سبھا میںکل23مسلم ممبران تھا اور یہ تناسب محض4.2فیصد تھا جبکہ اُس لوک سبھا میں حکمران جماعت کے282ممبران میں سے ایک بھی مسلم نہیں تھا۔سچر کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد کانگریس کی سربراہی والی یوپی اے حکومت کے دوسرے دور میں2009سے2014تک کے لوک سبھا میں40مسلم ممبران تھے اور ان کا تناسب5.5فیصد تھا جبکہ اُس وقت حکمران جماعت کے 206ممبران میں سے11مسلم ممبر ان تھے۔
ریاستی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی
34.20فیصد مسلم آبادی والی ریاست آسام میںمسلم ممبران کا تناسب 23.8فیصد ہے جبکہ دیگر76.2فیصد ہیں۔اسی طرح34.20فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال ،جہاں کی وزیراعلیٰ مسلمانوں کا بہی خواہ ہونے میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتی ہے،میںمسلم ممبران کا تناسب محض20فیصد ہے اور80فیصد غیر مسلم ہیں۔26.50فیصد مسلم آبادی والی ریاست کیرالاکی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے ۔یہاں مسلم نمائندوں کا تناسب 20.7فیصد ہے جبکہ باقی غیر مسلم ہیں۔آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی مجموعی آبادی میں مسلم آبادی کا تناسب 19.30فیصد ہے تاہم نمائندگی محض5.7فیصد ہے جبکہ94.3فیصد غیر مسلم ہیں۔اسی طرح بہار کی مجموعی آبادی میں مسلم آبادی کا تناسب 16.90فیصد ہے تاہم مسلم نمائندوں کا تناسب محض9.9فیصد ہے اور دیگر سارے غیر مسلم ہیں۔
سیول سروسز میں مسلم نمائندگی
سیول سروسز کو سب سے وقاری سروس مانا جاتا ہے اور اس سروس کا تعلق قومی اور ریاستی سطح پر براہ راست فیصلہ سازی کے ساتھ ہوتا ہے تاہم فیصلہ سازی کے اہم ترین ادارہ میں بھی مسلمانوںکی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔2010میں جہاں سیول سروسز میں مسلم نمائندگی 2.4فیصد تھی وہیں 2011میں یہ بڑھ کر3.4فیصد ہوگئی تاہم2012میں اس میں پھر گراوٹ آئی اور یہ شرح محض3فیصد رہی ۔2013میںبھی یہ تناسب 3فیصد ہی رہاتاہم 2014میں ہلکے سے اضافہ کے ساتھ یہ3.1فیصد تک پہنچ گیا۔2015میں مزید تھوڑا سا اضافہ ہوگیا اور یہ تناسب 3.4فیصد تک پہنچ گیا۔2016میں سیول سروسز میں مسلم نمائندگی مزید بڑھ گئی اور یہ شرح4.5فیصد تک پہنچ گئی اور 2017میں مزید بڑھ کر5.3فیصد تک پہنچ گئی تاہم2018میں سیول سروسز میں مسلم نمائندگی میں تشویشناک گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور یہ تناسب محض3.7فیصد رہا۔
اسی طرح ملک کی اعلیٰ ترین بیروکریسی میں بھی مسلم نمائندگی صفر ہی ہے ۔جموںوکشمیر سمیت ملک میںپولیس کے 20سربراہوں یعنیDGP'sمیں سے ایک بھی مسلم نہیںہے ۔اسی طرح 37ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں37چیف سیکریٹری تعینات ہیں تاہم ایک بھی مسلمان نہیںہے جس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اعلیٰ ترین بیروکریسی میں مسلم نمائندگی بالکل ہی نہیں ہے۔
عدلیہ میں مسلم نمائندگی
ملک میں سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں مسلم ججوں کی تعداد کا جہاںتک تعلق ہے تو وہ بھی مایوس کن ہی ہے ۔2017میں سپریم کورٹ کے33ججوں میں سے صرف ایک جج ،جسٹس عبدل نذیر مسلمان تھے اور آج کی تاریخ میںبھی 33میں سے صرف وہی ایک مسلم جج ہیں۔اعلیٰ قانونی عہدوںپر بھی مسلمانوں کا تناسب مایوس کن ہی ہے ۔سپریم کورٹ کی جانب سے نامزد کئے گئے سینئر وکلا میں مسلم وکلاء کا تناسب صرف7.2فیصد ہے جبکہ دیگر92.8فیصد سینئر وکلا مسلم نہیں ہیں۔اسی طرح ایڈوکیٹ جنرل،سالسٹر جنرل یا ایڈیشنل سالسٹر جنرل بھی 19ہیں تاہم نام کیلئے بھی ایک مسلم نہیں ہے ۔اسی طرح بار کونسل آف انڈیا کے عہدیداروں کی تعداد بھی19ہی ہے تاہم یہاں بھی نام کیلئے ایک مسلمان نہیںرکھاگیا ہے۔
اعلیٰ طبی اداروں میں مسلم نمائندگی
آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گورننگ کونسل کے 13میں سے کوئی بھی ممبر مسلم نہیںہے ۔اسی طرح پی جی آئی چندی گڑھ کے گورننگ کونسل کے14کے چودہ ممبر غیر مسلم ہیں۔کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو کونسل کے16ممبران میں کوئی بھی مسلم نہیں ہے ۔اسی طرح میڈیکل کونسل آف انڈیا گورننگ کونسل کے11ممبران میں سے برائے نام بھی کوئی مسلمان نہیں ہے ۔صرف انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ یعنی آئی سی ایم آر کے گورننگ کونسل میں شامل44ممبران میں سے ایک مسلم ممبر ہے اور وہ جامعہ ہمدرد دہلی کا نمائندہ ہے۔
اعلیٰ پی ایس یوز میں مسلم نمائندگی
مرکزی حکومت کے ماتحت چلنے والی سب سے اعلیٰ 10پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے اور ایسے دس کے دس ٹاپ اداروں میں فیصلہ ساز باڈی میں ایک بھی مسلم نمائندہ نہیں ہے ۔او این جی سی ،انڈین آئیل ،این ٹی پی سی ،پاور گریڈ ،بی پی سی ایل ،کول انڈیا،ایچ پی سی ایل ،جی اے آئی ایل ،پاور فنانس کاپوریشن اور آر ای سی کے فیصلہ ساز ادارہ یعنی بورڈ آف ڈائریکٹرس میں بالتر تیب 11،17 ،14، 10، 8، 11، 10، 10، 8 اور 4ممبران ہیں تاہم ان میں سے ایک بھی مسلم نہیں ہے اور یوں ان سبھی اداروںکے فیصلہ ساز ایوانوںسے مسلمانوںکو نکال باہر کردیا گیا ہے حالانکہ ان فیصلہ ساز اداروں میں ممبران حکومت نامزد کرتی ہے۔
پرنٹ میڈیا ہائوسز میں مسلم نمائندگی
بھارت میں پرنٹ میڈیا کے کچھ وقاری ادارے قائم ہیں جن کے باضابطہ بورڈ آف گورنرس بھی ہیں تاہم مساوات اور یکسانیت کا درس دینے والے ان پرنٹ میڈیا ہائوسز کے بورڈ آف گورنرس میں بھی مسلمانوں کا کہیں نام و نشان نہیں ہے ۔تحقیق کے مطابق بینٹ کالمن (ٹائمز گروپ)کے بورڈ آف گورنرس کے12میںسے ایک بھی ممبر مسلم نہیں ہے ۔اسی طرح ہندوستان ٹائمز میڈیا گروپ کے6ممبران سبھی غیر مسلم ہیں۔معروف انگریزی اخبار ہندو کو چلانے والے کستوری اینڈ سنز گروپ کے بورڈ آف گورنرس میں14ممبران ہیں لیکن مسلم نمائندگی نہیں ہے۔انڈین ایکسپریس کے6،دینک جاگرن کے18،دینک بھاسکر کے18،منورما ملیالاکے8اور آئوٹ لگ کے 5بورڈ آف گورنرس ممبران میں سے کوئی مسلمان ہے اور یوں پرنٹ میڈیا کے سبھی وقاری اداروں کے فیصلہ سازشعبوں میں مسلم نمائندگی صفر ہے۔
ٹیلی ویژن نیوز میں مسلم نمائندگی
پرنٹ میڈیا کی حالت تو آپ کے سامنے رکھی۔الیکٹرانک میڈیا کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور وہاں بھی مسلم نمائندگی صفر ہی ہے۔انڈیا ٹوڈے(آج تک)،ٹائمز گروپ ،این ڈی ٹی وی ،اے ایس جی میڈیا(ری پبلک)،زی نیوز،اے بی پی ،انڈیا ٹی وی،نیٹ ورک 18 (سی این بی سی)،سن ٹی وی،نیوز براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن کے بورڈ آف گورنرس میں بالترتیب 7، 12، 5، 3، 5، 7، 5، 8، 15 اور 10ممبران ہیں لیکن ایک بھی مسلم نہیں ہے۔
تعلیمی سیکٹر میں مسلم نمائندگی
کالج ایجوکیشن میں مسلمانوں کی مجموعی نمائندگی محض5.23فیصد ہے جبکہ دیگران کی94.8فیصد ہے ۔انسٹی چیوٹ آف نیشنل امپارٹنس میں یہ شرح2.88فیصد ہے جبکہ دیگران کی 97.1فیصد ہے ۔کالج سطح پر مسلم فیکلٹی کی شرح محض5.35فیصد ہے جبکہ دیگران کی 94.7فیصد ہے ۔انسٹی چیوٹ آف نیشنل امپارٹنس میں مسلم فیکلٹی کا تناسب 2.88فیصد ہے جبکہ دیگران کا تناسب 97.1فیصد ہے۔مینجمنٹ انسٹی چیوشنز کی حالت بھی خراب ہی ہے۔آئی آئی ایم احمد آباد،آئی آئی ایم بنگلورواور آئی آئی ایم کولکتہ کے بورڈآف گورنرس میں بالترتیب15،15اور14ممبران ہیںتاہم ایک بھی مسلم نہیں ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی سکولوں جیسے آئی آئی ٹی ممبئی ،آئی آئی ٹی دہلی او ر آئی آئی ٹی مدراس کے بورڈ آف گورنرس میں بالترتیب10،10اور15ممبران ہیں تاہم یہاںبھی کوئی مسلمان ممبر نہیں ہے۔حد تو یہ ہے قانون کا پاٹ پڑھانے والے لا ء سکولوں میں بھی صورتحال کچھ بہتر ہے ۔NLSIUایگزیکٹیو کونسل کے 22 ممبران میں سے ایک مسلم ہے اور وہ بھی صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ممبر سپریم کورٹ جج ہیں۔NALSAR کے ایگزیکٹیو کونسل میں11ممبران میں سے2مسلم ہیں جن میں سے ایک وائس چانسلر اور ایک سپریم کورٹ جج ہے تاہم NUJSکے 18ممبران پر مشتمل ایگزیکٹیو کونسل میں ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہے۔اسی طرح ایس آر سی سی کے 15اور مرینڈا ہائوس کے16ممبران پر مشتمل ایگزیکٹیو کونسل میں ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہے۔ آئی سی اے آئی کونسل میں 40ممبران ہیں جن میں چاروں خطوںکے 10،دس ممبران ہیں تاہم مسلم نمائندگی ملک کے چاروں خطوں سے صفر ہے۔آئی سی اے آئی کے بورڈ آف سٹیڈیز (اکیڈیمک کونسل) کے 32ممبران میں سے ایک بھی مسلم نہیںہے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سیکولرازم کی بہت باتیں ہورہی ہیں لیکن جے این یو کے ایگزیکٹیو کونسل میں جہاں23ممبران ہیں ،ان میں سے فقط2مسلم ہیں۔اسی طرح آئی آئی ایس سی بنگلورو کے19ممبران میں سے کوئی مسلم نہیں ہے جبکہ آئی ایس آئی کولکتہ کے34ممبران میں سے ایک مسلم ہے اور وہ نامزد آئی اے ایس ممبر ہے۔
 ملٹی نیشنل کمپنیوں میں مسلم نمائندگی
تعلیمی اداروں کو چھوڑکر اب اگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی حالت دیکھی جائے تو مایوس کن منظر نامہ ہی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ایچ یو ایل کے ایگزیکٹیو کونسل میں10ممبران ہیں تاہم ایک بھی مسلم نہیں ہے ۔اسی طرح پراکٹر اینڈ گمبل کے12ایگزیکٹیو ممبران ہیں تاہم مسلم ایک بھی نہیں ہے ۔آئی ٹی سی کے14ممبران پر مشتمل ایگزیکٹیو کونسل میں کوئی برائے نام مسلمان بھی نہیں ہے ۔نیسلے کا8رکنی ایگزیکٹیو کونسل بھی مسلمانوں سے پاک ہے جبکہ پیپسی انڈیا(ورون بیوریجز)کے دس رکنی ایگزیکٹیو کونسل میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔کولگیٹ پالمو لیو اور میراکو کے بالترتیب8اور10رکنی فیصلہ ساز کونسل بھی مسلم ناموںسے عاری ہیں۔ 
نجی بزنس ہائوسز میں مسلم نمائندگی
اب جہاں تک نجی کاروباری گھرانوں یا فیملی ٹرسٹوں کا تعلق ہے تو وہاں بھی حالات اس لحاظ سے خراب ہی ہیں۔مثال کے طور پرٹاٹا کے8رکنی ایگزیکٹیو کونسل ،ادتیہ برلا کے9اورمہندرا کے14رکنی بزنس ڈائریکٹرس یا بورڈ آف گورنرس میں بھی ایک بھی مسلم نہیں ہے تاہم ریلائنس کے 14رکنی بورڈ میں ایک مسلم ہے۔آر پی جی ،سی کے برلا،آدھانی پاور،آدھانی پورٹ کی لیڈر شپ ٹیم میں بالترتیب7،8،6اور9ممبران ہیں تاہم یہاں بھی خدا کے فضل سے ایک بھی مسلم نام نہیں ہے۔اب جہاں تک ملک کے نامی گرامی مسلم بزنس ہائوسز کاتعلق ہے تو اگر چہ صورتحال کچھ مختلف ہے تاہم اطمینان بخش یہاں بھی نہیں ہے۔مسلم مالک کے بزنس ہائوس وِپرو(wipro)کے 9رکنی فیصلہ ساز ادارے میں3مسلم ہیں۔اسی طرح دواساز نامی گرامی کمپنی سپلا( Cipla)کے10رکنی فیصلہ ساز ادارے میں4مسلم ہیں اور ووکھارڈٹ(wockhardt)کے11رکنی کونسل میںبھی 4مسلم ہیں۔
مالیاتی اداروں میں مسلم نمائندگی
ملک کے نامی گرامی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں جہاں تک مسلم نمائندگی کاتعلق ہے تو وہ بھی مایوس کن ہی ہے۔سٹیٹ بنک آف انڈیا کے12رکنی بورڈ میں کوئی مسلم نہیں ہے ۔اسی طرح ایچ ڈی ایف سی ،ایل آئی سی ،ایس ای بی آئی،آر بی آئی،نیشنل سٹاک ایکس چینج،بمبئی سٹاک ایکس چینج ،پنجاب نیشنل بنک اور آئی سی آئی سی آئی بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹر س میں بالترتیب 10،12،9،14،9،8،9اور12ممبران ہیں تاہم ایک بھی رکن مسلم نہیں ہے۔
اگر مجموعی طور دیکھاجائے تو ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے ۔2011کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی میں مسلم آبادی کا مجموعی تناسب14.2فیصد ہے لیکن پھر جب حکومتی ایوانوں ،سیاسی گلیاروں،تعلیمی اداروں،کاروباری و تجارتی ہائوسز میں مسلم نمائندگی کا حال دیکھا جاتا ہے تو یہ عملی طور صفر فیصد کے آس پاس ہے جو اس بات کو عیاں کردیتا ہے کہ بھارت کا مسلمان ابھی بھی ملک کی مین سٹریم سے کٹا ہوا ہے اور اُس کو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یکساں مواقع میسر نہیں کرائے جارہے ہیں۔یہ اعدادوشمار اس قدر مایوس کن کیوں ہیں اور اس طرح کے مایوس کن منظر نامہ سے کیا نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں ،وہ ایک علیحدہ بحث ہے تاہم اس تحریر کے ذریعے ایک آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ دھندلی تصویر ذراصاف ہوسکے اور سب کچھ بنا کسی ملاوٹ کے صاف صاف نظر آجائے ۔مزید تفصیل انشاء اللہ پھر کسی تحریر میں ان اعدادوشمار کے پوسٹ مارٹم کی صورت میں شائع کی جائے گی۔جب تک کیلئے اجازت دیں۔یار زندہ ،صحبت باقی!!!