تازہ ترین

چرار شریف جھڑپ19گھنٹے بعد اختتام پذیر ، جنگجو جاں بحق ،کئی فرار

فوجی اہلکار زخمی، دو بھائی گرفتار، رہائشی مکان تباہ

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ارشاد احمد
چرار شریف//وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف ٹائون کی نوہاڑ بستی میں 19گھنٹے تک معرکہ آرائی کے دوران سانبورہ پانپور کا ایک جنگجو جاں بحق جبکہ ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا۔ معرکہ آرائی کے دوران دو جنگجو فرار ہوئے جبکہ ایک رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ اور ایک کو جزوی نقصان پہنچا۔ فائرنگ میں ایک گائے بھی لقمہ اجل بن گئی۔ادھر انتظامیہ نے مسلح تصادم کے پیش نظر پورے ضلع بڈگام میں موبائل انٹرنیٹ خدمات منقطع کر دیں۔

تصادم آرائی

پولیس کے مطابق انہیں چرار شریف ٹائون کے مفصلات میں چونگی کے نزدیک نوہاڑ کی بستی میں کم سے کم 3جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد53آر آر اور سی آر پی ایف سے مدد طلب کی گئی اور سہ پہر کے بعد قریب ساڑھے 5بجے محاصرہ کرنے کی کوشش کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ جونہی تلاشی کارروائی کا آغاز ہونے والا تھا تو محاصرے میں موجود جنگجوئوں نے ایک مکان کی آڑ لیکر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نوین کمار نامی ایک فوجی اہلکار شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر بادامی باغ فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے کہا کہ اسکے بعد طرفین کے درمیان تھوڑی دیر کیلئے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا لیکن قریب ایک گھنٹے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو رات 11بجے تک وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔اس دوران دو دھماکے بھی سنے گئے۔رات کے دوران آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے جنگجوئوں کے ممکنہ ٹھکانے کے ارد گرد روشنی کا انتظام کیا گیا اور رات کے دوران بھی رک رک کر فائرنگ ہوتی رہی۔البتہ مجموعی طور پر سکوت رہا۔ لیکن صبح کے وقت آپریشن کا دوبارہ آغاز کیا گیا اور اس دوران دھماکے بھی ہوئے اور زوردار فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعد میں جب فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تو فورسز نے جائے وقوع سے ایک جنگجو کی لاش بر آمد کی۔تصادم آرائی کے دوران منظور احمد شاہ ولد علی محمد شاہ مکمل طور پر تباہ ہوا ۔ غلام نبی شاہ کے مکان کو جزوی نقصان ہوا، جس کے صھں میں واش روم کے نزدیک مذکورہ جنگجو جاں بحق ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق منظور احمد اور اسکے بھائی غلام نبی کو فورسز نے اپنے ساتھ لیا ہے۔

مقامی لوگوں کا بیان

مقامی لوگوں کے مطابق جس مکان میں جنگجو محاصرے کے دوران داخل ہوئے تھے، اس مالک مکان کا والد مکمل بہرہ ہے اور وہ  کانعں سے کچھ نہیں سنتا ہے۔ تصادم آرائی کے دوران جب فورسز کو اس بات کا علم ہوا تو رات کے ڈیڑھ بجے کچھ مقامی لوگوں کیساتھ فورسز اہلکار مکان منیں داخل ہوئے اور بزرگ شہری کو محفوظ مقام پر لے گئے۔ رات کے دوران ہی مقام جھڑ کے بالکل نزدیک  50فٹ کی دوری پرمیوہ باغ میں تین ہمسائیوں غلام نبی بابا، غلام احمد تازی اور غلام نبی تازی، جو فائرنگ کے تبادلے کے دوران پھنس گئے تھے اور عارضی خیمے میں پناہ لی تھی، کو چرار شریف ایس ایچ او اور ڈی ایس پی فیاض احمد نے جان پر کھیل کر بچا لیا۔ 

پولیس کیا کہتی ہے؟

کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ چرار شریف تصادم میں ایک ملی ٹنٹ مارا گیا ۔پولیس ترجمان نے کہا کہ فائرنگ سے قبل جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی لیکن اُنہوں نے انکار کیا اور فائرنگ کیساتھ ساتھ گرینیڈ بھی داغے جسکے نتیجے میں جھڑپ شروع ہوئی ۔پولیس نے بتایا کہ جاں بحق جنگجو کی شناخت آصف احمد شاہ ولد مظفر احمد شاہ ساکن سانبورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق جاں بحق جنگجو کا تعلق جیش محمد سے تھا ۔پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ سے ہتھیار کے علاوہ نا قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا ۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ چرارشریف میں ایک کیس بھی درج کیا گیا ہے ۔
 
 

این آئی اے نے بھی بلایا تھا

سرینگر //آصف مظفر نامی جنگجو نے2018میں گریجویشن مکمل کی تھی۔اسکا والد ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچر تھا اور فی الوقت مقامی مسجد کا امام بھی ہے۔آصف مظفر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ گریجویشن کے بعد اس نے کاکہ پورہ میں بیک سیلر کی دکان کھولی اور جب کورونا لاک دائون شروع ہوا اور دکانیں بند ہوئیں تو وہ کپڑے کی پھیری کرنے لگا۔انہوں نے کہا کہ لیتہ پورہ حملے کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے دو بار نئی دہلی بلایا تھا لیکن دونوں بار وہ بانہال تک پہنچ پایا اور شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں نئی دہلی نہیں جاسکا۔ اسکے بعد کئی بار اسے ایجنسی سے کالیں بھی موصول ہوئیں تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ کئی بار اسکے گھر پر چھاپے بھی ڈالے گئے ہیں۔آصف مظفر کا نام 2014میں اس وقت سرخیوں کی زینت بن گیا تھا جب تباہ کن سیلاب میں اس نے کئی فوجی اہلکاروں کی جانیں بچائی تھیں۔وہ 10اگست کو گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا۔ اسکی گمشدگی کے بارے میں  رپورٹ بھی پانپور پولیس سٹیشن میں درج کرائی گئی تھی۔