تازہ ترین

دفعہ370اور 35اے کی بحالی کا مطالبہ|اراکین پارلیمان کا احتجاج

ڈاکٹر فاروق کالوک سبھا میں بھی خطاب،کہاکشمیر میں کچھ بدلا نہیں سب خراب ہوگیا

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
 نئی دلی//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیش کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں وکشمیر میں کوئی امن نہیں، میں اس وقت یہاں بات کررہا ہوں کشمیر میں اس وقت بھی ایک انکائونٹر جاری ہے،اگر 5اگست2019کو لئے گئے غیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلوں کو واپس نہیں لیا گیا ، تو امن و امان کی صورتحال کو لوٹایا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کے جن افراد کو جیلوں میں قید رکھا گیا ہے اُن کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق کی قیادت میں پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی مجسمہ کے سامنے دفعہ370 اور 35اے کی بحالی کی مانگ کو لیکر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ احتجاج میں اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبرلون، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، پی ڈی پی ممبر فیاض احمدمیر ، نذیر احمد لاوے اور ڈی ایم  کی رکن پارلیمان کنی موزی کروناندھی نے شرکت کی۔ احتجاج کررہے اراکین پارلیمان نے اپنے ہاتھوں میںپلے کارڈ اُٹھا کے رکھے تھے جن پر دفعہ370اور 35اے کی فوری بحالی ، 5اگست 2019کے فیصلوں کی فوری منسوخی اور 1952و 1975کے وعدوں کو پورا کرنے سے متعلق نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ہم نے بار بار پارلیمنٹ میں دفعہ370کی منسوخی اور اس سے جموںوکشمیر میں پیدا شدہ صورتحال پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں نہ صرف پارلیمنٹ کو تحریری خط لکھا گیا بلکہ ہم ذاتی طور پر بھی  سپیکر سے ملے اور ان سے جموں وکشمیر پر بحث کرانے کی درخواست کی لیکن حکمران جماعت، حزب اختلاف کے مطالبوں کو خاطر میں نہیں لارہی ہے اور اسی لئے ہم آج پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہوگئے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ پارلیمنٹ کے اندر جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بحث ہو اور مرکزی حکومت کے اُن گمراہ کن دعوئوں کی اصل حقیقت عوام کے سامنے آسکے جو وہ جموںو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بارے میں ملک کے عوام کو باور کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کے عوام نے مرکزی حکومت کے 5اگست2019کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے اور عوام آج بھی مرکزی حکومت کے ان فیصلوں پر نالاں ہے۔