تازہ ترین

عوامی خدمات کی مختصر تاریخ

کرنے کو تو بہت کچھ ہے اگر وقتِ فرصت ہو

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ہلال احمد تانترے
 اٹھارویں صدی کی بعد کی دنیا کو عمومی طور پر جدید دنیا کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ تادمِ اِیں دنیا کے حالات و واقعات کے حوالے سے حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، سماج ہو یا تعلیم، مشینری ہو یا ٹیکنالوجی، میڈیا ہو یا رسل و رسائل ، ایسے بے شمار شعبے ہیں جن کے اندر نِت نئے انقلابات آئے روز رونما ہوتے ہیں۔ وہیں آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال، ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ایک منٹ پہلے والی بریکنگ نیوز پرانی لگتی ہے۔ حالات و واقعات کے پھیر بدل اس طرح پیش آرہے ہیں کہ انسان ششدررہ جاتا ہے۔ ان معنوں میں موجودہ دور کو بعض لوگ ما بعد جدید دنیا کے لقب تک سے نوازتے ہیں۔ 
اس عرصے میں ملکوں کے نظاموں میں بھی خاصی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو گئیں۔ بہت سارے نظام ہائے زندگیاں انسانیت نے آزمائے۔لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے مختلف النوع ذیلی منصوبے بنائے گئے۔ حکام کو اپنی جگہ ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ کس طرح وہ عوام کا بھلا کریں ۔ لوگوں تک عوامی خدمات(Public Services) کا کون سا جال بچھایا جائے۔ عوام اور وقتِ حکمران کے مابین فاصلے کو کم سے کم کرنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کئے جائیں۔ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا اِس دور میں ہر کسی نظام اور اُس نظام کے حکمرانوں نے سوچا ہے ۔ نظاموں کی یہ جنگ بنیادی طور پر اسی لیے تو انجام پاتی ہے ۔ 
اس سلسلے میں مختصر تاریخ یہ ہے کہ جدید دنیا کے اوائل میں ریاستیں لوگوں تک عوامی خدمات خیراتی طور(charity based)پر پہنچاتی تھیں۔ سمجھا یہ جاتا تھا کہ جو لوگ غریب اور مفلوک الحال ہیں اُن تک کسی قسم کی معاونت کو خیرات سمجھ کر پہنچایا جائے۔ اس سلسلے میں مذہبی رجحان سرکاری منصوبوں پر غالب ہوتا تھا۔ عرصہ بعد یہ طریقہ کار مفقود ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد ریاستوں کی پالیسیز کے اندر یہ چیز مدِ نظر رکھی گئی کہ لوگوں تک امداد و اعانت پہنچائی جائے۔ اس سلسلے میں عوام کی مجوموئی فلاح(welfare) کو مدِ نظر رکھا گیا۔ بالفاظِ دیگر یہ وہ زمانہ تھا جب فلاحی ریاستیں(welfare states) وجود میں آگئیں۔ فلاحی ریاست کے کامیاب منصوبوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک اور ضرورت محسوس کی گئی ۔ اس میں لوگوں تک عوامی خدمات کو اس انداز سے پہچایا گیا کہ اسے لوگوں کو بااختیار(empower) کرانا ہے۔ عوام اپنے اختیارات جانتے نہیں ہیں ۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ بھی ریاست کی بھاگ دوڑ میں برابر کی شریک ہے۔ اس لیے ایک تحریک چلی کہ لوگوں کو باور کرایا جائے کہ انہیں ریاست کی جانب سے جو کوئی بھی خدمت پہنچائی جارہی ہیں وہ اصل میں ان کو بااختیار کرانے کے لیے ہے۔  
دنیا جب اکیسویں صدی میں پہنچ گئی تو عوامی خدمات کے طریقہ کار میں ایک زبردست انقلاب رونما ہوگیا۔ یہاں پہنچ کر یہ نقطہ نظر غالب ہوگیا کہ عوامی خدمات اصل میں عوام کا باقی حقوق کی طرح ایک حق(right) ہے۔ ان خدمات کے عوض عوام سماجی سطح پر منتظمین کو تنخواہ دیتی ہے۔ اس لیے انتظامیہ کسی بھی صورت میں عوامی خدمات سے منہ موڑ نہیں سکتی ۔ جس طرح سے ایک مارکیٹ کے اندر صارف پیسوں کے عوض قسم قسم کی چیزیں فروخت کرتا ہے، لین دین کرتا ہے، سود ے بازی کرتا ہے اور اپنی صوابدید کے مطابق ہی کسی چیز کی قیمت اور معیار کی بنیاد پر اپنی پسند اور نا پسند کا اظہار کرتا ہے، اسی طرح سے عوام کو بھی اب یہ حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی معیاری خدمت کا انتخاب کر سکیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت میں عوامی خدمات کے نصاب میں یہ فکر غالب آتی گئی ۔ اس سلسلے میں ملکوں نے مختلف قوانین بھی وضع کیے۔ بھارت میں اسی طرح کا ایک قانون پاس کیا گیا ، جسے Public Services Guranttee Act  کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں قسم قسم کی عوامی خدمات کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ خدمات کس محکمے کی طرف سے ، کس سرکار آفیسر سے،کتنے وقت میں پہنچائی جائے ، ان باتوں کا صاف طور ر تذکرہ کیا گیا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ عوامی خدمت کو حاصل کرنے کے لیے کس طریقہ کار کی ضرورت ہے اور اگر کوئی آٖفیسر خدمت پہنچانے میں لیت و لعل کرے تو اُس آفیسر کے خلاف کون سی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس قانون میں یہ بھی کہا گیا کہ عوام کو بے جا تنگ طلب کرنے کے عوض سرکاری آٖفیسر کو ہرجانہ بھی ادا کرنے پڑے گا۔ اسی طرح کی کئی ساری شقیں اس قانون کے اندر درج کی گئی ہیں۔ مقصد بس ایک ہی تھا کہ عوام کو باور کرایا جائے کہ سرکار کی طرف سے پہنچائی جارہی خدمات اب سرکار کی طرف سے کوئی احسان نہیں ہے، بلکہ یہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ 
اسی طرح کا ایک قانون سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت میں بھی پاس کیا گیا تھا، لیکن عملاً وہ کبھی بھی زمین پر قائم ہی نہ ہو سکا۔ اب جب کہ ریاست کو مرکزی زیر انتظام کا علاقہ قرار دیا گیا اور تنظیم نو 2019  کا قانون بھی پاس کیا گیا، لیکن عوامی خدمات کے اس قانون کو بر قرار ہی رکھا گیا ہے۔ عوامی خدمات کے جال کو مزید وسعت دینے  کے لیے یہ قانون واقعی میں ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ رہے سہے نظام کی وساطت سے اگر لوگوں کی فلاح و بہبود کی جائے تو ایسے قانون سے انتظامیہ اور اسے منسلک عہدہ داران کو مکلف ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ عوامی خدمات کو لوگوں کے دروازوں تک پہنچانے میں یہ قانون حکومت کی خاصی مدد کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے ایسے تمام قوانین کو سرکاری الماریوں کی زینت بننے کے بجائے زمینی سطح پر لاگو کیا جائے۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں اور آپ سے برقی پتہ hilal.nzm@gmail.comپر رابطہ کیاجاسکتا ہے)