شادی بیاہ کی سادہ تقریبات

حُسنِ عمل کو اپنائیں اور مستقل بنائیں

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال احمد پرے
وادیٔ کشمیر میں ایک عرصے سے شادی بیاہ کی تقریبات میں رسوماتِ بد کی برمار عروج پر ہے جس نے لاکھوں غریب لڑکیوں کے لئے نت نئی مصیبتیں لا کھڑی کر دیں ہیں۔ان بے جا رسوم و رواج کی وجہ سے اب یہاں خاص و عام کا مزاج بھی بگڑ چکا ہے۔جس کا نتیجہ شادی میں تاخیر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ نت نئے خرافات سے معتدد پیچیدہ معاشرتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔جہاں عام اور سادہ لوح لوگ ان رسوماتِ بد سے بے خبر ہیں وہیں منافع خور طبقہ بھی ان کو بہ آسانی اسراف و تبذیر کی چیزیں فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے۔
منافع خوری کے چکر میں وہ اس چیز کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن اشیائے تبزیر کی وہ بڑے شد و مد کے ساتھ خرید و فروخت کی سفارش بلکہ تشہیر و تاکید کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے کتنے بسے بسائے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ دراصل ہر سماجی پہلو کی طرح یہاں بھی افردِ سماج کی وہی خود غرضی اور خود خواہی اس مقدس عمل یعنی شادی بیاہ میں زہر گھول رہی ہے۔ ہر فرد یہی سوچتا ہے کہ فلاں رسم کے ساتھ اس کے کتنے مادی مفادات وابستہ ہیں۔ جس رسم سے ہماری کمائی میں اضافہ ہو ، ہم چاہتے ہیں کہ وہ رسم سدا چلتی اور پھلتی پھولتی رہے۔ چاہے وہ رسم انسانی سماج کے لئے سمِ قاتل ہی کیوں نہ ثابت ہو جائے۔ بعض اوقات ہمارا دوغلاپن یوں بھی سامنے آ جاتا ہے کہ ایک جانب ہم سماج میں رائج رسوماتِ بد پر زبانی طور واویلا کرتے رہتے ہیں لیکن عملی اعتبار سے ان تمام وسائل کی خرید و فروخت میں پیش پیش نظر آتے ہیں جو ان رسوم کو فروغ دینے میں ایک اہم عامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کورونا نامی وبائی بیماری کی ہلاکت خیزی سے پیدا شدہ لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کے دوران جہاں بہت سے افراد کا ایک جگہ جمع ہونے پر قدغن لگا دی گئی تھی وہیں اس دوران سرکاری انتظامیہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر شادی بیاہ کی بہت سی تقاریب نہایت ہی سادگی سے انجام دی گئی ہیں۔قارئین کرام! آپ ان سادہ تقریبات کو ان کی مجبوری سمجھئے یا مرضی، بہرحال سماج پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو ئے ہیں۔ 
اس دوران مختلف علاقوں میں شادی بیاہ کی سادہ تقریبات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس سے لوگوں نے اپنی مثبت تجاویز اور آرا سے خوب سراہا ۔ مذکورہ سادہ تقریبات میں جو تصویری روداد سامنے آگئی اس کے مطابق ناکح چند ساتھیوں کے ہمراہ ناکحہ کے گھر جاتا ہے اور وہاں خالص قہوہ نوش فرماتا ہے اور بغیر کسی لوٹ کھسوٹ اور اسراف و تبذیر کے اپنی ناکحہ کے ہمراہ گھر لوٹ آتا ہے۔ یہ امر واقعی قابل تعریف و تحسین ہے کہ اس قسم کی شادیوں میں نہ دکھاوے کی آمیزش تھی نہ اسراف و تبزیر کی بھرمار، نہ زن و مرد کا اخلاط تھا نہ غنا کی آوازیں۔ حتیٰ کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے علاوہ کئی ایک اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز افراد نے بھی اس کارِ خیر میں مثبت کردار ادا کیا۔
جہاں لاک ڈاؤن کے بہت سے منفی پہلو سامنے آگئے وہیں اس کا یہ مثبت رخ بھی سامنے آگیا ہے کہ اس کی وجہ سے شادی بیاہ کی سادہ تقاریب کے لئے حالات موافق ہو گئے اور اس نیک شگون سماجی عمل کو سوشل میڈیا نے بھی خاطر خواہ تشہیر دی۔ ان سادہ تقاریب کو عمومی حالات میں بھی رائج کرنے کے سماج کے تمام حلقوں کو فعال رہنا پڑے گا۔ تبھی تو اس سعید عمل کا سلسلہ قائم ہوگا اور تاخیر سے نکاح کی بدعت کے علل و اسباب کا سدِ باب ہوگا۔ اس لحاظ سے سماج میں پڑھے لکھے دین دار نوجوانوں کو اس ضمن میں سامنے آکر مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ یہ سلسلہ اب جاری و ساری ہو۔
نکاح جیسے مقدس عمل کو لڑکی والوں پر کسی بھی صورت میں بوجھ نہ بنایا جائے، تاکہ غریب لڑکیوں کی خانہ آبادی بھی بہ آسانی انجام دی جائے۔ برے رسومات کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش کریں۔جہیز جیسی لعنت کا کچھ اس طرح معاشرے میں خاتمہ ہو کہ مستقبل میں اس منحوس لفظ کا نام و نشان سماج میں کیا لغت کی کتابوں سے بھی نا پید ہو۔ اس کے علاوہ انتہائی لازمی یہ ہے کہ رسومات بد کو بڑھاوا دینے والی سوچ کا خاتمہ کیا جائے۔ اور اس سوچ کو ختم کرنے کے لئے ان اذہان کی تطہیر لازمی ہے جن اذہان میں اس طرح کی سوچ نشو نما پاکر سماجی عفریت کا روپ دھار لیتی ہے۔ 
المیہ یہ ہے ہم نے اپنی مرضی سے خود کو رسوم و روایات کی بیڑیوں میں بری طرح سے جکڑ رکھا ہے اور بھاری بوجھ ( جیسے منگنی، جہیز اور دیگر ناموں سے مْسرفانہ رسوم ) اپنے اوپر لاد لیے بیٹھے ہیں جب کہ اسلام نے نکاح کو بڑے ہی سادہ انداز میں کرنے کی تاکیدی حکم دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : "تم میں جو بغیر جوڑے والے ہوں ان کے نکاح کراؤ- " ( النور : 32)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مبارک ارشاد ہے : " بہترین نکاح وہ ہے جو سہولت سے انجام پا جائے -" (صحیح ابن حبان : 4072)
عہد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں اس کی بہت سی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ غریب سے غریب لڑکے یا لڑکیاں ( کنواری، مطلّقہ ہو یا بیوہ ) کا نکاح بہت آسانی سے ہوگیا ہے۔
خوش آئند بات ہے کہ موجودہ دور میں تعلیم یافتہ اور دین دار حلقوں میں آہستہ آہستہ شعور بیدار ہو رہا ہے اور وہ سادہ نکاح پر کافی زور دے رہے ہیں۔البتہ نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی اس سعید عمل کے فروغ میں ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سماجی بدعات کی بیخ کنی کے لئے ایک منظم حکمت عملی کے تحت مسلسل کام ہونا چاہئے۔ نوجوانوں کے رضاکارانہ جذبہ اور مصلحانہ فکر کو روبہ عمل لا کر ان رضاکار تنظیموں کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے کہ جو کافی حد تک ہمارے معاشرے کو اس بلائے ہنگامہ خیز سے نجات دلا سکتی ہیں۔ اس کی تازہ مثال Helping Hand Foundationنامی معروف تنظیم ہے جو اس سلسلے میں ایک قابل فخر کردار نبھارہی ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ تنظیم نے حال ہی میں تقریباً دو سو غریب اور یتیم لڑکیوں کی شادی خانہ آبادی کا بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اہتمام کیا۔ اسی طرح کا کام آش فاؤنڈیشن ( Foundation  Aash) نے بھی بحسن خوبی سماج کے سامنے عملی طور کر کے دکھایا جہاں بیک وقت سو سے زیادہ لڑکیوں کی خانہ آبادی انجام دی گئی ہے۔ 
شہر و دیہات میں اکثر و بیشتر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ سادہ شادیوں کے باوجود بھی یہ رشتے بعد میں خلوص محبت کے ساتھ نبھائے نہیں جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان بن کی وجہ سے ان مقدس رشتوں کے دھاگے ٹوٹ جاتے ہیں، کئی ایک معاملات میں نوبت عدالتوں تک پہنچتی ہے، کئی ایک معاملات نجی سطح کی کمیٹیوں کے پاس لٹکتے رہتے ہیں- دیکھا جائے تو اس سب کے پیچھے عمومی طور پر دو اہم وجوہات ہیں، اول نکاح کے وقت مقرر کردہ مہر کی لالچ اوردوم آپسی رشتے میں خیانت کا ہونا پایا گیا ہے۔ مزید بر آن دیگر چھوٹے چھوٹے واقعات آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں، جنہیں زیادہ اہمیت دی جائے تو اس مقدس رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہو سکتی ہے اور آپسی ہم آہنگی اور پیار و محبت سے دور کیا جائے تو بھگڑتے معاملات از خود درست ہوں گے۔
اصلاحِ معاشرہ اور نکاح آسان بنانے کے موضوع پر تقریریں ہوتی رہتی ہیں، لیکن عمل کا جذبہ مفقود ہوتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آسان نکاح کے عملی نمونے زیادہ سے زیادہ پیش کیے جائیں، تاکہ عام لوگوں میں اس سے عملانے کی ہمت پیدا ہو جائے- مسلم سماج کو بے جا غیر شرعی روایات کی بیڑیوں سے نجات دلا کر پاک معاشرہ بنانے میں پہل کرنا ہر اس فرد کا فریضہ ہے کہ جو اس سماج کا ایک رکن رکین ہے ۔
رابطہ ۔ہاری پاری گام ترال
فون نمبر- 9858109109