تازہ ترین

حکومت کا اقتصادی پیکیج

اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے سے کیا ہوگا؟

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


آصف اقبال
جموں و کشمیر کی خستہ حال اور روبہ زوال مالی حالت کوبہتر خطوط پر استوار کرانے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منہوج سنہا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران1350 کروڑ روپے پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا جس پرتجارتی انجمنوں اور ماہرین اقتصادیات نے ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 14 مہینوں کے نا مساعد حالات کی وجہ سے معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔ کاروباری ادارے ہوں یا ٹرانسپورٹر، ٹورزم ہو یاعام مزدور غرض ہر فردِبشر حالات کی ناسازگاری اور کورونا کی مہا ماری سے بے حد متاثر ہوچکاہے ۔حد یہ ہے کہ خوشحال اور فارغ البال لوگوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور مفلوک الحال لوگوں کا خدا ہی حافظ۔قریہ قریہ اور گلی گلی میں یاس اور قنوطیت نے اپنا ڈھیرہ ڈالا ہوا ہے۔بھوک اور افلاس کے تھپیڑوںکی وجہ سے آئے روز خود کشی  کے بے شمارمعاملات واقع ہورہے ہیں۔چنا نچہ ایک قیامت صغریٰ ہے جہاں چیخ و پکار ہے،ہا ہا کار ہے اورصغار و کبار نالہ زاری کرتے ہوئے اشکبار ہیں۔لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور سحرو فسوں کی مسموم ہوایں بہت تیزی سے چل رہی ہیں۔یمین و یسار میں مایوسی کی ایک لہر دوڑ چکی ہے۔ مصیبت کے سمندر میں ہچکولے کھاتی ہوئے عام لوگوں کی حالت کو کسی حد تک بہتر بنانے کے سلسلے میں ریاستی سرکارنے1350 کروڑ روپے کاپیکیج دینے کا اعلان کیا ہے ۔پیکیج میں کمزور تجارتی شعبہ جات کی احیاء نو کے سلسلے میں صنعتی اداروں اور تاجروں کو کسی حد تک راحت دینے کی بات کی جارہی ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ موجودہ نا گفتہ بہہ حالات کے چلتے عام لوگوں کو اس مالی پیکیج  سے کیا فایدہ حاصل ہوگا۔سماج میں رہنے والے غریب طبقے کے لوگ گوناگوں مشکلات سے دوچارہیں۔ہزاروں بے روزگار ہوئے لوگوں کواس پیکیج میں کیا ملنے والا ہے۔ دہاڑی دار مزدور طبقہ لوگوں کو اس پیکیج سے کیا راحت مل سکتی ہے۔یتیموں،مسکینوں اور بے سہاروں کے لئے اس پیکیج سے کیا حاصل ہونے والا ہے۔ضرورت یہ ہے کہ حالات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بڑے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا جا نا چا ہیے۔کیونکہ کسی سیلاب اور طوفان کو معمولی کوششوں سے روکا نہیں جا سکتا ہے بلکہ اْس کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔گزشتہ سات مہینوں سے جموں و کشمیر میں 45000 کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ اسکا گراف تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگ مایوسی کا رونا روتے ہورہے ہیں۔تجارت اور سیاحت سے وابستہ لوگوں کی کمر ٹوٹ چکی ہیں اور مزدور طبقہ بھوک مری کا شکارہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ شعبہ کو تا دم تحریر 18000 کروڑ کا نقصان اْٹھانا پڑا اور صنعت اور سیاحت کو 25000 کروڑ کا نقصان اْ ٹھانا پڑا۔ ماہرین نے اپنی رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی حالات کو بہتر خطوط پر استور کرانے کے سلسلے میں ایک جامع اور بڑے مالی پیکیج کی ضرورت ہے اور اسکے ساتھ ساتھ گراں فروشی کو قابو میں رکھنے کے سلسلے میں ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
بہر کیف موجودہ گھمبیر حالات میں معیشت کو صحیح ڈگر پر وا پس لانے کے لئے 1350 کروڑ روپے کا مالی پیکیج آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ تعمیر و ترقی کے حوالے سے جہاں ایک طرف سے سرکار لوگوں کی معاشی حالت کو مضبوط بنانے کے لئے فکر مند ہونے کا دعویٰ کرتی ہے وہیں انسانی جانوں کے ساتھ ہورہی نیلامی پر بھی غور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔راجوری کے تین بے قصور نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے سے تین آشیانے اْجاڑ دئے گئے۔تین معصوم کلیوں کو کھلتے ہی مر جھا یا دیا گیا۔ ایسا بار بار کیوں ہوتا ہے۔قصور واروں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوتی ہے اور قانون کا تجاوز روز کا معمول کیوں بنتا جا رہا ہے۔معصوم کو کیوں مجرم بنا یا جا رہا ہے۔
تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے ساتھ ہورہی زیاتیوں کا مکمل خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔خوف و حراس اور ظلم و جبر کی داستاں کو روکنے کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کی مکمل آزادی کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تب کہیں وادیٔ سوگوار میں اشکبار لوگ راحت کی سانس لے سکتے ہیں۔ کورونا کے چلتے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو قابو کرنے کے لئے ایک بھرتی مہم کا آغازکرنا چاہئے ۔جبھی شاید مرجھے ہوئے چہروں پرخوشی کے آثار نمودار ہو سکتے ہیں تاہم یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ مالی پیکیج کو دیکھتے ہوئے ابتر صورت حال کو بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ موجودہ نا مساعد کے چلتے ملازمین کی بند پڑی تنخواہوں کو واگزار کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کی واجب الادا فیس معاف ہونے سے عام آدمی کا بوجھ تھوڑا کم ہوسکتا ہے۔ جموں و کشمیر کی معاشی صورت حال پر ایک بار پھر غور کرتے ہوئے سرکار کو ترجیحی بنیادوں پر ایک روڑ میپ تیار کرناچاہئے جس میں انسانی حقوق کی آبیاری کے ساتھ ساتھ وادی کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سلسلے میں ایک جامع منصوبہ کا نقشہ کھینچا جاناچاہئے۔