تازہ ترین

تعلیمی اداروں کی جُزوی بحالی

عمل اَحسن لیکن علامتی ہی نہ رہے

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں 6ماہ کے وقفہ کے بعد بالآخر تعلیمی ادارے جزوی طور کھل گئے ۔گوکہ طلباء کی حاضری قلیل رہی تاہم نویں سے بارہویں تک کلاسز کھولنے کا عمل اپنے آپ میں مستحسن قدم ہے اور اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری نہیں۔ سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ نے کہاتھا کہ سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گاتاہم ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا تھا،وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکر لاحق ہے اور ہونی بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ہیںتاہم موجودہ حالات میں گوکہ یہ خوش کن اطلا ع ہے کہ سکول جزوی طور کھل گئے لیکن والدین کو کچھ جائز خدشات لاحق ہیں جن کا ازالہ لازمی ہے ۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کورونا کے معاملات ابھی بھی بڑھ رہے ہیں اور بھارت میں یہ ابھی بھی اپنی انتہا کو پہنچنا باقی ہے ۔ہمارے چیف سیکریٹری خود کہتے ہیں کہ یہاں ابھی بھی چھ سے سات ماہ تک کورونا کی صورتحال بنی رہے گی۔اگر ایسا ہے تو کیا اس طرح کے ماحول میںبچوں کو سکول بھیجنا ٹھیک رہے گا؟ ۔ا سمیںکوئی دورائے نہیں کہ تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور تدریسی عمل بحال ہونا چاہئے تاہم یہ سب طلباء کی زندگیوںکی قیمت پر نہیں ہوناچاہئے ۔ایک سکول میں بیسیوں علاقوںکے بچے مشترکہ طور پڑھتے ہیں اور کم ازکم ایک جماعت میں 30بچے ہوتے ہیں ۔کون جانتا ہے کہ سبھی بچے وائرس سے پاک ہیں ۔جب بھیڑ بھاڑ ہوگی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ا ب جبکہ تعلیمی ادارے جزوی طور کھل چکے ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ نویں سے بارہویںجماعت تک کے سبھی بچوں کے ٹیسٹ کروائے تاکہ سکول جانے سے قبل یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ انفیکشن میں مبتلا نہیں ہیں۔بچے بیماریوںکے تئیں انتہائی حساس ہوتے ہیں اور معمولی سا انفیکشن بھی ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے ۔کورونا کا جہاںتک تعلق ہے تو یہ انتہائی سنگین متعدی مرض ہے اور بچوںکو اس مرض کے خطرات کے سامنے بھلا چھوڑنا دانشمندی نہیں ہے ۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آن لائن تعلیم کا تجربہ کامیاب نہ رہا ۔بھلے ہی حکومت لاکھ دعوے کرے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ کشمیر میں آن لائن تدریسی عمل بری طرح ناکام ہوچکاہے اور بچوں کیلئے یہ عمل یقینی طور پر لکھے من اور پڑھے خدا والاہی تھا۔اس عمل کے دوران بچوں کے کچھ پلے نہیں پڑا بلکہ وہ انتشار کے ہی شکار ہوجاتے اگر ان کے والدین خود انکی تعلیم پر اس دوران دھیان نہ دیتے ۔اب جب درون خانہ حکومت کو بھی معلوم ہے کہ یہ عمل ناکام رہا تو وہ چاہتی ہے کہ روایتی تدریسی نظام بحال ہو،جو اچھی بات ہے اور ہونا بھی چاہئے ۔سکولوں کا تعلیمی ماحول کہیں نہیں ملے گااور بچے جو کچھ سکول میں سیکھتے ہیں ،شاید ہی کہیں سیکھ پائیں گے لیکن بچوں کو سکول لیجانے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کہیں ہمارے سکول پھر کورونا کے نئے ہاٹ سپاٹ نہ بن جائیں۔
جموںوکشمیر میں سرکاری سکولوں کی حالت کیسی ہے ،سب کو معلوم ہے ۔وائٹ واش کرنے سے ان کی حالت نہیں بدلے گی اور نہ ہی جراثیم کش ادویات سے کورونا بھاگ سکتا ہے ۔جراثیم کش ادویات کا چھڑکائومحض یہ فرضی احساس دلاتا ہے کہ آدمی انفیشکن سے محفوظ رہے گا لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ یہ سپرے کورونا وائرس پر بے اثر ہی رہتے ہیں ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر سپر ے کیا بھی جائے لیکن بچہ ہی اپنے ساتھ انفیکشن لائے تو سپرے کیا کرے گا۔اس سلسلے میں حکومت کیلئے تجویز ہے کہ وہ کم از کم بچوں کے ریپڈانٹی باڈی ٹیسٹ کروائیں تاکہ کم از کم یہ معلوم ہوسکے کہ کوئی بچہ کسی انفیکشن میں مبتلا تو نہیں ہے اور اگر کوئی بچہ کورونا جیسی علامات رکھنے والے کسی طرح کے انفیکشن میں مبتلا پایا گیا تو اُس کو سکول سے دور رکھ کر علاج کیاجاسکتا ہے اور یوں اس کے باقی ساتھی انفیکشن میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے۔
اس کے علاوہ یقینی طور پر سب سے پہلے والدین میں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ان کے بچے سکولوں میں محفوظ ہیں ۔مانا کہ حاضری لازمی نہیں ہے اور یہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچوںکو سکول بھیجیں یا نہیں تاہم اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ یہ عمل محض علامت بن کر نہ رہے تووالدین کو اعتماد میںلینا ہی پڑے گا کیونکہ موجودہ حالات میں شاید ہی کوئی باپ اپنے بچے کو سکو ل بھیجنے پر آمادہ ہوسکتا ہے کیونکہ باہر کا ماحول جیسے زہریلا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے سکولوں میں بھیڑ بھاڑ ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔سماجی دوریوں پر سکولوںمیں بھی عمل پیرا رہنا پڑے گا۔سکولی بسوں میں جس طرح بچوںکو ٹھونس ٹھونس کر بھرا جاتا ہے ،اُس سے گریز کرنا ہوگا اور بسوں میں بھی کم ازکم ایک میٹر کا فاصلہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ والدین کو لگے کہ انکے بچے محفوظ ہاتھوںمیں ہیں اور اگر وہ تعلیم کے نور سے منور ہونے جائیں گے ،تو وہ سکولوںسے اپنے ساتھ وائرس نہیں لائیںگے جو نہ صرف ان بچوں بلکہ انکے پورے گھر کیلئے بھی پھر سنگین مسئلہ بن سکتا ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت ان مشوروںپر غور کرے گی او ر انہیں روبہ عمل بھی لائے گی تاکہ تعلیمی اداروں کی مکمل بحالی تک والدین میں اعتمادپیدا کیاجاسکے اور تعلیمی سفر کامیابی کے ساتھ دوبارہ شروع کیاجاسکے۔