تازہ ترین

میوہ بردار گاڑیوں کو شاہراہ پر غیر ضروری طور روکنے کا معاملہ

سوپور فروٹ منڈی تاجروں کا احتجاج

تاریخ    22 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


غلام محمد
سوپور// سرینگر جموں شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں کو روکنے کے خلاف سوپور فروٹ منڈی کے تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے غیر ضروری طور پر مال بردار گاڑیوں کو روکنے سے انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،تاہم آئی جی ٹریفک نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ سوپور فروٹ منڈی کے باہر احتجاجی مظاہرے کے دوران میوہ تاجر مظاہرین نے کہا کہ سرینگر جموں شاہراہ پر بیرون وادی جانی والی میوہ سے لدی گاڑیوں کو مسلسل روکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ ان گاڑیوں کو روکنے کی وجہ سے گاڑیوں میں لدے پھل اور میوہ جات سڑ جاتے ہیں،جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو وہ بیرون وادی میوہ اور سبزیاں بھیجنا بند کریں گے۔ فروٹ گرورس اینڈ ڈیلرس ایسو سی ایشن سوپورکے صدر فیاض احمد ملک نے کہا کہ میوہ تاجروں کو سال2019کے بعد سرینگر جموں شاہراہ پر میوہ گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے غیر ضروری طور پر روکنے کے نتیجے میں قریب13ہزار کروڑ روپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ اس معاملے کو ٹھنڈے بستے کی نذر کر رہی ہے۔ملک نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ اس سیزن میں اس معاملے کو حل کرے کیونکہ وادی کی معیشت میں میوہ صنعت ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے۔ اس موقعہ پر منڈی کے سابق صدر مشتاق احمد تانترے نے بھی اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ پر میوہ گاڑیوں کو غیر ضروری طور پر روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈ اور رام بن میں میوہ گاڑیوں کو کئی کئی روز روکا جاتا ہے۔اس دوران آئی جی ٹریفک ٹی نامگیال نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مال بردار گاڑیاں احسن طریقے سے سرینگر جموں شاہراہ پر چلتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیر کو5ہزار مال بردار گاڑیاں کسی رکاوٹ کے بغیر شاہراہ پر سفر کر رہی تھیں۔