تازہ ترین

ہتھیار پھینکنے کیلئے اعلیٰ معیار کے کاپٹروں کا استعمال | سیکورٹی ادارے تشویش میں مبتلا،تحقیقات جاری

تاریخ    21 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


سمت بھارگو
جموں//راجوری میں سرحد پار سے ڈرون کے ذریعہ ہتھیار پھینکے جانے کے واقعہ نے سیکورٹی اداروں کو تشویش میں ڈال دیاہے کیونکہ ہتھیاروں کی گراوٹ پہاڑی کی چوٹی پر کی گئی جو فوج کے ڈویژن ہیڈ کوارٹر سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے اور فوج کے ذریعہ قائم کردہ مشاہداتی چوکیوں کے قریب ہے۔ڈرون جس کے ہیکسا کاپٹرہونے کا شبہ کیاجارہاہے ، نے مبینہ طور پر کیری اور ترکنڈی کے درمیان والے علاقے سے حد متارکہ کو عبور کیا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز پولیس اور فوج نے گردن بالا کے علاقے سے تین مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیاتھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حدمتارکہ کے پار سے عسکریت پسند تنظیمیں اعلیٰ معیار اور طویل رینج کے ڈرون کا استعمال کررہی ہیں۔ذرائع کاکہناتھا’’یہاں جو ڈرون استعمال کئے جارہے ہیں وہ اعلیٰ معیار کے ہیں اور لمبی بیٹری ، وزن اٹھانے کی زیادہ خصوصیت رکھتے ہیں اور وہ بھی روشنی کے علاوہ نظام اور آواز کی تیاری کے بغیر‘‘۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات جب راجوری پولیس اور 38آر آر نے محاصرے کے دوران تین عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا تو ڈرون نے حد متارکہ اور گردن بالا کے درمیان اڑان لی اورمواد گرا دیا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا’’ڈرون نے انتہائی محفوظ حد متارکہ کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں اور گنجان آباد علاقوں کو بھی عبور کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اعلیٰ معیار کی ہے جس کا آسانی سے پتہ نہیں لگایا جاسکتا ‘‘۔