تازہ ترین

شوپیان فرضی انکائونٹر اور سوپور حراستی ہلاکت | ڈاکٹرفاروق اورحسنین مسعودی کا پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج

تاریخ    21 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// نیشنل کانفرنس اراکین پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور حسنین مسعودی نے اتوار کو پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے کشمیر میں فرضی انکائونٹر اور حراستی ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں امشی پورہ فرضی انکائونٹر میں مارے گئے راجوری اور سوپور میں مبینہ طور پر زیر حراست ہلاک کئے گئے نوجوانوں کی تصاویر اُٹھا رکھیں تھیں۔ احتجاج کررہے اراکین نے سوپور حراستی ہلاکت اور بٹہ مالو انکائونٹر میں خاتون کی ہلاکت کی مجسٹریل انکوائری کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دونوں معاملات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئے اور حقائق کو منظر عام پر لایا جانا چاہئے۔ اراکین پارلیمنٹ نے قانون کے مطابق واقعات میں کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس نے واضح طور پر زور دے کر کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے صورتحال کو بہتر بنانے اور حکومت اور عوام کے مابین اعتماد کو بڑھانے میں مدد نہیں ملے گی۔پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی سربراہی میں پارٹی کے اراکین نے لوک سبھا کے اسپیکر سے ملاقات کی تھی اور ایوان میں جموں و کشمیر کے معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 
 

سوپور واقعہ |  لواحقین اور دیگر لوگوں سے  بیانات قلمبند کرنے کی ہدایت 

فیاض بخاری

بارہمولہ // سوپور میں مبینہ طور پر نوجوان کی زیر حراست ہلاکت کے سلسلے میں کوئی بھی معلومات رکھنے والوں کو سامنے آنے کیلئے کہا گیا ہے۔اس حراستی ہلاکت کی تحقیقات کررہے انکوائری آفیسر( ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر) نے مہلوک نوجوان عرفان احمد ڈار کے لواحقین اور دیگر لوگوں کو اپنے بیانات قلم بند کرنے کیلئے کہا ہے ۔ صدیق کالونی سوپور کے نوجوان عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار کی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہلاکت کے معاملے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ہیں اور اے ڈے سی کو 20روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اس معاملے میںتحقیقاتی آفیسر نے لواحقین اور دیگر لوگوں ،جن کو اس واقعہ کے بارے میں کوئی علمیت ہے، سے کہا ہے کہ وہ آج سے اپنے بیانات قلمبند کرائیں ۔ انکوائری آفیسر کی جانب سے اس ضمن میں ذرائع ابلاغ میں ایک اشتہار( نوٹس) کے ذریعہ متعلقین کو مطلع کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے ’’عرفان احمد کے لواحقین کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں ،جن کو واقعہ کے بارے میںکوئی بھی معلومات ہو ،سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیانات تحقیقاتی آفیسر کے سامنے قلم بند کرائیں‘‘ ۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بیانات تحریری یا زبانی 20اور 21ستمبر کو ایڈیشنل ترقیاتی کمشنر سوپور کے سامنے صبح دس سے دن کے ایک بجے تک جبکہ 22سے 26ستمبر تک اے ڈی سی آفس بارہمولہ میں صبح دس سے چار بجے تک ریکارڈ کراسکتے ہیں۔