تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | پسماندگی کا اصل سبب

قسط سوم

تاریخ    21 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


شہباز رشید بہورو
 
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ مغربی سائنسی انقلاب اسلامی علوم اور عربی مسلمانوں کی انتھک محنت و مشقت کا مرہون منّت ہے جن کی علمی و تحقیقی بنیادوں پر دور جدید اپنی آن اور شان کے ساتھ قائم ہے۔ماضی میں مسلمانوں کے مشاہدات و تحقیقات اور تلاش و ایجادات کی وجہ سے ہی انسان کی سائنسی و تکنیکی ترقی آج حیرت انگیز عروج پر پہنچنے کے قابل ہو سکی ہے جس پر خود انسان بھی متحیر و مستعجب ہے۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا حقائق سے چشم پوشی ہے کہ یورپ نے حکمت و فلسفہ اور سائنس میں ترقی کرکے اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔اسی طرح اس حقیقت کا اعتراف مغرب کو بھی بغیر کسی ادنی اعتراض کے کرنا پڑا ہے کہ یورپ کی پوری زندگی اور اس کا تمدن اسلام سے متاثر ہوا ہے۔رابرٹ بریفالٹ Brifault Robert  اپنی کتاب میں لکھتا ہے:"یورپ کی ترقی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلامی تمدن کا دخل نہ ہو۔۔۔۔"۔کیتھ ڈیولن Devlin  Keith نے "دی گوارڈین "میں لکھا تھا "موجودہ دور کے تمام ریاضی دان اور سائنسدان اسلام کے بچے ہیں ‘‘۔اس حوالے سے بے شمار مغربی مفکرین کی شہادتیں دستیاب ہیں جن کو بآسانی گوگل پر تلاش کرکے پڑھا جا سکتا ہے۔سائنسی پسماندگی کے ضمن میں امت مسلمہ کو چند حقائق تسلیم کرکے سائنس کے میدان میں تجدیدی کام کا آغاز فوری طور پر کرنا ہوگا۔پہلی حقیقت یہ کہ مسلمان اپنی میراثانہ تحقیقی و علمی روش بھول کر تجربہ و مشاہدہ کو وسیع تر کرنے کے بجائے مقلدانہ اور روایتی ذہنیت کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے مغرب نے انہیں ان ہی سے سیکھے گئے اصول و ضوابط اور سائنسی حربوں سے غلام بنانا شروع کیا اور امت مسلمہ نے ان کا غلام بننے میں خود کو خوش قسمت جانا اور مانا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم صرف اتنے ہی تک رسائی حاصل کر سکے جتنا مغرب نے چاہا۔ دوسری حقیقت یہ کہ مسلم دنیا اندر ہی اندر سے مغربی دنیا کا بازیچہ اطفال بن چکی ہے اس لئے ہر معاملے میں مغرب کی دخل اندازی کا مظاہرہ عیاں ہے اور اسی روایتی دخل اندازی کے تحت سائنسی میدان میں بھی مغرب مسلم دنیا کو جان بوجھ کر پیچھے رکھنے پر تلا ہوا ہے۔تیسری حقیقت یہ ہے کہ آج بھی مسلم دنیا کے عالی دماغ مغرب نے اپنے اسکالر شپ تعلیمی پروگرام کے ذریعے گرفتار کرکے ان سے مغرب میں اچھا کام لیا اور چونکہ مسلم سائنسدانوں کو اپنے ممالک میں نہ سہولیات دستیاب ہیں اور نہ ہی حکمرانوں کی قدردانی اس لئے وہ مغرب ہی کے مکیں بن گئے۔مسلم نابغہ شخصیات کا یہ قدم غلط ہے یا ٹھیک یہ موضوع زیر بحث نہیں ہے۔یہ تین حقیقتیں ہیں جو داخلی اور بیرونی کمزوریوں پر مبنی امت مسلمہ کے لئے چیلنجز کی حیثیت رکھتی ہیں۔جب تک نہ امت مسلمہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے عمومی طور پر تیار ہو تب تک ہماری ماضی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی جدوجہد ایک خواب حمقاء کی حیثیت رکھتا ہے۔ امت مسلمہ کی موجودہ آپسی سیاسی چپقلشیں تحقیق و سائنس کے سلسلے میں کوئی متحدہ اور سنجیدہ قدم اٹھانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔مسلم دنیا میں آئے دن تفریق کی لہریں اسے توڑ کے رکھ دیتی ہیں نتیجتاً ان کا سارا زور اپنی سیاسی سرگرمیوں پر لگ جاتا ہے۔اپنی جی ڈی پی کا وافر حصہ مغرب سے ہتھیار خریدنے میں لگ جاتا ہے۔جس کی کوالٹی بھی مشتبہ ہوتی ہے۔خیر اس المیہ کا زکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
بعثتِ رسولؐ اور نزول قرآن کے بعد جو عمیق تحقیقی کام دینی علوم میں (خصوصاً قرآن و حدیث او ر سیرت و فقہ) علمائے دین نے سرانجام دیا اس کی نظیر پیش کرنے سے پوری انسانی تاریخ قاصر ہے۔مذہبی علوم میں اس نوع کی تحقیق جو اعلیٰ اصولوں پر مبنی تھی وہ بعد کی دنیا کے لئے ہر میدان میں مشعل راہ بن گئی۔جو اصول و ضوابط اس تحقیق و تدقیق میں اپنائے گئے وہ سب قرآن و احادیث سے مستنبط تھے۔انہی قرآنی اصولوں کو اپنا کر مسلم دنیا نے بڑے بڑے سائنسدان، ریاضی دان،تاریخ دان،فلسفی ،ماہر نفسیات، جغرافیہ داں، اور ہر علم و فن میں دست گاہ کامل رکھنے والے دانشور پیدا کئے۔مسلمانوں کے دور اقبال میں قانونی سطح پر مرکز علمِ قرآن و حدیث تھا۔دینی علوم کا غلغلہ پوری مملکت اسلامیہ میں تھا۔جب تک ان علوم میں مسلمانوں کا عمومی رجحان برقرار رہا تب تک دیگر علوم بھی ارتقاء پذیر رہے۔جب مسلمان عمومی طور پر دینی علوم سے مختلف وجوہات کی بنا پر بیگانہ ہوئے تو دیگر تمام شعبہ جات میں مسلمانوں کا جاہ جلال ماند پڑ گیا۔ان کے ہاتھ سے دنیا کی جاہنبانی چھین لی گئی، ان کے ہا ں سیاسی فسادات کا چلن عام ہوا، ان کے ہاں عیاشی کے مراکز قائم ہوگئے،حکمرانوں کے محل اب علماء و حکماء کے بدلے کنیزوں اور چاپلوسوں کا پلیٹ فارم بن گیا، محنت و مشقت کا جذبہ ختم ہوگیا اور غور وفکر کی صلاحیتیں لاغر ہو گئیں۔جو اعلیٰ دماغ بچے بھی تھے ان کا رجحان زیادہ تر دینی و مذہبی علوم کی حفاظت میں لگ گیا کیونکہ دین سے لاتعلقی کی وجہ سے بے شمار ایمان سوز افکار و خیالات اور بیہودہ نظریات پیش کئے جا رتھے جن کا بروقت رد کرنا ازحد ضروری تھا۔اس حقیقت کا ذکر عالمی تجزیاتی کمپنی گیلپ پول سے وابستہ  Burkholder  Richard نے اسطرح سے کیا ہے:"جدید دنیا کی پیدائش سے قبل مسلم دنیا میں سائنسی و تکنیکی تخلیق عروج پر تھی۔لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ سب کچھ زوال پذیر ہوا۔کیونکہ مسلمانوں کا رجحان طبیعی علوم میں مذہبی علوم کے مقابل بالکل ختم ہوگیا۔"ایک مغربی تجزیہ نگار کا اس نتیجے پہ پہنچنا فطری ہے کیونکہ وہ اسلامی علوم کے روحانی فیض سے نابلد ہونے کی وجہ سے صحیح نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا ہے۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مسلم دنیا کے عالی دماغ کیوں زیادہ تر مذہبی علوم کی طرف راغب ہوئے؟ سقوط بغداد اور سقوط غرناطہ کے بعد مسلم دنیا میں سائنسی ترقی ماند پڑ گئی۔یہ سانحات عام طور پر ہماری سائنسی تنزل کے ضمن میں وجہ خاص کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سانحات اصل وجہ کے بدلے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔سقوط بغداد، سقوط غرناطہ یا سقوط خلافت عثمانیہ ہو یہ سب کچھ دینی علوم سے روگردانی کے باعث ہوئے۔قرون وسطیٰ میں مسلم سائنسدان و محقق دین کے دلدادہ تھے۔دین سے عمومی طور پر والہانہ وابستگی ہی نے مسلم معاشرے کو باکمال سائنسدان دئے تھے۔شیخ حسین عبداللہ بن علی سینا دنیا کی باکمال اور جامع شخصیت، علم طبعیات اور حیاتیات کا ماہر خصوصی، علم تشریع الاعضاء (Biology)  و منافع الاعضاء (physiology) پر گہری نظر رکھنے والا محقق و عظیم سائنسدان شریعت کا پابند آدمی تھا۔اگر ابن سینا کو کوئی مسئلہ سمجھ نہ آتا تو وہ فوراً وضو کرکے نماز پڑھتا اور دعا مانگتا تو شرح صدر ہو جاتا۔مسلمانوں کی تاریخ ان جیسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔مسلم دنیا سائنسی محققین کی قلت کی وجہ سے عمومی طور پر سائنس سے اتنی نابلد اور ناواقف ہوتی چلی گئی کہ بعد میں مغربی ایجادات و اکتشافات پر مضحکہ خیز ردعمل کا مظاہرہ کیا۔مسلمان ان علوم کو چھونے سے بھی بھاگنے لگے جن میں کبھی ان کو تفوق و امتیاز حاصل تھا اور اب گردش ایام کی وجہ سے مغرب کو ان میں تفوق و امتیاز حاصل ہے۔طبعیات ،ریاضیات اور ٹیکنالوجی جیسے علوم کی تحصیل بھی شجرممنوعہ سمجھنے لگے اور حتی کہ جدید آلات اور مشینوں کے استعمال سے بھی گریز کرنے لگے تھے۔
ماضی میں مسلمانوں کی ترقی کے پیچھے کارفرما محرکات مسلمانوں کا سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی نہیں تھی۔سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی تو اسلامی علوم پر عمل کا نتیجہ تھا۔جب ذرائع سے روگردانی کی گئی تو پوری وادی بنجر میں تبدیل ہوگئی۔ہماری سائنسی پاسماندگی کے پیچھے متعدد اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے۔کبھی امام غزالی کا فلسفہ، کبھی منگول یلغار، کبھی سامراجی یلغار وغیرہ کو ہماری سائنسی بدقسمتی کی وجوہات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے ایک ہی سبب اصل کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ ہے اسلام سے روگردانی۔یہ اسلام ہی تھا جس نے انسان کے اندر تحقیق و تدقیق کا جذبہ پروان چڑھایا۔یہ قرآن ہی تھا جس نے کائنات کی بے شمار چیزوں کے ساتھ جڑی انسان کی وہمی تقدیس کو ختم کرکے ان کو تحقیق کا موضوع بنایا۔قرآن نے یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کائنات کی ہر شئے مسخر کی ہے اور کسی چیز کو کوئی تقدس حاصل نہیں۔اب کیا تھا اس اعلان کے بعد ہر چیز تحقیق کا موضوع بن گئی۔زمین، سیارے، ستارے وغیرہ سب کو انسان کی تحقیقی نگاہیں چیرنے لگیں۔تحقیق و تدقیق، مشاہدہ و تلاش ہی سائنسی ترقی کے اصلی محرکات ہیں اور ان محرکات کا اصلی ذریعہ قرآن ہے۔اسی لئے تو علامہ اقبالؒ کو یہ کہنا پڑا:The inner core of western civilisation isquranic
 اب جب مسلمانوں نے قرآن سے روگردانی کی، قرآن کے اصولوں کے مطابق باقی علوم کو جانچنا چھوڑ دیا اور قرآن کو محض تلاوت کے لئے مختص کردیا .جس کی وجہ سے سائنسی پسماندگی تو کیا مجموعی ذلت کا شکار ہونا امت کا مقدر بن گیا۔سائنسی ترقی کا آغاز نزول قرآن کے بعد  ہی ہوا ہے۔اسی لئے مولانا وحید الدین خان نے ایک کتاب "اسلام، دور جدید کا خالق "کے عنوان سے لکھی تھی جس میں انہوں نے اس حقیقت کو سائنٹفک انداز میں پیش کیا ہے کہ واقعی جو کچھ بھی دنیا نے سائنسی ترقی کی ہے وہ سب اسلام کی دین ہے۔علامہ اقبال نے اسی قرآنی انقلاب کے بارے میں کہا تھا :
نقش قرآن تادریں عالم نشست 
نقش ہائے کاہن و پایا شکست
(مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی)
 رابطہ۔ 8492856546