آئی پی ایل2020:کھلاڑیوں کیلئے بڑی مشکل کیاہے؟

تاریخ    20 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 شارجہ اور دبئی جیسے تینوں شہروں میں گرمی اور نمی بھی کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی
ممبئی/کووِڈ 19 کی وبا کے اس دور میں کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا 13واں سیزن کو ہر طرح کے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں کو محفوظ بائیو بلبل میں رکھنے سے لے کر ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں ہیں۔کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ابو ظہبی، شارجہ اور دبئی جیسے تینوں شہروں میں گرمی اور نمی بھی کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر مواقع پر کھلاڑیوں کو 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کے درمیان کھیلنا ہو گا۔میدان پر درجہ حرات کی پریشانی کا ذکر رائل چیلنجرز کے سٹار پلیئر اے بی ڈویلیئرز نے آر سی بی کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو پوسٹ میں کیا ہے۔انھوں نے کہا’سچ پوچھیں تو میں ایسے حالات میں کھیلنے کا عادی نہیں ہوں۔ یہاں بہت گرمی ہے۔ اور اس موسم نے مجھے جولائی میں چنائی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کی یاد دلادی ہے جس میں وریندر سہواگ ہمارے خلاف کھیلے اور 300 رنز بنائے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ گرم موسم کا تجربہ نہیں کیا تھا۔'طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات کے ایک سپورٹس چینل میں کام کرنے والے سینیئر صحافی نیرج جھا وہاں کی مشکلات کی وضاحت کرتے ہیں: ’ایک تو درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہوتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ مشکل سٹیڈیم کے باہر ریتلے علاقے ہیں۔ ریت کی گرمی کی وجہ سے آس پاس بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کے سامنے اس سے نبرد آزما ہونے کا چیلنج ہوگا۔'گرمی کے علاوہ ساحل سمندر سے متصل ہونے کی وجہ سے ان تینوں سٹیڈیمز میں نمی کی سطح بھی بہت زیادہ رہنے کی امید ہے۔ایک عمومی اندازے کے مطابق تینوں شہروں میں نمی کی سطح 70 فیصد کے آس پاس ہوگی جو کہ کھلاڑیوں کے جسم میں پانی کی سطح کو کم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔بہر حال کھیل کے سینیئر صحافی وجے لوکپلی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے چیلنجز انڈیا کے ماحول سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا،دیکھئے، آئی پی ایل تو اپریل اور مئی کے موسم گرما میں انڈیا میں بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں حالات کم و بیش ایک جیسے ہی ہوں گے۔ جہاں تک نمی کی سطح کا تعلق ہے انڈیا کے کولکتہ، چنائی، ممبئی یا پھر کوچی جیسے شہروں میں ہونے والے میچوں میں بھی کھلاڑیوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سٹیڈیم گذشتہ ایک دہائی سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہوم گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔سنہ 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہاں کے سٹیڈیمز میں غیر ملکی ٹیموں کی میزبانی کرتا تھا۔اس دوران پاکستان کے کھلاڑی یہاں کے حالات میں مستقل طور پر کھیل رہے تھے۔یہ بات الگ ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کرکٹر پچھلے سیزن کی طرح آئی پی ایل کے اس سیزن میں حصہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا جائے گا۔متحدہ عرب امارات میں ہونے والے میچوں کی ٹی وی کوریج پر گہری نظر رکھنے والے نیرج جھا کہتے ہیں’نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر پاک و ہند کے کھلاڑیوں کو ابو ظہبی، شارجہ اور دبئی میں گراؤنڈ پر زیادہ پریشانی نہیں ہوگی لیکن غیر ملکی کھلاڑیوں کو ہمیشہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہاں بھی یہ صورت حال نظر آئے گی۔'آئی پی ایل 2020 میں اگر تمام ٹیموں کے غیر ملکی کھلاڑیون کو مشترکہ طور پر دیکھا جائے تو ان کی تعد 50 سے زیادہ ہوگی۔ ان کھلاڑیوں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔یہ مختلف کھلاڑیوں کے لیے اپنے انداز میں اپنی طرح کا حل نکالنے یعنی 'جگاڑ' جیسا ہوگا۔یہ جگاڑ کیا ہوسکتا ہے اس کی ایک دلچسپ مثال پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی ہے، جو متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈ میں کھیلتے ہوئے ہمیشہ اپنی گردن میں آئس کالر پہنتے تھے۔ اس کی وجہ سے ان کے جسم میں ٹھنڈک اور پانی کے کچھ حصے ہمیشہ رہتے تھے۔رائل چیلنجرز بنگلور کے اے بی ڈویلیئرز نے آر سی بی کے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں نمی کی بات بھی کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ 'رات کے دس بجے بھی یہاں بہت زیادہ نمی ہے۔ جب میں یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ پچھلے مہینوں کے مقابلے میں صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن آپ کو میچ کے آخری لمحات تک اندر کی توانائی کو بچائے رکھنے کا چیلنج تو ہوگا ہی۔'وجے لوکپلی کے مطابق انڈیا میں ڈومیسٹک میچوں کے دوران، کھلاڑیوں کو گرمی، نمی اور فلیٹ وکٹوں کے علاوہ معمولی سہولیات کے ساتھ کھیل کر اپنی ایک جگہ بنانی ہوتی ہے اور وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی نیت سے ذہنی طور پر کسی بھی مشکل چیلنج سے نمٹنے کے ارادے سے میدان میں اترتے ہیں۔آئی پی ایل میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے لیے سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر میچ شام 7:30 بجے شروع ہو رہے ہیں اور ابو ظہبی، شارجہ اور دبئی میں، درجہ حرارت شام کو قدرے کم ہونا شروع ہوتا ہے اور یہ کھلاڑیوں کے لیے بہت راحت کی بات ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی پی ایل کے مقابلے میں 20-20 اوورز کے ہوتے ہیں اس لیے کھلاڑیوں کو محض چند گھنٹے ہی میدان میں گزارنے ہوں گے۔نیرج جھا نے ان بین الاقوامی میچوں کے بارے میں بات کی جو متحدہ عرب امارات میں کھیلے جاتے ہیں اور سارا دن وہاں کھیل ہوتا ہے۔انھوں نے بتایا’دیکھیے، ان میدانوں پر ٹیسٹ میچ ہو چکے ہیں، ون ڈے کھیلے گئے ہیں جو عام طور پر دس بجے دن میں شروع ہوتے تھے اور کھلاڑی 12 بجے سخت دھوپ میں بھی میدان میں ہوتے تھے۔ جبکہ مارچ سے اکتوبر کے درمیان یہاں گیارہ بجے سے شام سات بجے تک لوگ گھروں سے نہیں نکلتے ہیں۔ اس طرح دیکھیں تو آئی پی ایل میں شامل کھلاڑیوں کو کچھ گھنٹے ہی خود کو اس میں جھونکنا ہوگا۔'خیال رہے کہ نصف سے زیادہ آئی پی ایل میچز اکتوبر میں کھیلے جائیں گے اور متحدہ عرب امارات کا درجہ حرارت ستمبر کے بعد کم ہونے لگتا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کو ریلیف ملے گی۔اس سے قبل آئی پی ایل سیزن سات کے دوران اپریل کے مہینے میں آئی پی ایل کے کچھ میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے جو اس بار سے زیادہ گرمیوں میں کھیلے گئے تھے۔گرمی اور نمی کے علاوہ ایک اور پہلو بھی ہے جو کھلاڑیوں کے لیے مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔ کھیل کے ان شائقین کو جنھیں سنہ 1998 میں شارجہ میں کھیلے جانے والے دو میچوں میں سچن تندولکر کی دو دھماکہ خیز سنچریاں یاد ہیں، انھیں اس پہلو کا اندازہ ہوگا۔سچن تندولکر کی ان دو سنچریز کو 'ڈیزرٹ سٹورم' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کی ایک سنچری والی اننگز کے دوران ہی سٹیڈیم میں ریت کا طوفان آیا تھا جس کی وجہ سے میچ کا کچھ وقت ضائع ہو گیا تھا۔

تازہ ترین