تازہ ترین

معیشت کی بحالی کیلئے مالی پیکیج بھونڈا مذاق:نیشنل کانفرنس

۔1350کروڑ روپے سے 45000کروڑ کے نقصان کی بھرپائی کیسے ہوگی؟

تاریخ    20 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 سرینگر//نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر انتظامیہ کی طرف سے اقتصادی سیکٹر میں نئی روح پھونکنے کیلئے اعلان کئے گئے مالی پیکیج کو اعداد و شماری کی ہیرا پھیری اور فریب کاری سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 13ماہ کے دوران یہاں کے اقتصادی سیکٹرکو 45ہزار کروڑ روپے سے زائد نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے اور 1350کروڑ روپے کا مالی پیکیج اس وسیع نقصان کی بھرپائی کیسے کرسکتا ہے؟ پارٹی کے ترجمان نے عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اعلان کئے گئے 1350کروڑ میں صنعتی سیکٹر کیلئے بجلی اور پانی کے فیس میں کمی پرصرف ہونے والی بہت بڑی رقم بھی شامل ہے، ایسے میں چند سو کروڑ روپے سے کون سی معیشت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے صنعتی سیکٹر میں بجلی اور پانی کے فیس میں محض ایگریمنٹ رقوم پر 50فیصد کمی کا اعلان کیا ہے نہ کہ پوری بلوں پر۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ مالی پیکیج ایک بھونڈا مذاق ہے۔ اگر جموں وکشمیر کی معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے انتظامیہ کا پیکیج خلوص پر مبنی ہوتا تو پہلے 5اگست 2019اور پھر کووِڈ- 19 کی روکتھام کیلئے نافذکئے گئے لاک ڈائون سے کاروبار کو ہوئے نقصان کو ملحوظ نظر رکھ کر پیکیج کا اعلان کیا گیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ چاہے بینکوں نے قرضوں پر قسطیں لینا بند کردیا ہو یا نہیں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کاروباریوں کو پھر بھی یہ رقوم سود سمیت ادا کرنے ہوں گے اور اس کیلئے ان کی آمدنی کہاں سے ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ واقعی کاروباریوں کو راحت دینے میں سنجیدہ ہوتی تو کم از کم قرضوں پر اُس معیاد کے دوران عائد سود کو 100فیصد معاف کیا جانا چاہئے تھا، جس دوران یہاں کرفیو کا نفاذ عمل لایا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں کیلئے 1000روپے کی امدادزخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مزدور دن میں600روپے کماتا ہے جبکہ گلکار اور ترکھان کی ایک دن کی مزدوری 1000 روپے سے زائد ہے اور انتظامیہ ٹرانسپوٹروں کو ایک ہزار روپے دیکر ان کے جذبات کیساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ ایسے ہی باغبانی شعبہ سے وابستہ لوگوں کیساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نہ صرف ڈبل لاک ڈائون سے نقصان سے دوچار ہونا پڑا بلکہ قبل از وقت برفباری نے بھی ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ قبل از وقت بھاری برف باری سے نہ صرف سیب کی پیداوار تباہ ہوئی بلکہ 50سے 70فیصد درختوںکو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بلند بانگ دعوئوں کے باوجود بھی اس شعبہ سے وابستہ افراد کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔