تازہ ترین

بیمار تجارتی و صنعتی اداروں کیلئے1350 کروڑ کے پیکیج کا اعلان

کاروباریوں کے بجلی اور پانی کی مقررہ فیس میں 50 فیصد رعایت

تاریخ    20 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 قرض دہندگان اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنیٰ ، قرضہ جات کے شرح سود میں5 فیصد کمی

 
سرینگر//جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سنیچر کو مرکزی زیر انتظام جموں کشمیر کے خستہ حال کاروباری شعبے کی بحالی کے لئے 1350 کروڑ روپے سے زائدکے جامع معاشی پیکیج کا اعلان کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ مارچ 2021 تک تمام قرض دہندگان اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہیں اور کاروباری و صنعتی شعبے کے بجلی و پانی فیس میں 50فیصد کمی کی جائیگی۔راج بھون سرینگر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ گورنر نے مالی و دیگر اقدامات کا اعلان کیا جن کا مقصد تجارت اور صنعتکاری کو مشکل حالات سے باہر نکالنا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے ، اس سے کہیں زیادہ پر کام ہو رہا ہے اور ایک نئی صنعتی پالیسی کا اعلان بہت جلد کیا جائیگا۔ سنہا نے کہا کہ کاروبار سے وابستہ لوگوں کو گزشتہ20برسوں کے دوران کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ امسال 18 اگست کو میں نے مختلف شعبوں سے وابستہ 35 وفود سے ملاقات کی جس کے بعد صلاح کار کے کے شرما کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اور مجھے خوشی ہے کہ کمیٹی نے معیاد بند مدت کے اندر اپنی رپورٹ پیش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہوئی ہے کہ پہلی بار کسی سرکاری کمیٹی نے کم سے کم وقت یعنی 12دن میں اپنی رپورٹ پیش کی ہو‘‘۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مالی پیکیج کا پہلا حصہ حکومت ہند کے آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ابھیان کے تحت اب تک جموں کشمیر بینک اور دیگربینکوں کے ذریعے 1400 کروڑ روپے پہلے ہی فراہم کئے گئے  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی پیکیج کئی حصوں پر مشتمل ہے جس کا مقصد تجارتی اداروں کو کئی طرح سے مدد فراہم کرنا ہے جس میں سرمایہ اور دیگر مالی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی فلاحی اقدامات جیسے ضرورتمندوں کیلئے مفت راشن کی فراہمی شامل ہے، اٹھائے گئے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج کے پیکیج کا سب سے اہم حصہ بنک قرضہ جات میں شرح سود میں5 فیصد کم کرنا ہے جس پر 950 کروڑ روپے صرف ہوں گے ۔ شرح سودکی معافی رواں مالی سال کے 6 ماہ کیلئے دستیاب رہے گی اور اس سے موجودہ تجارتی صورتحال پر مثبت اثر پڑے گا ۔ سنہا نے مزید کہا کہ حکومت نے کاروباری و صنعتی اداروں کو ایک سال کی مدت کیلئے بجلی اور پانی کیلئے مقررہ فیس میں 50 فیصد معاف کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے اس پر 105 کروڑ روپے کا خرچہ آنے کا تخمینہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام قرض دہندگان کے لئے مارچ 2021 تک اسٹامپ ڈیوٹی میں چھوٹ دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ بس ڈرائیوروں ، کنڈیکٹروں، آٹو ، ٹیکسی ڈرائیوروں وغیرہ کی مالی مدد کیلئے بھی ایک معقول لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹروں کو پرانی بسوں کے متبادل کیلئے 50 فیصد یا 5 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی اور بیمہ پریمیم حکومت برداشت کرے گی جو  بسوں ، منی بسوں کیلئے فی گاڑی زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ، ٹیکسیوں ، سومو کیلئے تین ہزار اور تھری وہیلروں کیلئے دو ہزار روپے ہو گی ۔ سیاحتی شعبے کیلئے ہاوس بوٹوں میں بائیو ڈائزسٹر کی تنصیب پر سبسڈی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ۔ اس کے علاوہ 19914 شکارہ/ہاوس بوٹ مالکان ، ٹورسٹ گائیڈوں ، پٹھو والوں ، ڈھانڈی والوں ، سلیچ والوں ، پونی والوں کیلئے جے کے ریلیف فنڈ میں سے امداد فراہم کی جائے گی اور ان کے حق میں گذشتہ تین ماہ سے  فی کس ایک ہزار روپے کی نقد امداد فراہم کی جارہی ہے جس کو اگلے چھ ماہ یعنی 31 دسمبر 2020 تک توسیع دی جائے گی ۔ اس موقعہ پر کہا گیا کہ 3100 فنکار وباء کے دوران اپنی روزی روٹی نہ کما سکے اور کلچرل اکیڈمی کے ساتھ وابستہ فنکاروں کو فی کس ایک ہزار روپے ماہانہ جے کے ریلیف فنڈ میں سے 9 ماہ کی مدت، یکم اپریل 2020 سے فراہم کیا جائے گا ۔ تجارتی بحالی کے جامع پیکیج میں حال ہی میں شروع کی گئی سپیشل کووڈ سکیمیں بشمول گارنٹی ایمرجنسی کریڈٹ لون جی ای سی ایل ، ورکنگ کیپٹل ڈیمانڈ لون ، ڈبلیو سی ڈی ایل سہولت نجی تعلیمی اداروں کیلئے شامل ہیں ۔ جموں کشمیر بزنس سپورٹس لون سکیم انہی خطوط پر ہوٹل اور گیسٹ ہاوسوں کیلئے شروع کی جائے گی ۔ زرعی شعبے کیلئے ضلع سطح کی بنکرز کمیٹی تشکیل دی جائے گی تا کہ زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں کیلئے مدرا قرضہ جات کے تحت قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔ اس ضمن میں قرضہ حاصل کرنے والوں کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کیلئے ہر ماہ میٹنگوں کا انعقاد کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر بینک سیاحتی شعبے کیلئے ہیلپ ٹورازم سکیم مرتب کرے گا تا کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کو اُن کی ضرورت کے مطابق مالی امداد فراہم کی جا سکے ۔ ٹیکسوں میں رعایت کے ضمن میں جی ایس ٹی واجبات کی ادائیگی کیلئے 31 دسمبر 2020 تک توسیع کی گئی ہے ۔ تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے اس پیکیج کے تحت کئی انتظامی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔ منوج سنہا نے کہا’’میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ یکم اکتوبر سے جموں و کشمیر  بینک کے ہر برانچ میں کاروباری افراد سمیت نوجوانوں کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا‘‘۔ سنہا نے کہا کہ حکومت ہند نئی صنعتی پالیسی پر کام کررہی ہے جو جلد تیار ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے نہ صرف پہلے سے ہی موجود چھوٹے بڑے کارخانوں کو مدد ملے گی بلکہ نئی کمپنیاںبنانے والوں کے لئے بھی یہ پالیسی فائدہ بخش ہوگی۔ موصوف نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ گزشتہ 20برسوں سے پیچھے جار ہا جموں و کشمیر کا تجارتی شعبہ واپس پٹری پر آجائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ہمیں بھی تھوڑا آگے بڑھنا ہے اور لوگوں کو بھی تھوڑا آگے آنا ہوگا۔مشیر کے کے شرما ، چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم ، فائنانشل کمشنر ، پرنسپل سیکریٹری بجلی و اطلاعات ، پرنسپل سیکریٹری ، پرنسپل سیکریٹری صنعت و حرفت ، ڈائریکٹر اطلاعات و رابطہ عامہ پریس کانفرنس میں موجود تھے ۔ 
 

 تجارتی انجمنوں کا ملا جُلا ردعمل

آئندہ پیکیج مربوط ہونے کی اُمیدکا اظہار

سرینگر//لیفٹنٹ گورنر کی جانب سے تجارتی ور کاروبار کی بحالی کیلئے معاشی پیکیج کے اعلان پر کاروباری انجمنوں نے ملا جُلا ردعمل پیش کرتے ہوئے تاہم امید ظاہر کی کہ جن شعبوں کو اس’’ پیکیج میں محروم‘‘ رکھا گیا ہے آئندہ پیکیجز میںانہیں صرفِ نظر نہیں کیا جائے گا۔پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے اعلان شدہ پیکیج کا خیر مقدم کیا۔چیمبر چیئرمین بلدیو سنگھ اور روح رواں مشتاق احمد چایہ نے کہا کہ منوج سنہا نے کاروبار کی بحالی کیلئے پہلے مرحلے میں جن1350کروڑ روپے کا اعلان کیا،اس کا مطالبہ اور تجویزپی ایچ ڈی چیمبر نے دی تھی،اور اس سے دفعہ370کی تنسیخ اور کرونا لاک ڈائون کے نتیجے میں خستہ شدہ معیشت کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کہ آئندہ مہینوں میں لیفٹیننٹ گورنر معیشت کی بحالی کیلئے مزید پیکجزاور اصلاحات کا اعلان کریں گے۔چیمبر صدر شیخ عاشق نے بتایا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت نے جموں و کشمیرمیں گزشتہ14ماہ سے سخت مشکلات کا سامنا کیاہے ۔شیخ عاشق کا کہنا تھا کہ انکی انجمن حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنرسے ملاقی ہوئی تھی ،جس دوران انہوں نے ان سے یہ مطالبہ رکھا تھا ،کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو نتیجہ خیز سفارشات پیش کرے،جس کی یہاں بڑی ضرورت تھی ۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینی فیکچرس ایسو سی صدر محمد یاسین خان نے امید ظاہر کی کہ آئندہ کے پیکیجز میں مزید مالی معاونت کی جائے گی تاکہ وادی میں دم توڑتی تجارت کو بحال کیا جاسکے۔ خان نے کہا کہ انہوں نے تشکیل دی گئی کمیٹی ممبران کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں’ ’ہم نے انہیںبتایا کہ 15ہزار کرروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جس کی بھرپائی مرکز سے ہونی چاہئے کیوںکہ جموں کشمیر سرکار کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں ‘‘۔کے ٹی ایم ایف صدر نے بتایا اور بھی بہت سارے مسائل جن میں انڈسٹریز ،ٹرانسپورٹ ،عام لوگ،تاجر وغیرہ کو بہت ساری پریشانیاں ہیں کوبھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں طبی لاک ڈائون کے دوران نقصانات کو نہ دیکھے بلکہ سیاسی لاک ڈائون کے دوران بھی یہاں کا کاروبار بالکل ختم ہواہے۔کشمیر اکنامک الائنس نے پیکیج کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیکیج اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ5اگست کے بعد وادی میں معیشت کو50ہزار کروڑ کے قریب نقصان ہوا،اور انہیں امید تھی کہ حکومت کم از کم15ہزار کروڑ روپے لیکر سامنے آئے گی،تاہم اس پیکیج سے تجارتی حلقہ مایوس ہوا۔ڈار نے امدی ظاہر کی کہ لیفٹیننٹ گورنر آئندہ کے پیکیجز میں ان شعبہ جات کا بھی خیال رکھے گے،جنہیں اس پیکیج میں فراموش کیا گیا۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ ایند مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک اور دھڑے کے چیئرمین محمد صادق بقال نے محتاط الفاظ میں پیکیج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہے کہ وہ مکمل طور پر اس پیکیج کی وضاحت کریں۔ بقال نے کہا کہ امید ظاہر کہ تجارت سے وابستہ چھوٹے طبقے کو فراموش نہیں کیا جائے گا،اور ان کیلئے بھی پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ کشمیر ٹریڈ الائنس چیئرمین اعجاز شہدار نے امید ظاہر کی کہ،جس طرح لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ابھی شرعات ہے،آئندہ مرحلوں میں تجارت بالخصوص دکانداروں کی تجارت کی بحالی کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائے گے۔ادھر ٹراول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر نے پیکیج کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال5اگست کے بعد سیاحتی صنعت سب سے زیادہ تباہ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ معیشت میں ریڑ کی ہڈی تصور کی جانی والی سیاحتی صنعت کو پیکیج میں ٹھنڈے بستے کی نظر کیا گیا ہے۔ کشمیر ٹرانسپوترس ویلفیر ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ یوسف نے پیکیج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرانسپوتروں کیلئے علیحدہ پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران یہ شعبہ سخت متاثر ہوا ہے۔ کشمیر فروٹ گروس ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے پیکیج  پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دورن سب سے زیادہ متاثر شعبہ باغبانی ہے اور اس پیکیج میں باغبانی شعبے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ایف آئی سی سی آئی کے چیئرمین عرفان احمد گجو نے لیفٹنٹ گورنر کی جانب سے اعلان شدہ پیکیج کا خیر مقدم کیا۔