تازہ ترین

نالائق

افانچہ

تاریخ    20 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


تحلیل احمد ملک
سعیدہ نے حیدر کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اس سے کہا،" حیدر بیٹا ادھر آؤ تھوڑا کام ہے"۔ حیدر جھٹ سے اٹھا اور ماں کے بازو پکڑ کر اسے ڈیوڑھی تک لے آیا اور کہا، " ماں کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہیں کہ جب کوئی بات کر رہا ہوتو پہلے دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے ۔۔۔۔! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا!!"
" بیٹا میں تو۔۔۔۔!"
" بس ماں بہت ہوگیا ! اب تم اندر مت آنا ، میرے دوست تمہیں دیکھ کر میرا مذاق اُڑائیں گے"، حیدر کے منہ سے ایسے دل دہلانے والے الفاظ کانوں میں دھیرے دھیرے اتار کر سعیدہ کو جیسے جھٹکا لگ گیا۔۔۔۔دیوار کا سہارا لے کر اور پھیرن کی آستین سے آنسو پونچھ کر حیدر سے کہا،" بیٹا کیا میں اتنی غیر ہو گئی کہ اب تم مجھے حقیر شے کے  سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔۔۔ ٹھیک ہے میں باہر ہی رہتی ہوں مگر بیٹا میری ایک بات یاد رکھنا بھلے ہی تم میری عزت نہ کرو مگر میرے منہ سے تمہارے لئے ہمیشہ نیک دعائیں ہی نکلیں گی۔۔!" یہ کہہ کر سعیدہ نے اپنا پھیرن سیدھا کیا اور وہ چلی گئی۔ مگر ماں کی ان شفقت بھری باتوں سے اس نالائق پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنے لفنگے دوستوں کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے کمرے کے اندر چلا گیا۔۔۔
���
لہوند شوپیان کشمیر،موبائل؛9697402129