تازہ ترین

زخمِ تَر

کہانی

تاریخ    20 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نورؔشاہ
ہونٹوں کی بھی اپنی ایک مجبوری ہوتی ہے اکثر لگتا ہے کہ سب کچھ تو کہہ دیا لیکن بات پھر بھی ادھوری رہ گئی۔ آنکھوں کا بھی یہی حال ہے، بند ہوں تو خواب سجنے لگتے ہیں ، کھلی ہوں تو خواب بکھر جاتے ہیں، سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی لگتا ہے کہ اب بھی بہت کچھ دیکھنا ہے۔ اس صورتحال میں غیر یقینیت کا ایک عجیب سا ماحول کروٹیں لینے لگتا ہے اور زندگی کی ساری تلخیاں اُبھر اُبھر کر زندگی کی ساری خوشیوں کو بے مزہ کر دیتی ہیں!
مقبول صاحب اور خدیجہ کی زندگیوں میں نہ تو کوئی تلخی تھی اور نہ ہی غیر یقینیت کا اھساس۔ہاں! انہیں اپنے بیٹے کو خوش خوش دیکھنے کے لئے زندگی جینے کی تمنا ضرور تھی۔
اب سے قریب قریب پینتالیس برس قبل جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اُن دونوں کی عمروں میں تین ماہ کا فرق ہے۔ خدیجہ اپنے خاوند مقبول صاحب سے عمر میں تین ماہ بڑی تھی اور اِس ناطے اُس کا ماننا تھا کہ اسکے ہونٹوں پر آئی ہر بات حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ ویسے بھی مقبول صاحب خدیجہ کو بہت چاہتے تھے اور خدیجہ کی کسی بات پر نا کہنے کی عادت فراموش کرچکے تھے۔ اب تو اُن دونوں کی عمریں ستر سال کی ہوچکی تھیں،چھوٹی بڑی بیماریوں کے باوجود اُن دونوں کی صحت قدرے بہتر اور پُرسکون تھی اور شاید اسی لئے عمر کی اس دہلیز پر بھی اُن کی شادی شدہ زندگی بڑی نفاست، نزاکت اور عزت و احترام سے گذر رہی تھی۔ مقبول صاحب ایک اعلیٰ سرکاری عہدہ پر فائز رہنے کے بعد سبکدوش ہوچکے تھے اور اُن کی بیگم ہمیشہ سے ہی گھر گرہستی کو سنبھالتی آرہی تھیں۔ اِس عمر میں بھی عثمان کے ہوتے ہوئے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا اُن کو پسند تھا اور مقبول صاحب کے لئے ہفتہ میں دو ایک بار اپنے ہاتھوں سے اُن کی پسند کا کھانا بنانا بھی اچھالگتا تھا۔ مقبول صاحب کے کھانے کا انداز خدیجہ کو بے حد پسند تھا ، وہ رُک رُک کر اور ٹھہر ٹھہر کر کھاتے تھے۔ مقبول صاحب جب سرکاری ملازمت میں تھے تب بھی اُنہیں اچھی خاصی تنخواہ ملتی تھی اور اب بھی وہ اچھی خاصی پنشن کے حقدار تھے اور پنشن کی یہ رقم ہر ماہ اُن کے بینک کھاتے میں جمع ہوتی تھی۔ آج کے مہنگائی کے دور میں بھی اُن کی آمدن اخراجات سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ آمدن اور اخراجات کا اندازہ اُنہیں اس لئے بھی نہیں ہوتا تھا کہ اُن کا اکلوتا بیٹا ریاض گذشتہ چھ برسوں سے ایران میں ایک معروف اور عالمی سطح کی کمپنی میں کام کررہا تھا۔ بنیادی طور پر وہ ایک انجینئر تھا۔ یہاں کام کرنے کے عوض نہ صرف اُسے اچھی خاصی تنخواہ ملتی تھی بلکہ اُس کے رہنے کی ضرورت کے مطابق گھر بھی ملاتھا۔ ان چھ برسوں میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے چاہتے ہوئے بھی وہ ایک بار بھی اپنے وطن ، اپنے شہر، اپنے گھر نہ آسکا تھا، اپنے والدین سے مل نہ سکا تھا لیکن ہر ماہ وہ اچھی خاصی رقم اُن کو باقاعدگی سے بھجوانا اس کی ترجیحات میں شامل تھا۔ اس طرح دور رہ کر بھی وہ والدین کے تئیں ایک بیٹے کی حثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے واقف تھا۔
مقبول صاحب کا اپنا مکان تھا، ایک حویلی نما مکان جسکے ساتھ ایک بڑا سا آنگن بھی تھا۔ قریب قریب ایک کنال زمین پر مشتمل اس بڑے سے آنگن کو عثمان نے مقبول صاحب کی ہدایت کے مطابق اور اپنے ذوق و شوق سے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک حصے میں ناشپاتی، سیب، اخروٹ اور بادام کے چند درخت استادہ تھے۔ دوسرا حصہ سبزیوں کی کاشت کے لئے مخصوص تھا اور سامنے والے تیسرے حصہ میں باغیچہ بنایا گیا تھا۔ اور یہ باغیچہ ہر موسم میں رنگ برنگے پھولوں سے لالہ زار بنا نظرآتا تھا۔ درخت ہوں یا سبزیاں، پھو لوں یا اُن کی رنگ برنگی نزاکتیں، سب مختلف موسموں کی سردی گرمی برداشت کرتے کرتے اب بھی مقبول صاحب اور ان کی بیگم کی طرح وقت کا ساتھ دے رہے تھے۔ ہاں! اِس پُرسکون ماحول میں جب بھی اُنہیں ایک دوسرے کے قریب رہنے اور خوب باتیں کرنے کے باوجود تنہائی اور اکیلے پن کا احساس ہوتا آنسو بن کر اُن کی آنکھوں سے اُمڈ پڑتا اور انہیں اپنے اکلوتے بیٹے کی یاد آتی۔۔۔۔ ریاض کی یاد۔۔۔۔ اور پھر ایک دوسرے کی جانب دیکھ دیکھ کر خاموشی سے اپنی اپنی یادوں میں کھو جاتے اور من ہی من میں اپنے بیٹے کی سلامتی کے لئے اللہ کی جانب رجوع کرتے۔۔۔!
اپنے اس حویلی نما مکان میں صرف وہ دو ہی رہتے تھے۔ مکان کے قریب قریب سارے کمرے بند رہتے تھے، ایک خواب گاہ، ایک ڈرائینگ روم، ایک کچن اور دو باتھ روم کے سہارے اُن کی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں۔ ڈرائینگ روم کو مقبول صاحب نے ریڈنگ روم بنا کر کتابوں کی بستی میں تبدیل کرلیا تھا۔ وہ خوب پڑھتے بھی تھے  اور اکثر کتابوں کی اس بستی میں کھو جانا اُن کی بڑی پرانی عادت تھی۔ اِسی کمرے کے ایک گوشے میں جائے نماز بچھی رہتی تھی، جہاں میاں بیوی وقت پر نماز ادا کرتے تھے۔ خدیجہ بیگم روز صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سورہ یٰسین کی تلاوت کرتی تھی۔ مقبول صاحب کو کسی دوست نے مشورہ دیا تھا کہ مکان کا ایک بڑا حصہ چونکہ ہمیشہ بند رہتا ہے، اس لئے اسے گیسٹ ہائوس بنایا جاسکتا ہے یا کرایہ پر بھی دیا جاسکتا ہے لیکن مقبول صاحب نے یہ مشورہ اس لئے قبول نہیں کیا تھا کہ وہ گھر کو صرف گھر کی صورت میں دیکھنے کے قائل تھے۔اپنے بڑے سے آنگن کی پچھلی جانب تین کمروں اور ایک غسل خانہ پر مشتمل ایک چھوٹا سا کوارٹر اور بھی بنوالیا تھا۔ یہ کوارٹر عثمان کی ضرورتیں پوری کرتا تھا۔ عثمان کی بھی اپنی ایک کہانی ہے۔ ملازمت کے آخری ایام میں مقبول صاحب کو کسی دور دراز علاقے میں جانا پڑا۔ وہاں سے وہ عثمان کو اُس کے والدین کی رضامندی سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ عثمان کو انہوں نے ایک قریبی سکول میں داخل تو کروالیا لیکن اُس نے آٹھ جماعتیں پڑھنے کے بعد سکول جانا ترک کردیا اور مقبول صاحب کے بڑے سے ویران آنگن کی خاموشیوں کو پرندوں کی چہچہاہٹ سے آباد کرنے میں مصروف ہوگیا اور آج مقبول صاحب کے حویلی نما مکان کے آس پاس سبزہ زار میں پھولوں کی مہک کے ساتھ مختلف پھولوں سے بھر پور درختوں کی جو قطاریں نظر آرہی ہیں اُن کے رکھ و رکھائو میں عثمان کی بہت زیادہ محنت و مشقت پوشیدہ تھی۔ عثمان کی اس لگن سے مقبول صاحب اور خدیجہ کی دلچسپی میں بھی نکھار سا آگیا تھا۔ وہ لمحہ لمحہ اپنے بوڑھے اور کمزور ہاتھوں سے اُس کی مدد کرتے تھے۔ ویسے بھی گھر کے دوسرے کاموں کو نبھانا، کھانا بنانا اور گھر کی صفائی ستھرائی جیسی ساری ذمہ داریاں عثمان نے سنبھال لی تھیں۔ وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے کے بعد ایک دو دن کیلئے اپنے آبائی گھر جاتا تھا۔ کافی سارا سودا سلف ساتھ لے جاتا اور مقبول صاحب کی دی ہوئی رقم بھی والدین کے سپرد کرتا۔ وہ نہ صرف مقبول صاحب اور اُن کی بیگم بلکہ اپنے بیٹے کو بھی دعائوں سے نوازاتے۔۔۔!
اب کی بار اتنے برسوں کے بعد ریاض نے گھر آنے کا وعدہ کیا تھا اور والدین کی پسند کی لڑکی سے شادی کرنے کے لئے ہاں بھی کرچکا تھا۔ حویلی نما مکان کے سارے کمرے کھول دیئے گئے۔ ہر کمرے کی جانب ضرورت کے مطابق توجہ دی گئی۔ دروازوںاور کھڑکیوں کے پردے بدل دیئے گئے۔ کمروں کے فرش میں تبدیلی لائی گئی۔ رنگ و روغن سے کمروں کو سنوارا گیا۔ لڑکی کی تلاش میں شدت آنے لگی۔ اُن کی نظر میں کئی لڑکیاں تھیں لیکن انتخاب ریاض کی رضامندی سے ہی کرنا چاہتے تھے۔ ریاض کی آمد سے اُن کی زندگی میں ایک نئی بہار آنے والی تھی۔ مسکراہٹوں کی بہار۔ پھولوں اور اُن کی رنگینیوں کی بہار اور وہ اِس بہار کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے۔ 
’’پر میری ایک شرط ہے۔‘‘ ایک دن مقبول صاحب نے کہا
’’وہ کیا؟‘‘ خدیجہ نے پوچھا۔
’’میری ہونے والی بہو کی عمر میرے بیٹے سے کم ہونی چاہئے۔۔۔ کم سے کم تین ماہ۔‘‘
’’وہ کیوں۔‘‘
’’وہ اس لئے کہ میری طرح اُسے بھی عمر بھر اپنی بیوی کا حکم نہ ماننا پڑے۔‘‘
اور وہ دونوں بے ساختہ ہنس پڑے تھے۔۔!!
اور اِس طرح یہ چھوٹا سا کاروان زندگی کی مسافت طے کرتا ہوا ایک انجانے راستے کی جانب رواں دواں تھا۔ شائد اس بات سے بے خبر کہ موسموں کے رنگ بدلتے رہتے ہیں اور موسموں کی طرح زندگی کے رنگ پھیکے پڑ کر اُداسیوں میں سمٹ جاتے ہیں۔ شائد اِسی وجہ سے ہونٹوں پر آئی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ آنکھوں کو وہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا جو آس پاس ہورہا ہوتا ہے اور شائد اِسی بے خبری کے عالم میں زندگی کی حویلی کے دروازے پر دستک دیئے بغیر کورونا وائرس داخل ہوا۔ عالمی سطح کی یہ وبا انسانی زندگیوں سے کھیلنے لگی۔ مفادات اور اختیارات کی لڑائی ختم ہوگئی اور حیات کو بچانے کی لڑائی کا آغاز ہوا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے مقبول صاحب بھی آگے آئے اور انہوں نے اپنا حویلی نما مکان سرکار کی تحویل میں دے دیا تاکہ اسے کورون ٹائین سینٹر کے طور پر استعمال میں لایا جاسکتے اور کورونا وائرس میں مبتلا بیشتر اشخاص کی بہتر نگہداشت ممکن ہو اور مقبول صاحب اپنی بیگم کے ساتھ عثمان کے کمروں میں سمٹ گئے۔!!
اور وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ اُن کے حویلی نما مکان میں قائم کورونا وائرس سینٹر میں داخل ہونے والا پہلا شخص کوئی غیر نہ تھا، کوئی اجنبی نہ تھا بلکہ ایران کے ایک شہر سے اپنے گھر لوٹنے والا اُن کا پنا بیٹا تھا۔۔۔!!!
���
رابطہ؛لل دید کالونی، رالپورہ سرینگر،موبائل نمبر؛8899637012