این آئی ٹی سرینگر میں زیر تعلیم طلاب کا انتظامیہ سے سوال | جب ہوسٹل کا استعمال نہیں کیا، تو فیس کیوں بھریں

تاریخ    19 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نیشنل انسٹی چیوٹ ٹیکنالوجی سرینگر (این آئی ٹی)میں زیر تعلیم طلبہ نے جمعہ کو انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا بحران کے ابتدائی مہینوں کے ہوسٹل فیس کو معاف کریں کیونکہ ہوسٹل سہولیات کا استعمال کووڈ۔19مریضوں نے کیا ،جنہیں یہاں کورنطین میں رکھا گیا تھا۔ این آئی ٹی سرینگر میں زیر تعلیم طلبہ کے ایک وفد نے بتایا کہ کووڈ ۔19کی وبا کشمیر میں پھیلنے کیساتھ ہی تعلیمی اداروں کو بند کردیا جبکہ ہاسٹل میں قیام پذیر طلبہ کو گھر جانے کا حکم دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اُسی وقت طلبہ نے ہوسٹل خالی کیا اور گھروں کو لوٹ گئے جبکہ سے لیکر وہ ہوسٹل کا استعمال نہیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا ’ کئی ہوٹلوں اور تعلیمی اداروں کو کورنطین مراکز میں تبدیل کیا گیا ،جن میں این آئی ٹی بھی شامل ہے ‘۔ تاہم اب این آئی ٹی انتظامیہ نے طلبہ سے ہوسٹل فیس کا تقاضا کیا ،جو کہ طلبہ کیلئے باعث تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران این آئی ٹی نے حکومت سے ہوسٹل چارجز وصول کئے کیونکہ ہاسٹل عمارت کو کورنطین مریضوں کیلئے استعمال میں لا یا گیا ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’طلبہ کیسے ہوسٹل فیس ادا کریں گے ،جبکہ ہوسٹل کو کووڈ۔19مریضوں کیلئے استعمال میں لایا گیا ؟‘۔ان کا کہناتھا ’این آئی ٹی انتظامیہ نے طلبہ سے چھ ماہ کیلئے 28ہزار ہوسٹل فیس ادا کرنے کیلئے کہا ہے جوکہ طلبہ کیساتھ نا انصافی ہے ۔اس سلسلے میں کے این ایس نے این آئی ٹی کے رجسٹرار قیصر بخاری سے فون پر رابط قائم کرنے کی کوشش کی ،تو اُن کا فون مسلسل (ڈائیورٹ) پر تھا جبکہ ادارہ کے ایک اور اعلیٰ افسرعدنان قیوم نے معاملے پر بات کرنے سے معذرت ظاہر کی ۔(کے ایس ایس)
 

تازہ ترین