تازہ ترین

فوجیوں نے افسپا اختیارات سے تجاوز کیا

امشی پورہ شوپیان میں مبینہ جھڑپ کی تحقیقات مکمل

تاریخ    19 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی

  با اختیار انضباطی حکام کاملوث افراد کیخلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی کا حکم:دفاعی ترجمان

 
سرینگر//فوج نے کہا ہے کہ جولائی کے مہینے میں شوپیان میں ہوئے تصادم کے بارے میںابتدائی تحقیقات کے دوران فورسز نے افسپا کے تحت حاصل خصوصی اختیار کی خلاف ورزی کی ہے ، اور ملوثین کیخلاف نظم شکنی کی کارروائی شروع کی ہے۔
فوج کا بیان
فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے اور فوج نے انہیں افسپا(AFSPA) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز کیا ہے ۔لہٰذا با اختیارانضباطی اتھارٹی نے حکم دیا ہے کہ فوجی قانون کے تحت ان لوگوں کیخلاف کارروائی کی جائے جو ابتدائی تحقیقات کے دوران جوابدہ پائے گئے ہیں۔دفاعی ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے’’ فوج کی جانب سے امشی پورہ آپریشن کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے، جس میں ابتدائی طور پر آپریشن کرنے والی فورسز کو خصوصی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پایا گیا ہے‘‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا نہ صرف1990سے لاگو افسپا کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز ہے بلکہ فوجی سربراہ کی طرف سے بنائے گئے قواعد و ضوابط، جنہیں سپریم کورٹ نے بھی منظوری دی ہے، کی خلاف ورزی بھی ہے۔ لہٰذا اس بات کو مدنظر رکھ کر با اختیار انضباطی اتھارٹی نے یہ ہدایات دی ہیں کہ فوجی قانون کے تحت نظم شکنی کی پاداش میں ان کیخلاف کارروائی کی جائے، جو زمہ دار ہیں۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے ’’ جو شواہد ابتدائی تحقیقات کے دوران انکوائری کمیٹی نے حاصل کئے ہیں، میں اس بات کی مبینہ بطور پر نشاندہی کی ہے کہ امشی پورہ میں جاں بحق تین عدم شناخت جنگجو امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار تھے، جو راجوری سے تعلق رکھتے تھے۔انکی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے ، اورانکی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا معاملہ پولیس کے زیر تفتیش ہے‘‘۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج مروجہ قواعد و ضوابط کیساتھ آپریشنز کرنے کی وعدہ بند ہے، علاوہ ازیں اس کیس کی مناسبت سے آئندہ کی پیش رفت کے بارے میں وقفہ وقفہ سے جانکاری دی جائیگی تاکہ قانون کی عمل آوری اثر انداز نہ ہونے پائے‘‘۔
تب کا پولیس بیان
خیال رہے کہ امشی پورہ شوپیان میں جھڑپ کے دوران 3جنگجوئوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔18جولائی کو پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ’’ علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع فوج کی جانب سے دی گئی جس کے بعدپولیس ، 62آر آر و سی آر پی ایف نے مشترکہ آپریشن کیا جس کے دوران تین جنگجو مارے گئے ‘‘۔بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’ 62آر ار کی طرف سے امشی پورہ میںجنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا ، تلاشی کارروائی کے دوران جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے، اس آپریشن میں پہلے فوج نے حصہ لیا بعد میں پولیس اور سی آر پی ایف بھی شامل ہوئی ۔بیان میں کہا گیا تھا’’جھڑپ میں عدم شناخت جنگجومارے گئے۔ اور مقام جھڑپ سے تین لاشیں برآمد کی گئیں جنکی شناخت کی جارہی ہے،انکے قبضے سے قابل اعتراض چیزیں بشمول اسلحہ و گولہ بارود برا ٓمدکیا گیا‘‘۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ لاشوں کا پہلے انکا ڈی این اے لیا گیا اور بعد میں انہیں بارہمولہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 
سوشل میڈیا کی طاقت
3عدم شناخت جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کرنے کے کچھ روز بعد سوشل میڈیا پر لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آئیں ، اور عدم شناخت جنگجو راجوری کے تین مزدور نکلے۔اسکے فوراً بعدراجوری کے3 کنبوںنے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں کو بے گناہ مزدور قرار دیا جو صرف ایک روز قبل مغل روڑ سے شوپیان مزدوری کرنے گئے تھے۔سوشل میڈیا پر جب اس معاملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی  اور اسکی تحقیقات کا مطالبہ کیا جانے لگا تو شوپیان پولیس کی ایک خصوصی ٹیم ایک دی ایس پی کی قیادت میں تشکیل دی گئی جسے راجوری بھیجا گیا تاکہ اہل کانہ کے بیانات قلمبند کئے جائیں۔اس دوران متاثرہ کنبوں نے  ڈپٹی کمشنر آفس راجوری کے باہر دھرنا دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ پولیس کی زیر نگرانی پہلے تشکیل دی گئی ٹیم کے تابع ڈی این اے نمونے لئے جائیں۔تب سے ڈی این اے نمونوں کی رپورٹ نہیں آئی ہے اور اس معاملے میں خدشات کا اظہار کیا جانے لگا۔لیکن فوج نے اسی روز اس معاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون میں تین روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ معاملے سے متعلق انصاف کو ہر حال میں فوقیت دی جائے گی ۔ادھر جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ چند روز میں ڈی این اے رپورٹ کے نتائج منظر عام پر آئیں گی ۔
 

 انکوائری رپورٹ ہمارے دعوئوں کی تائید 

فوج پر مکمل اعتماد،ملوثین کو سزائے موت دی جائے : اہل خانہ 

سمت بھارگو
 
راجوری//راجوری سے تعلق رکھنے والے تین نوجوان، جو 18 جولائی کو شوپیاں  انکائونٹر میں ہلاک کئے گئے ، کے کنبوں نے جمعہ کے روز بھارتی فوج کے بیان اور اس کی انکوائری رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور اس واقعہ پر انصاف کا مطالبہ کیا۔ان نوجوانوں کے رشتہ دار محمد سلیم نے بتایا’’ہم فوج کی اس کی انکوائری رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں ہمارے ذریعہ کئے گئے تمام دعوئوں کی بھی تائید ہوتی ہے‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہم ان تینوں نوجوانوں کی بے گناہی کا رونا رو رہے ہیں کیونکہ وہ صرف مزدوری کا کام حاصل کرنے کیلئے شوپیان گئے تھے اور ان کوانکائونٹر کے نام پر قتل کیا گیا ،جمعہ کو فوج کے بیان نے ہمارے دعوے کو جواز بخشاہے ‘‘۔ سلیم نے مزید کہا کہ ڈی این ایے نمونوں کی رپورٹ کی جلد از جلد تصدیق ہونی چاہئے تاکہ وہ اپنے بھائیوں کی نعشیں حاصل کرسکیں۔ان تین نوجوانوں میں سے ایک امتیاز کے والد صابر حسین نے کہا کہ فوج کو ان کے بچوں کے جعلی انکائونٹر اور قتل کے اس گھنائونے جرم میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے کا اعلان کرنا چاہئے۔ان کاکہناتھا’’ہمیں ایک تنظیم کی حیثیت سے فوج پر مکمل اعتماد تھا اور یہی بات ثابت ہوئی ہے کیونکہ فوج نے بھی مناسب تحقیقات کی ہے اور اب معاملات منظر عام پر آرہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’میں اپنے بیٹے اور دو بھتیجوں کو انصاف دینا چاہتا ہوں اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے‘‘۔ان نوجوانوں کے چچالال حسین کاکہناتھا’’ہمیں امید ہے کہ فوج اور پولیس دونوں اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات مکمل کریں گے‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہمارے تین سیدھے سے مطالبات ہیں ،نعشیں لوٹائیں تاکہ ہم آبائی قبرستان میں آخری رسومات ادا کرسکیں ، اس جعلی مقابلے میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے اور ان بیانات کی تردید کی جائے کہ ہمارے لڑکے عسکریت پسند تھے‘‘۔ ان تینوں میں سے دونوجوانوں کا تعلق راجوری کی دھار ساکری پنچایت سے ہے جہاں کی نمائندگی کرنے والے سرپنچ اعجاز احمد نے فوج کے بیان کو حقیقت کی ابتدائی جیت اور انصاف کی امید کی کرن قرار دیا۔ان کاکہناتھا’’فوج کا آج کا بیان ہمارے لئے انصاف کی امید کی ایک بڑی کرن ہے‘‘۔
 

انکوائری 3روز قبل مکمل کی گئی

فوجی سربراہ اور لیفٹیننٹ گورنرکا معاملہ پر تبادلہ خیال 

شبیرابن یوسف
 
سرینگر//شوپیان جعلی جھڑپ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے سے قبل فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے درمیان تبادلہ خیال ہوا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہااورفوجی سربراہ منوج مکند نروانے، کے درمیان جمعرات کوراج بھون میں اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ایک سرکاری افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ فوجی سربراہ نے لیفٹیننٹ گورنر کو تحقیقات کے نتائج سے باخبر کیااور انہیں اِسے منظرعام پر لانے کوکہا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے فوجی سربراہ کوبتایا کہ متاثرہ کنبوں کو انصاف فراہم کیاجاناچاہیے۔فوجی سربراہ وادی کے دوروزہ دورے پر ہیں اورانہوں نے جنرل جوشی اور جنرل راجو کے ہمراہ جمعرات کو لیفٹیننٹ گورنر سے راج بھون میں ملاقات کی۔ذرائع نے بتایا کہ تین روزقبل فوج نے تقریباًاپنی تحقیقات مکمل کی ہے اور وہ اعلیٰ حکام کی طرف سے اجازت ملنے کاانتظار کررہے ہیں۔جب جمعرات کو فوجی سربراہ یہاں پہنچے ،اس معاملہ پر شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی اور15ویں کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو کے ساتھ انہوں نے تبادلہ خیال کیا۔ذرائع نے بتایا کہ فوج کوجب الزامات کی جانکاری ملی ،سینئر حکام اس بات پر بضد تھے کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔حتی کہ فو ج نے اخباروں میں اس کے لئے اشتہار بھی دیا کہ لوگ اس معاملے میں شہادت دینے کیلئے آگے آئیں۔ حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر نے شوپیان واقعہ کی تحقیقات کاحکم دیا جس میں تین جوان مارے گئے تھے اور یقین دلایا تھا کہ اس معاملے میں انصاف کیاجائے گا۔راج بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا،’’اس میں جو بھی قانونی لوازمات تھے۔۔فوج اپنی طرف سے تحقیقات کررہی ہے اور ہم نے اپنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے ۔میں یقین دلاتاہوں کہ اُن کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔‘‘

تازہ ترین