ویسٹرن فور شور روڈپروجیکٹ کا کیا ہوا؟

لوگوں کی لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل

تاریخ    19 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//ڈلگیٹ سے سعدہ کدل تک ویسٹرن فور شور روڈ کے پروجیکٹ پر تعمیری کام شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ گذشتہ2برسوں سے اس اہم پروجیکٹ پر کام شروع نہیں ہورہا ہے۔لوگوں نے اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ علاقہ کی ہزاروں آبادی کی مانگ پوری ہونے کے ساتھ ساتھ جھیل ڈل کا تحفظ یقینی بن سکے ۔ویلفیر کمیٹی پوش باغ کالونی باغ روپ سنگھ خانیار کے عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈلگیٹ ممتا ہوٹل سے سعدہ کدل تک جھیل ڈل کے کنارے بیلوارڈ طرز پرویسٹرن فور شور روڈ کے پروجیکٹ کے منصوبے کو سرکار نے 2016میں منظوری دی اور پھر اس پروجیکٹ کوسرینگر میونسپل کارپوریشن ،لائوڈا اور آر اینڈ بی محکمہ نے ہاتھ میں لیا جس دوران اس سڑک کو تعمیر کرنے کیلئے نشاہدہی اور پیمائش کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف لوگوں کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوتی بلکہ جھیل ڈل کو بھی تحفظ مل جاتا کیونکہ جھیل ڈل کے کنارے سڑک بن جانے سے ڈل کی ایک حد مقرر ہوجاتی جس طرح بیلوارڈ کی جانب سے حد بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس پروجیکٹ پر مقامی باشندگان نے سرکار کو پورا تعاون دیا اور 2014میں سیلاب سے تباہ ہوئے مکانوں کی مرمت نہیں کی ۔وفد میں شامل شبیر احمد میر نے کہا کہ اگرچہ 2109میں اس پروجیکٹ کیلئے ڈی پی آر بھی تیار ہوا اور بعد میں کام کی شروعات بھی ہوئی تاہم متعدد مرتبہ صرف نشاہدہی کی گئی اور سڑک کی تعمیر شروع نہیں کی گئی ۔ پوش باغ کالونی کے لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ اس اہم پروجیکٹ کی تعمیر کیلئے وہ ذاتی مداخلت کریں اور پروجیکٹ کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیرینہ مانگ کو پورا کیا جائے ۔

تازہ ترین