تازہ ترین

خُود کشی ایک بُزدلانہ فعل

فکروِ نظر

تاریخ    19 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید سلمان اندرابی
گزشتہ دنوںفجر کی نماز پڑھ کر معمول  کے مطابق سیروتفریح کے بعد گھر کے باغیچہ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا۔ خبر یہ تھی کہ ہندوستان کے مشہور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے تمام کرلیا ۔افسوس اس بات کا نہیں تھاکہ ایک اداکار کی موت واقع ہوئی ہے۔ بس میں اس سوچ میں الجھ گیا تھا کہ آخر جن وجوہات کی بنا پر ایک غریب شخص خودکشی کا شکار ہوتا ہے ،وہ سارے وسائل تو مہیا تھے ۔جو چیزیں اس دار فانی میں انسان چاہتا ہے وہ تمام تر وسائل موجود تھے ۔آخر کن باتوں پر ایسے لوگ اپنی جان لیتے ہیں۔
آخر خودکشی کیا ہے؟لوگ کیوں خودکشی کرتے ہیں؟تمام تر مذاہب خودکشی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اسلام نے اسے بزدلانہ عمل کیوں قرار دیا ہے؟۔ اس جیسے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔آخر کار تسکین قلب کی خاطر میں نے خودکشی سے متعلق کتابوں اور دانشور حضرات سے رجوع کیا۔ پتا چلا کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو قصداً اور غیر قدرتی طریقے سے ہلاک کرنے کا عمل خودکشی کہلاتا ہے۔خودکشی اصل میں فارسی لفظ ہے جس کے معنی قتل نفس یعنی کسی وجہ سے اپنے آپ کو قتل کرکے موت کی آغوش میں چلے جانا۔یا یوں کہیں کہ زندگی کے مشکلات اور معاملات سے نہ لڑنے کی صلاحیت کو منظر عام پر لاکر اپنی بزدلی و کاہلی کا ثبوت پیش کرنے کا نام خودکشی ہے۔ظالم کے ظلم،دباؤ،پریشانی ،بے یقینی ،ڈپریشن اور ایسے ہی کئی وجوہات ماضی میں خودکشی کرنے کے اسباب مانے جاتے تھے لیکن دور حاضر میں کچھ ایسے وجوہات کی بنا پر انسان اپنی جان لے بیٹھتا ہے جو یقینا حیرت میں ڈالنے والے ہیں جن میں مال ودولت کا حاصل نہ ہونا،نشیلی ادویات کا استعمال،عشق وعاشقی میں ناکامیابی۔ اور بھی ایسی کئی وجوہات جو دور حاضر میں خودکشی کے بنیادی اسباب تصور کئے جاتے ہیں۔مزید حیر ت میں ڈالنے والی بات تو یہ ہے کہ حال ہی میں کئی آن لائن کھیلوں کی وجہ سے بچے اس عمل میں ملوث ہوئے جو کہ بہت زیادہ فکروافسوس کی بات ہے۔
اسلام اور دیگر مذاہب میں بھی خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔حرام اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ انسان کا اپنا جسم اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی عطا کردہ امانت ہے۔زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے۔جو بقیہ تمام نعمتوں کے لئے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔اس لئے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افراد معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ بہر صورت زندگی کی حفاظت کریں۔کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی کوئی بھی مذہب ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔اور تعداد اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی)آگ میں ڈال دیں گے ،اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے(سورۃ النساء)۔ ائمہ تفسیر کے نزدیک یہ آیات خودکشی کی ممانعت اور حرمت پر دلالت کرتی ہے۔احادیث مبارکہ میں بھی خودکشی  کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہیں۔ فرمایا تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔یہ حدیث پاک واضح طور پر اپنی جسم و جاں اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ایک اور حدیث میں ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ حنین میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ، رسول اللہؐ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جو آپ کے ساتھ تھا اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ، فرمایا :’’ یہ جہنمیوں میں سے ہے۔‘‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص بہت جرأت کے ساتھ لڑا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا ، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ ااپ نے جس شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے اس نے تو اللہ کی راہ میں بہت جرأت کے ساتھ لڑائی لڑی ہے اور اس نے بہت زیادہ زخم کھائے ہیں ، آپ ؐ نے فرمایا :’’ سن لو ! وہ جہنمیوں میں سے ہے۔‘‘ قریب تھا کہ بعض لوگ شک و شبہ کا شکار ہو جاتے ،ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ وہ تاب نہ لا سکا ،زخموں کی تکلیف سے بلبلا اٹھا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھا کر ایک تیر نکالی اور اسے اپنے سینے میں پیوست کر لیا ، مسلمان یہ منظر دیکھ کر دوڑتے ہوئے رسول اللہؐ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ کے رسولؐ ! اللہ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی ، فلاں شخص نے اپنے سینے میں تیر پیوست کر کے خودکشی کر لی ہے ، رسول اللہؐنے فرمایا : اللہ اکبر ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، بلال ! کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے ، بے شک اللہ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔ ایک دوسری رایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو شخص کسی لوہے سے اپنے آپ کو قتل کرلے تو وہ جہنم میں ہوگا، اس کے ہاتھ میں لوہا ہوگا جس وہ اپنے پیٹ میں ہمیشہ ہمیش بھونپتا رہے گا ،اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے تو وہ جہنم میں ہوگا اور ہمیشہ ہمیش زہر پیتا رہے گا اور جو پہاڑ سے گراکر کودکشی کرلے وہ جہنم  میں ہوگا اور برابر گرتا رہے گا‘‘۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہو تا ہے کہ خودکشی کرنے والا جہاں اپنے ہاتھوں اپنی دنیا ختم کرلیتا ہے وہیں اسے آخرت میں سخت عذاب ہوگا کیونکہ نظام خدا وندی میں دخل اندازی اس کے نظام کو چیلنج کرنا ہے، خودکشی بھی اس کے نظام موت وحیات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جو ناقابل معافی ہے۔ ایسے شخص کو خالدا و مخلدا فی النار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 
؎دنیا میں ہر دن کئی لوگ اس حرام فعل کا ارتکاب کرتے ہیں حالیہ تحقیق کے مطابق کئی لاکھ لوگ ہر سال خودکشی کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس فعل کو روکنے کے لیے ہر ایک کو آگے آنا ہوگا۔معاشرے میں ذہنی تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ہر ایک کی پریشانی کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں جٹنا ہوگا۔اللہ پاک ہر کسی کو اس عمل حرام سے بچائے۔آمین 
رابطہ ۔کپوارہ کشمیر
موبائل نمبر۔7006317932