سوپور میں نوجوان کی حراستی ہلاکت کا معاملہ

اے این سی اور سی پی آئی ایم کی شدید الفاظ میں مذمت

تاریخ    18 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//سوپور میں نوجوان کی مبینہ حراستی ہلاکت پر اے این سی اور سی پی ائی ایم نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عوامی نیشنل کانفرنس ( اے این سی )کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے سوپور کے نوجوان کی پولیس کے زیر حراست موت واقعہ ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر کو چاہے تھا کہ وہ پولیس یونٹ سوپور کو انکوری مکمل کرنے تک معطل کرکے انکی فوری طور گرفتار عمل میںلائے اور معاملے کی تحقیقات جج سے کروائیں۔ عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں سوپور واقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعے کی میعاد بند تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاکہ فوری طور واقعے کے حوالے سے حقیقت سامنے آجائے۔انہوں نے بتایا اگر کوئی شخص پولیس تحویل سے بھاگ رہا ہے تو انہیں اسکو مارنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔مظفر شاہ نے سوال کیا ہے کہ اگر پولیس بیان کے مطابق پو را اندھیرہ تھا تو عرفان کو کس طرح نشانہ بنایا گیا اور اسے کیسے گولی مار دی گئی ۔انہوں نے کہا ابھی لوگ شوپیاں میں عام شہریوں کے فرضی انکونٹر کے انصاف کا انتظار کر رہے تھے ،دوسری جانب سوپور میں عرفان احمد کا معاملہ پیش آیا جو قابل افسوس ہے ۔انہوں نے کہا ایل جی جموں کشمیر منوج سنہاکو چاہے تھا کہ سوپور کے مزکورہ پولیس یونٹ کو معطل کر کے تحقیقات مکمل کرنے تک گرفتار کیا جائے ۔اس دوران سی پی ائی ایم نے کہا کہ سوپور میں گرفتاری کے ایک دن بعد 23 سالہ نوجوان کی موت ، اس کی ایک اور واضح مثال ہے کہ کس طرح کشمیر میں قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ سی پی آئی ایم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نوجوان کے قتل کے بارے میں پولیس ایک من گھڑت کہانی بنا رہی ہے جس پر کسی بھی کشمیر کو اعتبار نہیں ہے۔ کشمیر کی صورتحال اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں ایسے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا بھی ایک مذاق کی طرح دکھائی دیتا ہے جیسا کہ ماضی میں ایسے واقعات کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو شوپیان میں راجوری سے 3 مزدوروں کے قتل کی  تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا تاہم آج تک مقتول نوجوانوں کے اہل خانہ بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج حاصل نہیں کر سکے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بٹہ مالو میں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین ہوئی جھڑپ کے دوران ایک خاتون کا قتل ایک اور افسوس ناک واقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد اور ہلاکتیں کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی ہیںاور شہریوں کا ہلاک ہونا انتہائی بدقسمتی اور قابل مذمت ہے اور اس کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔
 

تازہ ترین