دفعہ370کا خاتمہ:جموں وکشمیر اور لداخ کاملک کیساتھ ادغام مکمل

۔223افراد زیر حراست، کوئی گھر میں نظر بند نہیں: مرکز وزیر

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// مرکزی سرکار نے کہا ہے کہدفعہ370کی تنسیخ کے بعد مرکزی زیرانتظام علاقے جموں وکشمیراور لداخ پوری طرح ملک میں مدغم ہوچکے ہیں اوراس سال مارچ کے مہینے سے اگست تک 138جنگجوئوں کوہلاک کیاجاچکا ہے جبکہ اس دوران 50حفاظتی اہلکار بھی مارے گئے جبکہ فی الوقت جموں کشمیرمیں223لوگ حراست میں ہیں۔ان باتوں کااظہار مرکزی وزیر مملکت برائے امورداخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی قوانین کے فوائدجن سے ملک کے دیگر شہری مستفید ہورہے تھے،سے اب جموں کشمیرکے لوگ بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تبدیلیوں اور سابق ریاست کی تشکیل نو کے بعددونوںمرکزی زیرانتظام علاقوں کا مکمل طور ملک کے ساتھ ادغام ہوا ہے۔ریڈی نے کہا کہ اس تبدیلی نے دونوں نئے مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سماجی واقتصادی ترقی لائی ہے ۔ان تبدیلیوں سے لوگ بااختیار بن گئے ہیں اور ناموزوں قوانین کاخاتمہ ہوا ہے اورجن کے ساتھ سالہا سال سے امتیاز برتا جارہا تھا انہیں برابری کادرجہ مل گیا ہے ۔ وزیرمملکت نے کہا کہ جموں کشمیرجنگجویت سے متاثر ہے جسے سرحد پار سے گزشتہ تین دہائیوں سے حمایت حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ یکم مارچ2020سے31اگست2020تک جموں کشمیرمیں 138جنگجو مارے گئے جبکہ50اہلکار بھی اس دوران ہلاک ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے اگست2019سے جولائی2020تک دراندازی کے176کوششیں کی گئیں،جن میں111کامیاب ہوئی۔ ریڈی نے کہا کہ11ستمبر2020کو 223افراد حراست میں تھے جبکہ کوئی بھی شہری گھر میں نظر بند نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ 5اگست2019کو سابق ریاست کی دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد جنگجویت کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ29 جون، 2018 سے 4اگست 2019 تک (402دن)  میں جنگجویت کے455واقعات پیش آئے جبکہ 5اگست 2019 سے 9ستمبر 2020 تک (402دن)کے دوران211ایسے واقعات پیش آئے۔
 

تازہ ترین