چین 38ہزار مربع کلو میٹر حصے پر قابض

لداخ تنازعہ کے پُر امن حل کے تئیں پابند

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی

ایل اے سی کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش ،بھارت سالمیت کا دفاع کرنے کیلئے بھی تیار:راجناتھ سنگھ

نئی دہلی// ہندوستان نے کہا ہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن چین اور بھارت کے درمیان حل طلب معاملہ ہے لیکن مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں کی حیثیت کو چین کی جانب سے یکطرفہ طور تبدیل کرنے کی کوشش کسی بھی طور منظور نہیں ہے۔ ہندوستان اس معاملے کا حل افہام و تفہیم سے نکالناچاہتا ہے لیکن اپنی خود مختاری، علاقائی اتحاد و سالمیت کی دفاع کی خاطر تمام صورتحال کیلئے تیار بھی ہے۔
سرحدی تنازعہ
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی فوج کے ساتھ ڈیڈ لاک پر لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ایل اے سی پر اپریل سے یکطرفہ تبدیلی کے ارادے سے فوج میں اضافہ شروع کر دیا اور پھر ہندوستانی فوج کی با ضابطہ گشت میں خلل ڈالا۔ بعد ازاں حل کیلئے جب فوجی کمانڈر کی سطح کی بات چیت پر اتفاق رائے ہوا تو اس کی خلاف ورزی کرکے چینی فوج نے ہندوستانی فوجیوں پر پرتشدد حملے کیے۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جان کی قربانی دی، وہ چینی فریق کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ہی اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب رہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ چین، ہندوستان کی تقریباً 38 ہزار مربع کلومیٹر زمین پرغیر قانونی قبضہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ 1963 میں ایک مبینہ سرحدی سمجھوتے کے تحت پاکستان نے جموں و کشمیر کے حصے سے 5180 کلومیٹر چین کو سونپ دیاتھا۔ اسکے علاوہ چین ارونا چل میں 90ہزار کلو میٹر بھارتی علاقے کو اپنا جتلاتا ہے۔
بات چیت کا خواہاں
وزیر دفاع نے کہا کہ ماسکو میں چین کے وزیر دفاع سے انہوں نے بات چیت میں کہا،’ اس معاملے میں ہندوستان اس مسئلے کو پر امن ڈھنگ سے حل کرنا چاہتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ چینی فریق ہمارے ساتھ مل کر کام کرے، وہیں ہم نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہم ہندوستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی دفاع کے لیے مکمل پرعزم ہیں‘۔انہوں نے کہا،’ ہم موجودہ صورتحال کے پر امن حل کے تئیں پابند عہد ہیں، ساتھ ہی تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے مسلح فورسز کے جوانوں کا جوش و ولولہ اور حوصلہ بلند ہے‘۔ سنگھ نے کہا،’ چینی فریق نے ایل اے سی پر اور اندرونی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی ٹکڑیاں اور گولہ بارود اکٹھا کیا ہوا ہے، مشرقی لداخ اور گوگرا، کونگکا لا اور پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی ساحلوں پر کئی متنازعہ مقامات ہیں، چین کی کارروائی کے جواب میں ہماری مسلح فوجیوں نے بھی ان علاقوں میں مناسب جوابی تعیناتی کی ہے تاکہ ہندوستان کی سلامتی مفاد مکمل طور پر محفوظ رہے‘۔
سرحد کا سوال حل طلب
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین دونوں نے رسمی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ سرحد کا سوال ایک مشکل مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے صبر کی ضرورت ہے اور اس مسئلے کا غیر جانبدارانہ، مناسب اور باہم قابل قبول حل، پر امن مذاکرے سے نکالا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ابھی تک ہندوستان چین کے سرحدی علاقے میں ایک مشترکہ ایل اے سی نہیں اور اس سلسلے میں دونوں کا نظریہ مختلف ہے لہٰذا امن اور استحکام بحال رکھنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان کئی طرح کے معاہدے اور پروٹوکال ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت یہ مانا گیا ہے کہ ایل اے سی پر امن اور استحکام بحال رکھی جائے گی جس پر ایل اے سی کے اپنے اپنے نظریات اور سرحد کے سوال کا کوئی اثر نہیں مانا جائے گا۔ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سرحد کے مسئلے کے حل کے بارے میں بحث کی جا سکتی ہے لیکن ایل اے سی پر امن اور استحکام میں کسی بھی طرح کی سنگین صورتحال کا دو طرفہ تعلقات پر یقینی طور پر اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ 1993 اور 1996 کے معاہدوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایل اے سی کے پاس دونوں ملک اپنی فوجوں کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔ معاہدے میں یہ بھی ہے کہ جب تک سرحد کا مسئلہ مکمل حل نہیں ہوتا ہے تب تک ایل اے سی کا سختی سے احترام اور اس پرعمل درآمد کیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ ان معاہدوں میں ہندوستان اور چین ایل اے سی کی توثیق کے ذریعے یکساں سمجھ پر پہنچنے کے لیے پابند عہد ہوئے تھے۔ اسی بنیاد پر ہندوستان اور چین تعلقات کو فروغ ہوا لیکن بعد میں چین نے ایل اے سی کی توثیق کے عمل کو روک دیا۔
موجودہ صورتحال
 سنگھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے مطابق چینی فریق نے ایل اے سی اور اندرونی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی ٹکڑیاں اور گولہ بارود جمع کیا ہوا ہے۔ مشرقی لداخ اور گوگرا، کونگکالا اور پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی ساحلوں پر کئی متنازعہ مقامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی کارروائی کے جواب میں ہماری فوجوں نے بھی ان علاقوں میں مناسب جوابی تعیناتی کی ہے تاکہ ہندوستان کا سلامتی مفاد پوری طرح محفوظ رہے۔ ایوان کو مطمئن رہنا چاہیے کہ فوجیں اس چیلنج کا کامیابی سے سامنا کریں گی اور اس کے لیے ہمیں ان پر فخر ہے۔ ابھی جو صورتحال ہے اس میں کاروائی سے متعلق حساس مسائل شامل ہیں لہٰذا وہ چاہ کر بھی اس بارے میں زیادہ انکشاف نہیں کر سکتے ۔
پہلا واقعہ نہیں
وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان سرحدی علاقے میں موجودہ مسائل کا حل، پر امن مذاکرے اور غور و خوض کے ذریعے کیے جانے کے تئیں پابند عہد ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے وہ اپنے چینی ہم منصب سے چار ستمبر کو ماسکو میں ملے اور ان سے مذاکرہ ہوا۔انہوں نے کہا،’ میں نے واضح طور پر ہماری تشویش کو چینی فریق کے سامنے رکھا جو ان کی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی، جارحانہ برتائواور یکطرفہ ڈھنگ سے حیثیت بدلنے کی کوشش سے متعلق تھیں‘ سبھی جو دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے‘۔انہوں نے کہا،’ میں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم اس مسئلے کو پر امن ڈھنگ سے حل کرنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ چینی فریق ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔ وہیں ہم نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ہم ہندوستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی دفاع کے لیے پوری طرح پر عزم ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ وقت میں بھی چین کے ساتھ ہمارے سرحدی علاقوں میں طویل ڈیڈ لاک کی صورتحال کئی بار بنی جسے پر امن ڈھنگ سے حل کیا گیا لیکن رواں برس کی صورتحال پہلے سے بہت مختلف ہے پھر بھی ہم موجودہ صورتحال کے پر امن حل کے تئیں پابند عہد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
قوم فوج کیساتھ کھڑی
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں ہندوستان۔چین سرحدی تنازعہ کے پس منظر کا ذکر بھی کیا ہے اور ایوان سے درخواست کی کہ وہ ایک تجویز منظور کرے کہ ہم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہیں جو اپنی جان کی پراوہ کیے بغیر ملک کی چوٹیوں کی اونچائیوں پر مشکل حالات کے باوجود ’بھارت ماتا‘ کی دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے جون کو گلوان وادی میں عظیم قربانی دینے والے کرنل سنتوش بابو اور دیگر 19 فوجیوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے  لداخ کا دورہ کرکے بہادر جوانوں سے ملاقات کی تھی۔وزیر دفاع نے کہا،’ اس ایوان کی ایک قابل فخر روایت ہے کہ جب بھی ملک کے سامنے کوئی بڑا چیلنج آیا تو اس ایوان نے ہندوستانی افواج کے عزم اور حوصلے کی خاطر مکمل اتحاد و اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری فوج کے جوانوں کا جوش اور حوصلہ بلند ہے۔ وزیر اعظم مودی کے بہادر جوانوں کے درمیان جانے کے بعد ہمارے کمانڈر اور جوانوں میں یہ پیغام گیا ہے کہ ملک کے 130 کروڑ باشندے جوانوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ لداخ میں فوجیوں کے لیے برفیلی اونچائیوں کے مطابق خاص طرح کے گرم کپڑے، ان کے رہنے کے لیے خاص طرح کے ٹینٹ اور ان کے تمام اسلحہ، گولہ۔بارود کا حسب ضرورت انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا،’ میں اس ایوان سے یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ملک کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے جب یہ ایوان اپنے مسلح افواج کے عزم اور بہادری پر مکمل یقین کا اظہار کرتے ہوئے انھیں یہ پیغام بھیجے کہ یہ ایوان اور پورا ملک مسلح افواج کے ساتھ ہے جو ہندوستان کی خود مختاری اور وقار کی حفاظت میں سرگرم عمل ہیں۔
 
 
دفعہ370کا خاتمہ:جموں وکشمیر اور لداخ کاملک کیساتھ ادغام مکمل
223افراد زیر حراست، کوئی گھر میں نظر بند نہیں: مرکز وزیر
نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی// مرکزی سرکار نے کہا ہے کہدفعہ370کی تنسیخ کے بعد مرکزی زیرانتظام علاقے جموں وکشمیراور لداخ پوری طرح ملک میں مدغم ہوچکے ہیں اوراس سال مارچ کے مہینے سے اگست تک 138جنگجوئوں کوہلاک کیاجاچکا ہے جبکہ اس دوران 50حفاظتی اہلکار بھی مارے گئے جبکہ فی الوقت جموں کشمیرمیں223لوگ حراست میں ہیں۔ان باتوں کااظہار مرکزی وزیر مملکت برائے امورداخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی قوانین کے فوائدجن سے ملک کے دیگر شہری مستفید ہورہے تھے،سے اب جموں کشمیرکے لوگ بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تبدیلیوں اور سابق ریاست کی تشکیل نو کے بعددونوںمرکزی زیرانتظام علاقوں کا مکمل طور ملک کے ساتھ ادغام ہوا ہے۔ریڈی نے کہا کہ اس تبدیلی نے دونوں نئے مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سماجی واقتصادی ترقی لائی ہے ۔ان تبدیلیوں سے لوگ بااختیار بن گئے ہیں اور ناموزوں قوانین کاخاتمہ ہوا ہے اورجن کے ساتھ سالہا سال سے امتیاز برتا جارہا تھا انہیں برابری کادرجہ مل گیا ہے ۔ وزیرمملکت نے کہا کہ جموں کشمیرجنگجویت سے متاثر ہے جسے سرحد پار سے گزشتہ تین دہائیوں سے حمایت حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ یکم مارچ2020سے31اگست2020تک جموں کشمیرمیں 138جنگجو مارے گئے جبکہ50اہلکار بھی اس دوران ہلاک ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے اگست2019سے جولائی2020تک دراندازی کے176کوششیں کی گئیں،جن میں111کامیاب ہوئی۔ ریڈی نے کہا کہ11ستمبر2020کو 223افراد حراست میں تھے جبکہ کوئی بھی شہری گھر میں نظر بند نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ 5اگست2019کو سابق ریاست کی دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد جنگجویت کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ29 جون، 2018 سے 4اگست 2019 تک (402دن)  میں جنگجویت کے455واقعات پیش آئے جبکہ 5اگست 2019 سے 9ستمبر 2020 تک (402دن)کے دوران211ایسے واقعات پیش آئے۔
 

تازہ ترین