ماضی کے دریچوں سے

اڈولف ہٹلر کے ذہن کا پوسٹ مارٹم

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


افتخار خان
بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں دنیا پرایک نام خوف کی طرح چھایا رہا تھااور وہ نام تھا ہٹلر۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہے کہ ہٹلرکون تھا،کہاں پیداہواہے۔پہلی بار یہ باتیں اُس وقت منظر عام پرآئی جب والٹر سی لینگر ایک امریکی ماہرنفسیات کی ہٹلرکی نفسیات پر مبنی تصنیف 1972منظر عام پر آئی۔اگر چہ اس کتاب کو شائع ہوئے اب چند دہائیا گزری ہیں،لیکن درحقیقت اس کا مسودہ سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943تیارکیاگیاتھا۔ مصنف نے ہٹلر کے زمانہ عروج میں متعدد قابل اعتمادذرائع اورٹھوس شہادتوں کی مدد سے بیسویں صدی کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اورنازی فلسفہ کے بانی کی آمرانہ ذہنیت اور نفسیات کاانتہائی ماہرانہ اورفاضلانہ تجزیہ کیا ہے ۔اس کے بچپن اور اوائل شباب سے قبل اوربعدمیں اس کے طرزعمل میں کارفرماعوامل کی نشاندہی کی ہے۔سروالٹر سی لینگر کاکہنا ہے کہ1936میں رائن لینڈکے دوبارہ قبضے کے موقع پرہٹلرنے اپنے طرزعمل اور کردار کے بارے میں ایک غیر معمولی جملہ کہاتھا،’’میں خواب میں اُٹھ کرچلنے والے شخص کے قطعی درست اندازاورتحفظ کے ساتھ اپناراستہ طے کرتا ہوں‘‘۔اپنے متعلق ہٹلرکایہ اعتراف حقیقت پرمبنی تھااور اگر اس کی قوم اس اعتراف کا صحیح مطلب سمجھ جاتی توشایددنیااتنے عظیم بحران کاشکار نہ ہوتی۔ہٹلرنے بعدمیں جوبھی قدم اُٹھایا،وہ ایک ایسے شخص کاقدم تھاجوخواب میں چل رہاہو۔اُسے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ اُس کے کسی فیصلے یااقدام کاکیانتیجہ برآمدہوسکتاہے۔
 ہٹلراس بنیادی خوش فہمی میں مبتلاتھاکہ وہ ایک عظیم شخصیت ہے۔ایک اخبار نویس کوانٹرویودیتے ہوئے ایک بار اُس نے کہاتھا،’’کیاتمہیں معلوم ہے کہ تم ماضی اور مستقبل کی ایک عظیم شخصیت کے سامنے ہو‘‘۔اُسے اس بات کا بھی زعم تھاکہ وہ ایک تاریخ سازکرداراداکرنے کیلئے عالمگیرسیاست کے اسٹیج پرنمودارہواہے۔اپنے سیاسی حریف اسٹراسرسے بحث کرتے ہوئے ایک مباحثے کے دوران ایک بار اُس نے کہا،’’مجھے اپنے تعلق کوئی غلط فہمی نہیں ،میں جوکچھ کہتاہوں یاکرتاہوں وہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے ‘‘۔
نہ صرف یہ کہ ہٹلرنے خودکوایک بڑی سیاسی اورتاریخی شخصیت خیال کرلیاتھا،بلکہ وہ خودکو سب سے بڑا ماہرامورحرب،سپہ سالار،سب سے کامل انجینئر،آرٹسٹ ،سیاسی فلسفی اورنہ جانے کیا کیا سمجھتا تھا۔مثلاًاُس نے نئے شہروں کے ماڈل اور بعض تاریخی عمارات کے نئے اسکیچ بنانے پراپناکافی وقت صرف کیاتھا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ویاناکے آرٹ اسکول میں داخلہ امتحان میں وہ پاس نہ ہوسکاتھا۔
اپنے عروج اورعظمت پر اس قدر یقین کی کیاوجہ تھی ؟ایک شہادت کے مطابق ہٹلر نے بطورسیاسی کارکن ایک چالاک اور عیار شخص ایرک جان ہنوسن سے فن تقریراورعوامی نفسیات پرعبورکے سلسلے میں باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ہنوسن نجوم وغیرہ سے بھی واقف تھا۔اس نے ہٹلرکو پیش گوئیوں کے ذریعے یہ یقین دلایا تھا کہ مستقبل میں وہ ایک عظیم لیڈر بننے والاہے ۔اس طرح ہٹلریہ سمجھنے لگا کہ خدانے اُسے جرمنی کانجات دہندہ بناکر بھیجا ہے اور یہ کہ وہ ایک مشن رکھتا ہے جس کی تکمیل کیلئے قدرت اُس کی مدد کررہی ہے ۔ابتدائی کامیابیوں نے اُس کا یہ گمان یقین میں بدل دیا۔آہستہ آہستہ وہ خود کو مسیح یااُن کا نعم البدل تصور کرنے لگا۔اس کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنے اورحضرت مسیح کے مشن کے درمیان تقابل اور موازنے میں بڑی دلچسپی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ وہ جس قسم کے مذہب(نازی ازم)کوجرمن قوم کیلئے موزوں سمجھتا تھا،اُس کاانجیل کی تعلیمات سے دور کابھی واسطہ نہ تھا۔جس مسیح کو یورپ جانتی اور مانتی ہے اُسے ہٹلرایک نرم اور کمزور لیڈر سمجھتا تھا۔
جب اُسے یقین ہوگیاکہ اُسے ایک عظیم الشان مشن کے ساتھ خدانے پیدا کیا ہے تواُس نے ڈکٹیٹرکے نقش وقدم پرچلتے ہوئے اپنے کام اور نام کی ابدی اورلافانی یادگاریں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔اگر اُسے فوری طور پرجنگ عظیم میں نہ الجھ جاناپڑتا،وہ اپنے اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچادیتا۔درحقیقت وہ خودکو لافانی بنانا چاہتاتھا۔اُس نے ایک ایسی عمارت بنانے کا حکم دیاتھاجواس قدرمضبوط ہوتی کہ کم ازکم ایک ہزار سال تک باقی رہتی۔اسے ایسی عظیم الشان شاہرائیں تعمیر کرنے کا شوق تھاجونپولین کی بنائی ہوئی سڑکوں سے زیادہ پائیدار ہوتیں۔علاوہ اور باتوں کے ہٹلرنے اپنا ایک شاندار مقبرہ بنانے کا بھی منصوبہ تیار کیا تھا۔اس کی خواہش تھی کہ اس مقبرے کی بلندی کم ازکم سات سوفٹ ہواوراُسے دیکھ کر لوگوں کے سر عقیدت اوراحترام سے جھک جائیں اور یہ کہ اس کی موت کے بعد لوگ اس کی زیارت کو جایا کریں۔افسوس تاج محل جیسے عظیم مقبرے کے خواب دیکھنے والے ڈکٹیٹرکی آج کچی یاخستہ قبرتک موجود نہیں ۔
ظاہری شخصیت میں ہٹلرایسا خوش نصیب واقع نہیں ہواتھالیکن اس کے باوجود اس کا طلسم جرمن عوام پرکسی بھو ت کی طرح مسلط ہوگیا۔اس کا قدوقامت اوسط سے بھی کمتر تھا۔کولہے چوڑے اور کندھے تنگ تھے ۔ٹانگیں چھوٹی اور بھدی تھیں،چھاتی اس قدردبی ہوئی تھی کہ وہ یونیفارم کے نیچے باقاعدہ پیڈ استعمال کرتا تھا۔اس کے ناخن کافی میلے اور شکستہ تھے۔دانت تو گویا صٖفائی سے ہی ناآشنا تھے۔عورتوں کی مانند چال کے اُس کی شخصیت کے تاثر کو مزید پامال کردیاتھا۔
ہٹلرکی آنکھوں میں مقناطیسیت کے بارے میں بہت کچھ کہاگیا ہے ۔اس کی آنکھیں نیلی اور چمکدار تھیں۔ان میںایک خاص گہرائی تھی جو دیکھنے والے کوہپناٹائزکااثر ڈالتی ۔اقتدار سے قبل جب ہٹلرکی جماعت حکومت کی نظر میں کھٹکتی تھی ۔ایک بار ہٹلر کے کسی عوامی جلسے میں ایک آفیسر کوامن عامہ برقرار رکھنے کیلئے بھیجاگیا۔یہ آفیسر ہٹلرکی جماعت سے نفرت میں مشہورتھا۔جیسے ہی ہٹلراسٹیج پر پہنچا،اُس نے ایک بھرپورنگاہ ڈیوٹی پرمامور افسر پرڈالی ۔آفیسر بوکھلاگیااوراٹن شن ہوکرسیلوٹ کیا۔اگلے روزوہ نوکری چھوڑ کرنازی کارکنوں میں شامل ہوچکاتھا۔
لوگوں پراپنی شخصیت کا اثر ڈالنے کیلئے ہٹلرنے مصنوعی طریقوں سے کام لیا۔اس مقصد کیلئے لاکھوں پوسٹرتیار کرائے گئے،جن میں اُسے نہایت دلکش شخصیت کوطور پیش کیاگیا۔ایسی بے شمارتصاویربنا کر ملک کے گوشے گوشے میں پھیلادی گئیں جن میں ہٹلر عزم وہمت اورحوصلہ مندی کا پیکرنظرآتاہو۔
جرمن عوام کے ساتھ ہٹلر کے رابطے کادوسراذریعہ اُس کی آوازتھی۔وہ ایک انتھک مقررتھا۔سیاسی ایجی ٹیشن کے زمانے میں ہٹلرنے کئی دفعہ ایک دن میں چار جلسوں سے خطاب کیا۔ہٹلرکی تقریروں کے ریکارڈغور سے سنے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اُن میںنہ تو صحیح زبان استعمال ہوئی ہے اور نہ اُس کی باتوں میں کوئی ربط ہے ۔اس کے باوجود اُس کی تقریروں نے جرمن عوام پر جادو کردیاتھا۔دراصل وہ عوام کی نفسیات کوجانتاتھا۔اُس میں یہ خوبی پائی جاتی تھی کہ وہ یہ سمجھ جاتا تھا کہ سامعین اُس کی زبان سے کیا سنناچاہتے ہیں۔وہ جب بھی بولتاتھا عوام کی نبض پرہاتھ رکھ کر بولتا تھا۔عوام کے مرغوب موضوعات پردل کھول کربولتا۔مثلاًکمیونسٹوں کی فوقیت ختم ہونی چاہیے،یہودیوں کا عالمگیرغلبہ،اتحادی ممالک کی فریب کاری،حکومت کی کمزوری وغیرہ۔
ہٹلرکوایک خاص اندازمیں تیار کیاہوابستر پسندتھا۔نفسیات کی اصطلاح میں اس عادت کو بیڈ کمپلشن کہاجاتا ہے۔سونے سے پہلے وہ اپنے سامنے ایک شخص کوبستربنانے کیلئے کہتا،اپنے اپنے لحاف کوایک خاص طریقے پرتہہ کرکے رکھواتاتھا۔ہٹلرکواپنے ساتھیوں کامذاق اُڑانے اور ان کی نقل اتارنے کی عادت تھی۔اس فن میں اُسے خاصی مہارت حاصل تھی ۔وہ نہ صرف ان کے انداز گفتاربلکہ چال ڈھال وغیرہ کی نقل بھی اتارلیاکرتا تھا۔آگے چل کر اس نے بعض بین الاقوامی شخصیات سرفلپس اور لارڈ چیمبرلین کی بھی اسی طرح مختلف جلسوں میں نقل اُتاری۔
اقتدار پرستی،ظلم تشدد،مسلمہ اداروں اوراقتدار کیخلاف نفرت اورتضحیک کیلئے ہٹلرکاروپ بطور مثال پیش کیاجاتاہے۔اس نے محض چندبرسوںمیں بے پناہ وقت اورعروج حاصل کرلیاتھا۔یہاں تک کہ دنیااس کی دھمکیوں پرکانپنے لگتی اورآخرکار جب دنیاان کی خوفزدہ کرنے والی دھمکیوں سے اُکتاگئی اوریہ تصورکیا کہ وہ مسخرہ ہے،توہٹلر نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ مسخرہ نہیں ہے ،عالمی تاریخ کی انتہائی تباہ کن جنگ شروع کردی اوربالآخر جب وہ دنیا کو فتح کرنے اور اپنے سامنے جھکانے میں ناکام ہوا توحقیقت تسلیم کرنے کے بجائے خودکشی کرلی۔
 

تازہ ترین