تازہ ترین

لیفٹنٹ گورنر کے خوشگوار اعلانات

معیشی پیکیج کیساتھ ساتھ سیاسی پیکیج بھی ضروری

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے ۔ویسے جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔
بہر حال منوج سنہا مسلسل زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے نہ صرف ملاقاتیں کررہے ہیں بلکہ انہوںنے میڈیا کے ساتھ بھی خوشگوار رشتے قائم کرنے کی سعی کے تحت دونوں صوبوں میں میڈیا نمائندوں سے نہ صرف علیحدہ ملاقاتیں کیں بلکہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتوں کے دوران دو بار پریس کانفرنسیں بھی کیں۔پیر کو ہی راج بھون کے آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کم و بیش سبھی مسائل کا ذکر کیا ۔جہاں انہوںنے معاشی مسائل کی بات کی وہیں سیاسی مسائل کو بھی چھیڑا ۔انہوںنے اعتراف کیا کہ جموںوکشمیر کے معاشی مسائل گزشتہ ڈیڑھ سال کے نہیں بلکہ گزشتہ بیس تیس برسوں کے ہیں اور انہیں حل کرکے ہی معیشت کو پٹری پر واپس لایا جاسکتا ہے ۔انہوںنے اس ضمن میں کہا کہ معیشت کے احیاء کیلئے ماہرین کی کمیٹی نے رپورٹ پیش کردی ہے اور آنے والے ہفتہ میں اس ضمن میں ایک معیشی پیکیج کا اعلان کیاجائے گاجو بقول ان کے اپنی نوعیت کا پہلا پیکیج ہوگا۔
لیفٹنٹ گورنر کے اس اعلان کو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بڑے پیمانے پر فی الوقت اس پر بحث ہورہی ہے ۔کچھ لوگوںکا استدلال ہے کہ یہ مالی پیکیج بھی سابقہ پیکیجوں کی طرح ہی ہوگا اور الفاظ کے گورکھ دھندے سے بڑھ کر کچھ نہ ہوگا جبکہ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیںجب ملکی معیشت پوری طرح ڈوب چکی ہے ،ایسے میں جموںوکشمیر کے لئے ایک معیشی پیکیج کااعلان کرنا مشکل ہی نظر آرہا ہے ۔اختلافی استدلال سے قطع نظر اگر واقعی لیفٹنٹ گورنر کے کہنے کے مطابق معیشی پیکیج کا اعلان کیاجاتا ہے تویہ سونے پہ سہاگہ ہوگا کیونکہ جموںوکشمیر کو اس وقت ایک اقتصادی پیکیج کی سخت ضرورت ہے ۔یہاںکی معیشت کے تمام کل پرزے ڈھیلے پڑ چکے ہیں اور عملی طور معیشت کی گاڑی پٹری سے اُتر چکی ہے ۔وہ سارے شعبے ،جو ہماری معیشت کو سہارا دیتے تھے ،لرزہ براندام ہوچکے ہیں ۔سیاحت سے لیکر زراعت وباغبانی اور دستکاری تک سبھی شعبے عملی طور خسارے سے دوچار ہیں ۔سروسز سیکٹر کا حال بے حال ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ غیر منظم سیکٹر تہس نہس ہوچکا ہے۔اس صورتحال میں کسی معیشی پیکیج کا اعلان ہوا کے اُن خوشگوار جھونکوں کی طرح ہی آئے گا جو تپتے ریگزار میں لوگوں کی راحت و فراوانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں تاہم یہ معیشی پیکیج روایتی نہیںہونا چاہئے ۔چونکہ لیفٹنٹ گورنر کہتے ہیںکہ ایسا معیشی پیکیج جموںوکشمیر نے کبھی دیکھا نہیں ہوگا تو اُن کی باتوں کا بھروسہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ وہ معاملات سے واقف اور معلومات تک رسائی رکھتے ہیں۔
معیشی پیکیج کی طرح ہی سیاسی پیکیج کی بھی ضرورت ہے ۔بلا شبہ منوج سنہا خلیج پاٹنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ خلیج اُس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی ہے جب تک نہ عوام میں اعتماد پیدا ہو۔اس ضمن میں اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں۔اولین فرصت میں یہاں حقیقی معنوںمیں جمہوری فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اختلافی مؤقف رکھنے والوں کی زباں بندی نہ ہو۔اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور اگر اختلافی آوازوں کو ہی کچلا جائے تو جمہوریت بے روح رہ جاتی ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ لیفٹنٹ گورنر فوری طور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کریں گے اور اُن تمام لوگوں کو جیلوں سے آزاد کرائیں گے جو حکومت کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ بلاشبہ امن و قانون کی صورتحال بنائے رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم پُر امن ماحول میں اختلافی مؤقف رکھنے والوں کواپنی بات کہنے کا موقعہ فراہم کیاجانا چاہئے ۔
لیفٹنٹ گورنر چونکہ خود سیاسی بصیرت رکھتے ہیں ،تو اُن سے یہی اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ سیاسی جمود ختم کرنے کیلئے سیاسی میدان کے سبھی کھلاڑیوں کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے میں معاونت کریں گے کیونکہ جب سیاسی سرگرمیاں بحال ہونگیںتو جمہوریت کی بحالی میں پھر زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔